امکانات کی دنیا
سن دو ہزار میں روزامونڈ اسٹون زینڈر، لیڈرشپ کوچ اور بنجامین زینڈر نے مل کر ایک کتاب لکھی جو میوزکل ڈائریکٹر ہیں اس کتاب کا نام Art of possibility” ہے۔ اس کتاب میں اس خوب صورت انداز میں بتایا گیا کہ ہمیں نا امیدی اور مایوس ہونے کے بجائے آگے نظر رکھنا چاہئے۔
ہر چیز کو دیکھنے کا نظریہ مختلف ہونا چاہئے۔ اور ہم کس طرح اپنے مسائل سے نکل سکتے ہیں۔ راستے بند نظر آرہے ہوں مگر پھر بھی راستی تلاش کرلینا ایک فن ہے۔ وہ انسان ہی ترقی کر پاتا ہے جس نے اپنی سو کو وسیع کیا مگر نا امیدی اور مایوسی میں گھرے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو پاتے۔
مختلف نظریہ پر نظر رکھیں
کبھی آپ نے غور کیا ہے دور سے کوئی چیز ہمیں کچھ اور نظر آرہی ہوتی ہے قریب سے اس کی صحیح شکل سامنے ہوتی ہے۔آپ بلڈنگ کے فرسٹ فلور سے نیچے دیکھتے ہیں تو منظر کچھ اور ہوتا ہے مگر وہی منظر آپ بلڈنگ کے بیس فلور سے دیکھیں گے تو آپ کو منظر مخلتف نظر آئے گا۔ اس طرح ایک چیز جو سامنے سے کچھ اور نظر آرہی ہے آپ اسے مختل زاویے سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ ایک نظریے سے اپنی ناکامی دیکھ رہے ہیں تو امکانات پر نظر رکھیں ہوسکتا ہے اس میں بھی کچھ اچھا چھپا ہو۔
نا امید نہ ہوں
اکثر ہم شرائط کے ساتھ زندگی گزار لیتے ہیں یہ کروگے تو کامیاب ہوگے یہ نہیں کروگے تو ناکام ہوگے۔ ان شرائط میں گرا انسان اس حدود سے باہر نہیں نکل پاتا۔ آپ ایسا نہ کریں اپنے دل کو کھلا چھوڑ دیں ۔ نا امیدی کو دل سے نہ لگائیں بس امکانات کو دیکیں۔ آپ کے لئے کیا ٹھیک ہے اپنے دل سے پوچھیں کیا چیز آپ کو مایوس کرتی ہے خود سے پوچھیں اس مایوسی اور نا امیدی کو دور کر کے امکانات کو دیکھنے کی کوشش کریں۔
حالات سے باہر کی چیزوں کو سوچنا چھوڑ دیں
زندگی میں ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن پر آپ کا اختیار ہے مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر آپ کا اختیار نہیں آپ کچھ نہیں کرسکتے تو ان چیزوں پر خود کی انرجی ضائع نہ کریں۔ ان چیزوں کو سوچنا چھوڑ دیں جو آپ کے بس میں نہیں ہیں۔ حالات کو قبول کرنا سیکھیں۔ دوسرا راستہ تلاش کریں آپ کا مقصد بس کامیابی ہو۔
آپ کا جذبہ آپ کو کامیاب کرسکتا ہے اس لئے بس امکانات کو دیکھیں اس پر نظر رکھیں۔ صرف اپنے بارے میں نہیں بلکہ اپنے ملک اور معاشرے کے بارے میں بھی سوچیں اپنی سوچ وسیع کریں تب ہی آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔
امکانات کی دنیا