98

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی پہلا باب

تحریر شئیر کریں

یہ

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی
باب اول: ‘موضوع کا تعارف

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی chap 1

1. علامہ اقبال آفاقی مفکر

حکیم الامت علامہ محمد اقبال محض برصغیر کے ایک شاعر یا سیاستدان نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے ہمہ گیر مفکر تھے جن کی فکر نے مشرق اور مغرب کے درمیان حائل فکری خلیج کو پاٹنے کا کام کیا۔ اقبال کی شخصیت کا سحر صرف اردو یا فارسی دان طبقے تک محدود نہیں، بلکہ جرمنی کے فلسفے سے لے کر برطانیہ کی درسگاہوں تک ان کے افکار کی گونج سنائی دیتی ہے۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں ‘انسانِ کامل’ اور ‘خودی’ کا تصور پیش کیا جب دنیا مادیت اور استعمار کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔
دنیا بھر کے بڑے بڑے مستشرقین اور فلاسفہ اقبال کے گرویدہ رہے۔ ان کی آفاقیت کا اعتراف کرتے ہوئے مشہور جرمن مفکر اور مستشرق این میری شمل اپنی معرکہ آراء کتاب ‘Gabriel’s Wing’ میں رقمطراز ہیں:

“اقبال وہ مفکر ہیں جنہوں نے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل تعمیر کیا اور مادی ترقی کے اس پرہول دور میں انسان کو اس کی اصل روحانی اہمیت کا احساس دلایا۔ وہ ایک ایسے صوفی تھے جن کی آنکھیں جدید سائنس پر بھی گہری نظر رکھتی تھیں۔”

اقبال کا خاصہ یہ تھا کہ وہ علم کی کسی بھی نئی شاخ سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے، بلکہ اسے اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے۔ ان کی نظر میں کائنات کی ہر چیز مسخر ہونے کے لیے ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جو ہمیں آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت (AI) کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

2. مصنوعی ذہانت (AI): عقل کا آخری معجزہ اور ڈیجیٹل دور

آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اسے ‘چوتھا صنعتی انقلاب’ کہا جاتا ہے، جس کا مرکز مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ہے۔ AI محض ایک کمپیوٹر پروگرام نہیں بلکہ انسانی عقل کی وہ انتہا ہے جہاں انسان نے اپنی سوچنے اور فیصلہ کرنے کی طاقت کو ایک بے جان مشین (Silicon Chip) میں منتقل کر دیا ہے۔ آج مشینیں خود سیکھ رہی ہیں (Machine

Learning)، خود فیصلے کر رہی ہیں اور یہاں تک کہ انسانی جذبات کی عکاسی بھی کر رہی ہیں۔
اس مادی معجزے نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہاں انسانی شعور پر سوالیہ نشان بھی لگا دیا ہے۔ جدید دور کے ممتاز مفکر اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر (Henry Kissinger) اپنی حالیہ کتاب ‘The Age of AI’ میں خبردار کرتے ہیں:

> “مصنوعی ذہانت انسانی شعور کی تاریخ میں ایک ایسا خطرناک موڑ ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ اب انسان ہونے کا حقیقی مطلب کیا رہ گیا ہے؟ کیا ہم اپنی عقل کے مالک خود ہیں یا ہم کسی الگورتھم کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں؟”

مغرب کی نظر میں AI انسانیت کی نجات ہے، لیکن اقبال کی نظر سے دیکھیں تو یہ صرف ‘عقلِ عیار’ کا ایک نیا اور زیادہ طاقتور روپ ہے جو انسان کو مادی سہولت تو دیتا ہے مگر اس کی روح کو مفلوج کر دیتا ہے۔

3. دلِ بیدار اور مشینوں کی حکومت: اقبال کی پیشن گوئی

اقبال نے ایک صدی پہلے ان مشینوں کی حکومت کے بارے میں خبردار کر دیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر ٹیکنالوجی انسانی احساسات اور اخلاقیات سے عاری ہو جائے تو وہ انسانیت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ انہوں نے بڑے دکھ سے فرمایا تھا:

دل کے لیے موت ہے مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

یہ شعر آج کے دور پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ آج ہم اسکرینوں کے غلام بن چکے ہیں۔ ‘احساسِ مروت’ (انسانی ہمدردی) کی جگہ ‘نوٹیفیکیشنز’ اور ‘لائیکس’ نے لے لی ہے۔ آلات ہمیں سہولت تو دے رہے ہیں، مگر ہمارے دلوں کو بنجر بنا رہے ہیں۔ AI ہماری ضروریات تو پوری کر سکتا ہے، مگر وہ کسی تڑپنے والے دل کا دکھ نہیں بانٹ سکتا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقبال ہمیں عقل کی حدیں بتاتے ہیں:

> گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
> چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے

اقبال کے نزدیک AI (عقل) صرف ایک چراغ ہے جو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر منزل تک پہنچنے کے لیے ‘عشق’ اور ‘وجدان’ کی ضرورت ہے، جو صرف انسان کے پاس ہے۔

4. عقلِ عیار بمقابلہ عشقِ ایمانی

AI اور فکرِ اقبال کے درمیان موازنہ ہمیں تین بڑے فرق دکھاتا ہے:
* ڈیٹا بمقابلہ دردِ دل: AI صرف اعداد و شمار پر چلتا ہے، جبکہ اقبال کا مومن ‘دردِ دل’ سے جیتا ہے۔
* اطاعت بمقابلہ تخلیق: مشین صرف دیے گئے حکم کی تعمیل کرتی ہے، جبکہ انسان ‘خالقِ کائنات’ کا نائب ہے اور نئی دنیا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
* مادی نفع بمقابلہ اخروی کامیابی: AI کا مقصد صرف ‘دنیاوی نفع’ ہے، جبکہ اقبال کی فکر کا محور ‘آخرت کی سرخروئی’ ہے۔

5. دونوں کا ملاپ: تسخیرِ کائنات کا قرآنی تصور

اقبال ٹیکنالوجی کے دشمن نہیں تھے، بلکہ وہ اس کے غلط استعمال کے خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان جدید علم سیکھے مگر اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے۔
علامہ اقبال اپنی مشہور کتاب ‘The Reconstruction of Religious Thought in Islam’ میں لکھتے ہیں:

“کائنات کی قوتوں کو مسخر کرنا انسان کا مذہبی فریضہ ہے، لیکن اگر یہ تسخیر ایمان اور بلند اخلاقی مقصد کے بغیر ہو تو یہ شیطانیت میں بدل جاتی ہے۔”

نتیجہ:

پہلے باب کا لبِ لباب یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک بہترین خادم ثابت ہو سکتی ہے، مگر یہ ایک بدترین آقا ہے۔ اگر ہم اقبال کے شاہین بن کر AI کو اپنی مصلحتوں کے لیے استعمال کریں تو یہ ہمیں کائنات کے رازوں تک لے جا سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے اسے اپنی سوچ پر حاوی ہونے دیا، تو ہم اپنی ‘خودی’ کھو دیں گے۔ ہماری یہ کتاب اسی توازن کی تلاش ہے کہ کیسے ایک مسلمان اس ڈیجیٹل دور میں اقبال کا ‘مردِ مومن’ بن کر جی سکتا ہے۔

دوسرا باب پڑھنے کے لیے کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں