313

انسانی رویے

تحریر شئیر کریں

انسانی رویے

تحریر: آمنہ راجپوت

کہتے ہیں کہ اچھا سلوک اور پیار بھرے رویے اپنی مثال آپ رکھتے ہیں ان کی کوئی بھی زبان نہیں ہوتی، اس کو ہر انسان سمجھ سکتا، چاہے وہ آنکھوں سے اندھے ہو یا بہرے ہو سب اس زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔


محبت آمیز نرم رویے کو جاندار اشیاء بھی محسوس کرتے ہیں، اس کی مثال آپ اپنے گھر میں رکھے جانور سے کر سکتے ہیں، اس کو پیار کی تھپکی دے خیال رکھیں تو وہ محبت کا جواب جھوم کے دیتے ہیں ، کتا اور بلی دونوں ایسے جاندار ہیں جن کو تھوڑا سا پیار کی تھپکی کی ضرورت ہوتی وہ آپ کے پیچھے پیچھے ہو جاتے ہیں۔


نرم اور محبت بھرے رویے کا اثر ہمارے بچوں پر بھی گہرا اثر چھوڑتا ہے، اور ان کی کارکردگی کو حیران کن انداز میں اثر کرتا ہے, اگر ہم تھوڑا سا پیار اور نرم لہجے میں بچے کو سمجھاتے ہیں تو اس کے مقابلے میں مار پیٹ کرنے کے بجائے وہ زیادہ پیار کی زبان کو سمجھ لیتا ہے، اسی لیے پیار بھرا رویہ بہت اہمیت کا حامل ہے،


اور ایک طرف دنیا کا سب سے آسان کام کسی کے بارے میں اپنی رائے دینا اس کی بلاوجہ مخالفت کرنا، طنز کرنا یہ عادت روز کا معمول بن گئی ہے، باتوں باتوں میں دوسرے کو برے الفاظوں سے پکارنا، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انسان کے دل میں کتنی بغض ہے، دل میں کتنا تکبر اور انا پرستی کا پودا تناور ہو جاتا ہے، وہ دوسرے لوگوں کو اپنے سے کم تر سمجھنے لگتےہیں،

اپنی انا پرستی میں بہت لوگوں سے زیادتی کر جاتے ہیں، ایسے لوگ اپنے آفس اور محلے میں اپنے رویے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں,


نرم اور مہربان رویہ معاشرے میں اصلاح کا ضامن ہے، اس کے برعکس تلخ اور طنز آمیز رویہ دوسروں کے ساتھ تعلقات میں خرابی کا باعث بنتا ہے، یہ اچھے رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتا ہے، اس لئے محبت آمیز رویہ ہی سب پہ فوقیت رکھتا ہے،


انسانی رویے ہی معاشرے میں ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں، جو کہ بگاڑنےاور سنوارنے کا ذریعہ بنتے ہیں, روئے ہیں انسانوں کو دوسرے انسانوں سے ممتاز کرتے ہیں، مہربان اور حساس دل رکھنے والے لوگ جلدی انسانی رویوں کو محسوس کر لیتے ہیں، اور اس کا اثر بھی لیتے ہیں، اچھے اور برے رویے انسانی زندگیوں پر اثر چھوڑتے ہیں۔
محبت سے بھرا نرم رویہ ہی انسانوں کو اپنانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “انسانی رویے”

تبصرے بند ہیں