مقصد زندگی اور مائنڈ سائنسز
یہ تو ہمیں پتا ہی ہے کہ نیکی کے کام میں بھلائی اور برے کاموں میں برائی لیکن اس کے باوجود انسان سے گناہ ہوتے ہیں غلط کام ہوتے ہیں۔ ہر کوئی صرف یہ کہتا ہے کہ غلط کام نہیں کرو نماز پڑھو مگر کیسے یہ نہ کوئی بتاتا ہے نہ ہم خود توجہ دیتے ہیں۔ ہر چیز سیکھنی پڑتی ہے اس لئے آج یہ چند چیزیں یاد کرلیں اور سیکھ لیں کہ ہمیں خود کو برائی سے کیسے بچانا ہے اور نیک کاموں کی طرف کیسے راغب ہونا ہے۔
اپنے اعضا کو گناہ سے روکیں
اب یہ سوال کہ اعضا کو گناہ سے کیسے روکیں۔ جیسے آپ کی زبان اہم اعضا ہے ا سے بہت سے گناہ ہوتے ہیں۔ گالی دینا ، دوسروں کو زبان سے تکلیف دینا بڑوں کی نافرمانی بہت ایسے کام اور باقی اعضا سے بھی ہوں تو اپ تیس دن کے لئے خود کو اس کا پابند کریں ایک شیٹ بنائیں جس دن گناہ ہو کٹ کا نشان لگائیں جس دن نہ ہو درست کا نشان لگائیں۔ اس سے آپ خود کا جائزہ لیں گے اور گناہ روکنے میں آسانی ہوگی۔
دل صاف کرنا
یہ تو بظاہر گناہ روک لیا مگر دل کیسے صاف ہوگا کہ تمام گناہ سے پاک ہوجائے تو اس کے لئے اللہ سے معافی مانگنا روز مراقبہ کرنا چاہئے۔ دل میں اللہ کا نام تصور کر کے اسے پکاریں معافی مانگیں۔ ا ور شکوہ کبھی نہ کریں بلکہ اس کی نعمتوں اور اپنے گناہ یاد کر کے شرمندہ ہون اس سے آپ کا دل گناہوں سے پاک صاف ہوگا۔?
زندگی کے مقصد میں کامیابی کیسے حاصل کریں؟۔
یہ تو ہمیں پتا ہی ہے کہ نیکی کے کام میں بھلائی اور برے کاموں میں برائی لیکن اس کے باوجود انسان سے گناہ ہوتے ہیں غلط کام ہوتے ہیں۔ ہر کوئی صرف یہ کہتا ہے کہ غلط کام نہیں کرو نماز پڑھو مگر کیسے یہ نہ کوئی بتاتا ہے نہ ہم خود توجہ دیتے ہیں۔ ہر چیز سیکھنی پڑتی ہے اس لئے آج یہ چند چیزیں یاد کرلیں اور سیکھ لیں کہ ہمیں خود کو برائی سے کیسے بچانا ہے اور نیک کاموں کی طرف کیسے راغب ہونا ہے۔
چار بنیادی چیزوں پر عمل کرنا
اللہ نے ہمیں یہ چیزیں امانت کے طو ر پردی ہے جیسے جسم ، دماغ ، دل اور نفس ان چاروں کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ اور اگر ہم ان چار چیزوں پر عمل کریں گے تو ہم ان چیزوں کی حفاظت با آسانی کرسکتے ہیں۔ پہلا اللہ کے حکم کی ترجیح: اگر ہم اللہ کے حکم کو ترجیح اپنی زندگی اللہ کی مر ضی کے مطابق گزاریں گے تو غلط کام خود بخود ہم سے دور رہیں گے۔
دوسرا سنت نبوی پہلے ہمیں قرآن میں دیکھنا ہے کہ اللہ کیا فرماتا ہے پھر نبی کی سنت دیکھنی ہے ان کی زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے کیونکہ نبی کی زندگی اللہ اور قرآن کے مطابق ہے۔ تیسرا مخلوق سے اخلاق کے ساتھ پیش آنا کیونکہ اللہ بھی اس وقت تک معاف نہین کرتا جب تک بندہ نہ کرے۔ اللہ اور نبی کے بعد اس کے مخلوق کے ساتھ شفقت کے ساتھ صحیح رویہ اپنانا ہے۔ پھر اللہ کی حضوری جس طرح اللہ کا حکم ہے ویسے ہی رہنا اس کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرنا۔
