1,110

بچوں کے علامہ اقبال

تحریر شئیر کریں

بچوں کے علامہ اقبالؒ
بچے بہت نرم و نازک پھول کی طرح ہوتے ہیں ان کے لئے لکھنا ایک مشکل مرحلہ ہے اور بات جب مشکل ترین صنف شاعری کی ہو تو اور بھی مشکل ہے مگر یہ اقبالؒ تھے بچوں کے اقبالؒ ،کوئی معمولی شاعر نا تھے جو معاشرے کا اہم حصہ بچوں کو نظر انداز کر جاتے۔

علامہ اقبالؒ جو شاعر مشرق تھے بچوں سے بہت انسیت رکھتے تھے،اور جن سے انس و محبت ہو ان کی بہتری کے لئے سوچا ہی نہیں بلکہ باقاعدہ کام کیا جاتا ہے۔یہی وجہ تھے کہ علامہ اقبال ؒ بچوں کو قوم کا معمار سمجھتے ہوئے ان کے لئے بے شمار سبق آموز نظمیں لکھیں اور ان نظموں کے زریعے ان کے ذہن اور دل پہ انمٹ نقوش چھوڑے،

بچوں کی سب سے اہم نظم لب پہ آتی ہے دعا”جسے ہم روزانہ سکول میں پڑھ پڑھ کر یہاں تک پہنچے ہیں ،اپنے اندر بے پناہ اہمیت کی حامل ہے ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی بچوں کو اس نظم میں پوشیدہ اسباق نہیں سمجھائے بلکہ رٹے لگوانا ہی کافی سمجھا ہے۔راقمہ نے جب بڑے ہو کر اس کے معنی و مفہوم پہ غور کیا تو پتہ چلا کہ علم کی راہ پہ چلنے والوں کے لئے اس نظم کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔
علامہ اقبالؒ کی بچوں کے لئے لکھی گئی نظموں درج ذیل ہیں جو ان کی کتاب بانگ درا میں موجود ہیں


بچے کی دعا
ہمدردی
مکڑا اور مکھی
پہاڑ اور گلہری
گائے اور بکری
پرندے کی فریاد
بچہ اور جگنو


اقبالؒ ایک آفاقی شاعر ہی نہیں رحم دل انسان بھی تھے انھوں نے نظم ہمدردی میں بچوں کو ہمدردی اور بھلائی کا سبق دیا ہے۔علامہ اقبال دل کے سچے اور کھرے انسان تھے ،اور کھرا انسان کبھی دوسروں کو مکروفریب اور دھوکہ نہیں دیتا،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی نظم “مکڑا اور مکھی” کی کہانی میں بچوں کو دھوکہ دہی اور فریب جیسے منفی جذبات سے دور رہنے کی تلقین کی ہے۔اسلام بھی اسی مکرو فریب کے بارے میں کہتا ہے کہ مسلمان نا دھوکہ دے سکتا ہے اور نا دھوکہ کھا سکتا ہے ۔علامہ اقبالؒ چونکہ قرآن وسنت سے بے حد قریب تھے لہذا اسلام کے اس اہم اصول کو بچوں کو سکھانے کی کوشش کی ہے۔

اقبال قرآن کا شاعر یا شاعروں کا قرآن

علامہ اقبالؒ بہت با صلاحیت انسان تھے مگر انھوں نے کبھی اپنی صلاحیتوں اور بڑے پن پہ تکبر نہیں کیا ،یہی سبق ان کی نظم “پہاڑ اور گلہری”میں ہمیں ملتا ہے۔کہ خو د کو کبھی بھی بڑا مت سمجھیں اور نا ہی کسی کو کمتر اور چھوٹا خیال کریں،دنیا میں ہر چیز کا ایک مقصد ہے کوئی چیز بھی بے فائدہ پیدا نہیں کی گئ۔

علامہ اقبالؒ ایک غیور اور خوددار انسان تھے جو غلامی جیسی عفریت سے اپنی قوم کو نکالنا چاہتے تھے،پرندے کی فریاد میں انھوں نے بچوں کو آزادی جیسی نعمت کے بارے مین بتانے کی کوشش کی ہے کہ آزادی کتنی اہم ہوا کرتی ہے۔اور غلامی کتنی بری چیز ہے جو انسان کو مغلوب و مجبور بنا کر رکھ دیتی ہے۔اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کا ذہن بھی غلامی کے بدترین اثرات سے متاثر ہوجاتا ہے۔اور وہ کسی کام کا نہیں رہتا،پاکستانی قوم کی مثال سب کے سامنے ہے ستر سال ہوگئے اس قوم کو آزادی حاصل کیے مگر ذہنی غلامی کے اثرات ابھی تک باقی ہیں۔

اساتذہ اکرام اور معزز والدین کا یہ فرض ہے کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری کو بچوں تک پہنچائیں اور انھیں بتائیں کہ علامہ اقبال بڑوں کے ہی نہیں بچوں کے شاعر بھی ہیں۔اور ان نظموں کو زبانی یاد کروائیں انھیں سمجھائیں تاکہ وہ آزادی ،غیرت ،خودی اور خودادری جیسے جوہر سے فیض یاب ہو سکیں۔
بچوں کے علامہ اقبال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں