29 ستمبر کو دنیا بھر میں “عالمی یوم قلب”منایا جارہا ہے۔عالمی سطح پر گزشتہ سال کی نسبت دل کے امراض میں اضافہ دیکھنے میں آہاہے۔جو کہ خطرناک بات ہے۔
۔۔۔۔۔۔
وجوہات
۔۔۔۔۔۔۔
دل کی بڑھتی ہوئی بیماریوں کی بڑی وجہ سستی کاہلی اور کمفرٹیبل لائف سٹائل اور ورزش کا نہ ہونا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محنت مشقت کی زندگی کو ترجیح دی جاۓ۔ورزش کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنایا جاۓ۔جہاں تک روحانی بیماریوں کا تعلق ہے۔یہ بھی دل کو کمزور کرتیں ہیں۔
۔۔۔۔۔
خوراک
۔۔۔۔۔۔۔۔
آرگینک فوڈ کا کلچر عام کیا جاۓ۔برگر لائف سٹائل کو اپنی زندگی سے ختم کیا جاۓ۔
۔۔۔۔۔
روحانی مضبوطی
۔۔۔۔۔
جدید سائنس تسلیم کر چکی ہے کہ سب سے جیئنس وہ ہے جو روحانی طور پر مضبوط ہو۔عبادات اخلاق کی بہتری سے روح کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔
خوش اور مطمئن زندگی
۔۔۔
ڈپریشن انگزائٹی سے جتنا دور رہیں گے اتنا ہی سکون اور اطمینان زندگی میں داخل ہوگی۔مصنوعی زندگی سے
سادہ زندگی کی طرف پلٹنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔جو مزہ اور سکون سادہ زندگی میں ہے وہ کسی اور میں نہیں۔یہ چیز دل کو مضبوط کرتی ہے۔
۔۔۔۔
گناہوں سے پرہیز
۔۔۔
نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ انسانی جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ ٹھیک تو سب ٹھیک اور اگر وہ خراب تو سب خراب، سن لو وہ لوتھڑا “دل”ہے۔
جھوٹ کے بارے میں فرمان ہے کہ انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو ایک سیاہ نقط دل پہ لگا دیا جاتا ہے جب وہ توبہ کرتا ہے تو وہ مٹا دیا جاتا ہے۔اگر مسلسل جھوٹ بولیں جائیں تو پورا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔
درج بالا احادیث بتاتیں ہیں کہ گناہ کس طرح دل کو آلودہ اور کمزور کرتے ہیں۔دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ گناہوں کی زیادتی ہے۔خصوصا جھوٹ جو ہمارے کلچر میں شامل ہے۔
سگریٹ نوشی سے پرہیز
دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ سگریٹ نوشی کی عادت ہے۔ضرورت اس امر کی ہے جہاں تک ہو سکے سگریٹ نوشی سے بچا جاۓ اور اگر کوئی اس لت میں پڑ چکا ہے تو وہ اس سے نجات حاصل کرے اس مقصد کے لیے کورس موجود ہین۔جو اس عادت بد سے نجات دے سکتے ہیں۔