اپنے اعضا کو گناہ سے روکیں
اب یہ سوال کہ اعضا کو گناہ سے کیسے روکیں۔ جیسے آپ کی زبان اہم اعضا ہے ا سے بہت سے گناہ ہوتے ہیں۔ گالی دینا ، دوسروں کو زبان سے تکلیف دینا بڑوں کی نافرمانی بہت ایسے کام اور باقی اعضا سے بھی ہوں تو اپ تیس دن کے لئے خود کو اس کا پابند کریں ایک شیٹ بنائیں جس دن گناہ ہو کٹ کا نشان لگائیں جس دن نہ ہو درست کا نشان لگائیں۔ اس سے آپ خود کا جائزہ لیں گے اور گناہ روکنے میں آسانی ہوگی۔
دل صاف کرنا
یہ تو بظاہر گناہ روک لیا مگر دل کیسے صاف ہوگا کہ تمام گناہ سے پاک ہوجائے تو اس کے لئے اللہ سے معافی مانگنا روز مراقبہ کرنا چاہئے۔ دل میں اللہ کا نام تصور کر کے اسے پکاریں معافی مانگیں۔ ا ور شکوہ کبھی نہ کریں بلکہ اس کی نعمتوں اور اپنے گناہ یاد کر کے شرمندہوں اس سے آپ کا دل گناہوں سے پاک صاف ہوگا۔ او صرف اللہ کا نام تصور میں ہو باقی خیالات ذہن سے نکال دیں۔
یہ کام آپ کو مکمل تیس دن کرنا ہے کیونکہ نفسیات بھی کہتی ہے کسی کام کو مسلسل کیا جائے تو اس کی عادت ہوجاتی ہے اور اس بات کا اثر ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کو مسلسل عادت بنائیں۔ تیس دن کی شیٹ بنائیں اگر کسی دن کوئی غلط کام ہوجائے تو کٹ کا نشان لگا کر دوبارہ سے اس تاریخ سے شروع کریں پھر تیس دن تک اس طرح عادت بنے گی۔ جہاں کروس آئے دوبارہ سے اس کو شروع کریں۔
ذکر کا طریقہ
یہ تو بتادیا کہ اللہ کے ذکر سے دل صاف ہوتا ہے مگر ذکر کا طریقہ کیا ہے۔ ذکر کرتے وقت سب سے پہلے تو اپنا وقت متعین کرلیں کہ ذکر کا وقت آدھی رات کا ہو کیونکہ اس وقت جب سو کر اٹھتے ہیں آپ کا ذہن بند ہوتا ہے اس وقت کوئی خیال نہیں ہوتا اور جب اللہ کو یاد کرتے ہیں تو صرف وہی خیال میں آتا ہے۔ اس کے بعد صرف اللہ کے نام اور اسی کو تصورمیں لا کر لآ الہ اللہ پڑھنا چاہئے۔
جب لا پڑھیں تو تصور میں ہو کہ آپ کے پیٹ سے تمام گندگی نکل رہی ہے۔اور اللہ کا نام آپ کے جسم میں داخل ہورہا ہے۔ اللہ ادا کرتے وقت یہ سوچیں کہ آپ کے دل میں صرف اللہ کا نام ہے اس طرح کہ اللہ کے نام سے آپ کے دل میں روشنی بھر جائے۔
خیال رہے سب سے پہلے اپنا جسم صاف کرنا ہے۔ پھر اپنا دماغ پھر دل اور پھر روح کی صفائی کرنی ہے جس کے بعد آپ تمام گناہ سے بچ سکتے ہیں اور نیکی کی طرف راغب ہونگے۔
اورصرف اللہ کا نام تصور میں ہو باقی خیالات ذہن سے نکال دیں۔
خیال رہے سب سے پہلے اپنا جسم صاف کرنا ہے۔ پھر اپنا دماغ پھر دل اور پھر روح کی صفائی کرنی ہے جس کے بعد آپ تمام گناہ سے بچ سکتے ہیں اور نیکی کی طرف راغب ہونگے۔