حروف کا جادوئی باغ 62

حروف کا جادوئی باغ

تحریر شئیر کریں

ایک تھا خوبصورت سا باغ، جہاں خاموشی بھی جیسے مسکرا رہی تھی۔
اسی باغ میں ایک لمبا سا حرف رہتا تھا، جس کا نام تھا الف۔

الف سیدھا کھڑا رہتا، مگر اس کے دل میں ایک سوال تھا۔
وہ اکثر سوچتا:

“میں تو بس کھڑا رہتا ہوں… مگر میری کوئی آواز کیوں نہیں؟”

وہ اداس بھی تھا اور حیران بھی۔

—

اسی وقت ہوا میں ایک چھوٹی سی چمک سی پھیلی…
اور ایک چمچماتا ہوا دوست باغ میں آ اترا۔

یہ تھا زبر۔

زبر چھلانگ لگا کر سیدھا الف کے اوپر آ بیٹھا۔

اور جیسے ہی وہ اوپر بیٹھا، الف کے اندر سے ایک ہلکی سی آواز نکلی:

“اَ”

الف حیران رہ گیا!

زبر ہنس کر بولا:
“جب میں اوپر آتا ہوں نا، تو تم یہ چھوٹی سی آواز نکالتے ہو… اَ”

الف کو پہلی بار اپنی آواز ملی تھی۔

—

کچھ ہی لمحوں بعد ہوا میں ایک نرم سی سرسراہٹ ہوئی…
اور ایک اور دوست آ گیا۔

یہ تھی زیر۔

وہ آہستہ سے پھسلتی ہوئی الف کے نیچے آ گئی، جیسے زمین سے چپک گئی ہو۔

اور پھر الف کے منہ سے ایک نرم سی آواز نکلی:

“اِ”

زیر مسکرا دی۔

“جب میں نیچے آتی ہوں تو تم یہ نرم آواز نکالتے ہو… اِ”

الف کے دل میں خوشی بھر گئی۔

—

ابھی یہ سب چل ہی رہا تھا کہ ہوا میں گول گول سی ہنسی گونجی…

اور ایک گول مٹول سا دوست آسمان سے گھومتا ہوا آیا۔

یہ تھا پیش۔

وہ گھومتا ہوا الف کے اوپر آ کر گول ہو گیا۔

اور جیسے ہی وہ بیٹھا، الف نے ہونٹ گول کیے اور کہا:

“اُ”

پیش خوشی سے بولا:
“جب میں گول ہو کر اوپر آتا ہوں نا، تو تم یہ آواز نکالتے ہو… اُ”

—

اب الف کی آنکھوں میں چمک تھی۔
وہ بار بار اپنی آوازیں دہرانے لگا:

“اَ… اِ… اُ…”

اب وہ خاموش نہیں رہا تھا۔

اب وہ بول سکتا تھا۔

—

باغ کے دوسرے حروف یہ سب دیکھ رہے تھے۔
انہیں سمجھ آ گیا تھا کہ یہ تین جادوئی دوست—زبر، زیر اور پیش—الف کو آواز دیتے ہیں۔

اور یوں اس جادوئی باغ میں خاموشی نہیں رہی…
بلکہ سیکھنے کی ایک خوبصورت آواز گونجنے لگی۔

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں