500

The First 20 Miutes …

تحریر شئیر کریں

ایک ایسی کتاب جسے پڑھ کر کچھ بھی سیکھنا اب بهت آسان

The first 20 hours by Josh koufman
یہ کتاب ان لوگوں کے لیے کسی نعمت سے کم نهیں جو کچھ سیکھنا تو چاهتے هیں مگر وقت کی کمی سے سیکھ نهیں پاتے۔کچھ لوگ سیکھنا بھی چاہتے ہیں مگر مھارت حاصل نهیں کر پاتے۔اس کتاب میں بتایا گیا هے که کیسے آپ کسی بهی کام میں ماهر هو سکتے هیں۔جوش کوف مین کہتا ہے کہ کسی بھی چیز میں ماہر ہونے کا جو پرانا فارمولا هے نا که دس هزار گھنٹے اس کام کو دیے جائیں اب یه اتنا کارگر نهیں رها۔۔کیونکہ دس ہزار گھنٹوں کا مطلب هے پانچ سا ل تک کسی کام کو مسلسل کرنا۔۔اور اتنا وقت کسی کے پاس ہو بھی پر ہمت نہیں هوتی۔۔لهذا اس فلسفے سے فورا باهر نکل آئیے۔
سب سے پہلی بات جو مصنف لکھتا هے وه یه که آپ جو بھی مهارت اور سکل سیکھنا چاهتے هیں وه صرف پہلے بیس گھنٹوں میں کافی حد تک سیکھ سکتے هیں۔اس کے لیے آپ کو روزانه چالیس منٹ دینا هوں گے ۔۔بیس منٹ صبح اور بیس منٹ رات سونے سے پهلے۔۔اور تیس دنوں میں پورے بیس گھنٹے مکمل هو جائیں گے۔وہ لکھتا ہے کہ صبح اور رات کا وقت بهت اهم هوتا هے کیونکه رات کو جو کچھ یاد کیا جاتا هے وه سوتے وقت اچھی طرح دماغ میں ضم هو جاتا هے۔اور صبح کے وقت دماغ فریش هوتا هے ۔دماغ میں چیزیں جلدی کاپی پیسٹ هو جاتیں هیں۔
The first 20 hours
کا مصنف لکھتا هے که کوئی بھی سکل سیکھنے سے پہلے یہ فیصله کر لو که مجھے یه کام یا مهارت کیوں سیکھنی اور کس حدتک سیکھنی هے یعنی کس حد تک ماهر هونا هے۔جب دماغ کلیر هوگا تو سیکھنا زیاده آساں هو گا۔
دوسرا جو بھی سیکھنا ہے اسکے لیے پریکٹیس بهت ضروری هے۔اور وہ لکھتا ہے کہ ریسرچ ایک حد تک ٹھیک هے مگر پریکٹس هی اصل چیز ہے۔اس بات کو سمجھانے کے لیے وہ مثالیں بھی دیتا هے۔
تیسرے نمبر پہ وہ کہتا ہے کہ جب یہ طے ہوگیا کہ فلاں مهارت سیکھنی هے اب اس حوالے سے جو بھی رکاوٹیں آئیں گیں ان کو بھی سمجھنا هوگاتاکه ان پر قابو پانے کے لیے بھی لائحه عمل تیار کرنا کیا جا سکے۔
اگر آپ اس کتاب کو اپنے عمل کا حصه بنانا چاهتے هیں تو پهر کچھ بھی سیکھنا کبھی بھی مشکل نهیں هو گا۔جاوید چودھری لکھتا ہے کہ ہر روز کچھ نیا سیکھو۔۔۔جو لوگ سیکھتے ہیں دراصل وهی لوگ فاتح بنتے هیں۔کامیابیاں انکے قدم چومتی هیں اور بهاریں انھیںں اچھےمستقبل کی نوید سناتیں هیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں