قرآن کےگیارھویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے
Parah # 11
Dawrah e Qur’an2021
Scholar Nighat Hashmi
ہم نكات پاره#11
موضوعات:*
1- منافقين مدینہ كى نفسياتى اور عملى تصوير كشى
2- اسلامى معاشرے کے مختلف طبقات کے خدوخال اور سرگرمیاں
3- جنت كا سودا
4- تحریک جہاد كا دائمى منصوبہ
گیارہویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے ریاست مدینہ کے باشندوں کو categorise کیا ہے۔۔
عذر کرنے والے بدوی منافق
بدوی مومن
سابقون الاولون
مخلوط اعمال والے
مشکوک معاملے والے
مسجد ضرار بنانے والے
السابقون الاولون سے مراد مہاجرین وانصار ہیں۔۔
السابقون الاولین میں شامل ہونے کے لیے یا تو مہاجرین کی سطح پر جینا ہے یا انصار کی۔۔ ان شاء اللہ
سچوں کا ساتھ دیں
صحبتوں اور ملاقاتوں کے لیے نیک لوگوں کو چنیں۔۔حق کا ساتھ دیں
دینی تعلیم کا لائحہ عمل
سارے لوگ بیک وقت نہیں نکلیں گے تعلیم حاصل کرنے کے لیے۔۔ ہر علاقے کے کچھ لوگ تعلیم حاصل کریں اور اپنے علاقے کے باشندوں کو پھر تعلیم دیں۔۔
آزمائش کیوں آتی ہے؟
آزمائش اس لیے آتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی باتوں کو گہرائی سے سوچ سکے۔۔
حقیقت وحی کے بارے میں شبہات اور انکا رد
منکرین نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جادوگر ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔۔
- منافقین کا عذر قابل قبول نہیں کیونکہ ان کے پاس جہاد میں شرکت نہ کرنے کے صرف بہانے ہیں۔ حقیقی عذر نہیں ۔*
- تقریبا 82 افراد کے بارے میں ناموں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوخبر دی گئی کہ یہ پکے مومن ہیں۔*
- مسجد صرف ﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے بنانا تا کہ اجر ملے۔ اخلاص کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں۔*
- جان ومال سے ﷲ تعالیٰ کی راہ میں قتال کا بدلہ جنت ہے۔*
- خاص مومن توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، ﷲ تعالیٰ کی تعریف کرنے والے، روزہ رکھنے والے، سیاحت کرنے والے، رکوع و سجود کرنے والے، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والے، حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں۔*
- 3 صحابہ کے سستی دکھانے پر معاشرتی بائیکاٹ کی شکل میں ﷲ تعالیٰ کی گرفت ہوئی، 50 دن بعد توبہ قبول ہوئی۔ فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرنی۔ نیکی کا جو موقع ملے سستی کر کے نہیں گنوانا۔*
- علم دین کی خدمت کے لئے بھی کچھ لوگوں کو نکلنا ہے۔ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنا اور اپنے علاقوں میں جا کر لوگوں کو برے کاموں سے بچانے کی کوشش کرنا اور ﷲ تعالیٰ سے ڈرنے کی تعلیم دینا ہے ۔*
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تڑپ مومنوں کے لئے ان کی تکلیف پر دکھی، ہدایت کے لئے حریص اور شفیق و مہربان تھے۔
- ﷲ تعالیٰ پر بھروسے کے لئے دعا ۔۔ حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم ۔*
- ﷲ تعالیٰ کے ہاں ایسے کسی سفارشی کا وجود نہیں جسے نفع ونقصان کا مالک سمجھ کر دعایئں کی جاتی ہیں۔*
- قرآن کا علم اور اس پر عمل مومنین کے لئے تمام بیماریوں سے شفاء ہے۔ اس لئے کتاب اللہ سے علاج کرنا ہے -*
- قرآن کا ملنا ﷲ تعالیٰ کا فضل، رحمت اور ہر نعمت سے بہتر ھے اس لئے اس پر خوش ہونا ہے۔*
- اولیاء اللہ.. ﷲ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے، خوف وغم سے بے نیاز لوگ ہوتے ہیں۔*
- جادو قرآن کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ قرآن حق اور جادو باطل ہے۔*
- فرعون کے بدن کو بچا کر بعد میں آنے والوں کے لئے عبرت کی مثال بنا دیا گیا۔*
- خالص ہو کر ﷲ تعالیٰ کی عبادت پر جمے رہنا اور دین میں شک کرنے والوں کی پرواہ نہ کرنا۔*
- ﷲ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتا اس لئے کسی اور سے دعا نہ کرنا۔*
- استغفار کے فوائد ، گناھوں کی معافی، رزق کی فراوانی اور فضل کا ملنا ہے۔*
- مقصد زندگى:*
1- ﷲ تعالیٰ اور آخرت پر ايمان لانا ، تقوى اور ﷲ تعالیٰ كى رضا پر زندگى كى بنیاد ركهنا
2- جنت كا سودا كرنا ، دوسروں كى بهلائى كا حريص ہونا ، مومنوں پر شفقت اور مہربانی كرنا
3- ﷲ كى آيات كا علم حاصل كرنا ، وحى كى پيروى كرنا
4- رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ايمان لانا ، ﷲ تعالیٰ سے ڈر كر رہنا
5- ﷲ تعالیٰ كى آيات کے ساتھ نصيحت كرنا ، يک سو ہو كر اپنے آپ كو دين پر قائم كرنا، ﷲ تعالیٰ کے سوا كسى كى عبادت نہ كرنا
- ہم كيا کریں؟*
1- ﷲ تعالیٰ كى راه میں وقت صلاحیتوں اور مال كو خرچ كرنا ہے اور اسے ﷲ تعالیٰ كى قربت كا ذریعہ سمجھنا ہے
2- جنت كے بدلے اپنا مال اور اپنى زندگی ﷲ تعالیٰ کے حوالے كرنى ہے
3- قرآن حكيم كو ﷲ تعالیٰ كى كتاب سمجھتے ہوئے اس كا كام كرنا ہے، ﷲ ہى كو نفع اور نقصان كا مالک سمجھنا ہے
( ان شاء ﷲ)
قرآن کے گیارھویں پارے کے اہم نکات سے جو سیکھا اس پر عمل کیجیے۔کیونکہ قرآن جنت کا وعدہ ایل عمل سے کرتا ہے صرف اہل علم سے نہیں۔عمل کیجیے ۔عمل سے زندگی بنتی ہء جنت بھی جہنم بھی۔۔۔