587

نیلم شہزادی حاضر ہے

تحریر شئیر کریں

س :آپ اپنا مختصر تعارف کروا دیں(۔تعلیم،پیشہ،کامیابیاں ،شوق)
میرا نام نیلم شہزادی ہے – میرے ہمسفر کا نام قیصر شہزاد ہے اور ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہوں – میں نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے اور ایم فل کا بھی ارداہ ہے – میں بہت مقدس پیشے سے وابستہ ہوں – تجویدکے ساتھ قرآن پاک پڑھاتی ہوں اور پرائیویٹ سکول میں جاب کر رہی ہوں-
زندگی میں کامیابیاں بھی پائیں اور ناکامی بھی دیکھی- مگر ناکامی نے نئے سرے سے حوصلے جوان کیے- مجھے اعلی تعلیم کا شوق تھا- پروفیسر بننا چاہتی تھی اور رائٹر بھی- الحمد للہ لکھنے کا شوق پورا ہو رہا ہے – اور ماسٹرز بھی کر لیا ہے – تعلیمی سلسلہ جاری رکھوں گی. ان شاءاللہ. ..!
س:لکھنے کی طرف کیسے آئیں ؟ پہلی کہانی چودہ برس کی عمر میں لکھی تھی – کوئی چیز تھی ایسی جو مجھے اندر سے ابھارتی تھی- بہت شوق تھا لکھنے کا، اپنا نام پیدا کرنے کا- پہلے ڈائری لکھتی تھی پھر ناولز پہ تبصرے لکھنے شروع کیے اور پھر کہانیاں لکھنے لگی-
س:ان کتابوں ان شخصیات کے نام جنہوں نے آپ کو متاثر کیا؟ میری پہلی پسند پیار کا پہلا شہر ( مستنصر حسین تارڑ) ہے – قصص النبیین، سفید گلاب ( محمود ظفر اقبال ہاشمی ) ، آنگن، آخری چٹان اور بھی بہت سی کتب پسند ہیں – شخصیات میں بے نظیر بھٹو، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ،اپنے اساتذہ کرام ، علامہ اقبال اور قائد اعظم ہیں –
س:آپ کی تحریر کی نمایاں خوبی برجستگی اور روانی ہے آپ اپنی تحریرکو نکھارنے کے لیئے کس چیز سے مدد لیتی ہیں؟ میرے خیال میں لکھنا تحفہ ء خداوندی ہے- لیکن اس ہنر کو تراشنا بھی بہت ضروری ہے جس کے لیے گہرے مطالعے، عمیق مشاہدے اور لگن کا ہونا از حد ضروری ہے –
س:کیا آپ باقاعدہ سوچ کے لکھتی ہیں یا پھر کہانی آپ کو لے کے چلتی ہیں؟
چلتے پھرتے کہانیاں میرے زہن میں کلبلاتی رہتی ہیں- بہت سے کردار مجھے لکھنے پہ اکساتے ہیں – بہترین کہانی اپنے مصنف کو خود لے کر چلتی ہے اور وہی جاندارتحریر ہوتی ہے جو مصنف کی انگلی تھام کر چلتی ہے – لیکن کسی بھی کہانی کا پلاٹ سوچ بچار کے ساتھ ہی مضبوط ہو سکتا ہے –
س:آپ کے فیورٹ رائٹر کے نام؟
مستنصر حسین تارڑ، سائرہ رضا، عمیرہ احمد، محمود ظصر اقبال ہاشمی، نسیم حجازی اور اشفاق احمد-

س:زندگی میں کس چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے؟
وہی جس کا نعم البدل نہیں – ماں کی اور ماں کے پیار کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے – ( اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے )-

س:کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ہمارے ہاں بامقصدادب تخلیق نہیں ہو رہا اگر ہا ں تو کیوں؟
ایسی بات نہیں .. عصر حاضر کے بہت سے اچھے نام ہیں جو اپنے قلم کے ذریعے محبت اور مقصد یت کو فرض عین سمجھ کر پھیلا رہے ہیں –
لکھنا ایک فرض ہے ایک ذمہ داری ہے جس کو بہت سے مصنفین بھولے نہیں جیسے: عمیرہ احمد ( مقصدیت سے بھرپور لکھتی ہیں ) ، نمرہ احمد ( قرآن کریم کی اہمیت لکھتی ہیں ) ، فرحت اشتیاق( ان سے بڑھ کر محبت کون لکھ سکتا ہے بھلا)، محمود ظفر اقبال ہاشمی ( محبت، سمجھ داری، نرمی ، مساوات اورحب الوطنی سے بھرپور جذبات پیش کرتے ہیں ) –
س:کیا آپ اپنے لکھے ہوئے سے مطمئن ہیں۔؟
ہر تحریر پہ دل بہت خوش ہوتا ہے مگر جیسے ہی وہ منظر عام پہ آتی ہے اک نئ کسک جاگ جاتی ہے – میں تو ابھی سیکھنے کے مراحل میں ہوں – بلکہ مجھے تو ابھی کچھ لکھنے ہی نہیں آتا – بس چند لفظوں کو جوڑ لیتی ہوں –

مطالعہ ، مطالعہ اور مطالعہ – جیسے ہی ہم مطالعہ کرنا ترک کرتے ہیں ہمارا قلم رک جاتا ہے ہماری سوچ محدود ہونے لگتی ہے – لہذا مطالعہ جاری رکھیں اور مشاہدے کی عادت ڈالیں – اور خوش رہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں