251

سورج کی گرج اور زمینی آندھیاں

تحریر شئیر کریں

کچھ سال پہلے تک آندھیاں 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی تھیں۔ تھوڑی دیر کی گرد و غبار کے بعد موسم خوشگوار ہو جاتا تھا۔ آج آندھیاں 120 سے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ رہی ہیں، درخت اکھڑ رہے ہیں، چھتیں اڑ رہی ہیں۔ کیوں؟

سائنسدانوں کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ سورج پر جاری شمسی سرگرمیاں ہیں۔ ناسا کی رپورٹ کے مطابق 2020 سے سولر سائیکل 25 جاری ہے، جس کا عروج 2025 میں متوقع ہے۔ اس دوران سورج سے توانائی کے شدید اخراجات ہو رہے ہیں، جنہیں سولر فلیئرز اور کورونل ماس ایجیکشنز (CMEs) کہا جاتا ہے۔ یہ توانائی زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکرا کر موسمی نظام کو شدید متاثر کرتی ہے۔ جیوفزیکل ریسرچ جرنل کے مطابق 2024 میں ریکارڈ درجے کے G5 شدت کے جیو میگنیٹک طوفان آئے، جنہوں نے شمالی امریکا اور یورپ میں پاور گرڈز اور جی پی ایس سسٹمز کو بھی متاثر کیا۔

یہ سب طبیعی وجوہات ہیں، مگر کیا صرف یہی حقیقت ہے؟ کیا انسان صرف فزکس اور کیمسٹری کے اصولوں سے جیتا ہے؟ یا اخلاق، روح، عدل اور ایمان سے بھی؟

قرآن کہتا ہے:
“وَما نُرسِلُ بِالآياتِ إِلّا تَخويفًا” (الاسراء: 59)
ہم نشانیاں صرف ڈرانے کے لیے بھیجتے ہیں۔

جب زمین پر ظلم بڑھ جائے، حقوق پامال ہوں، رشتے بے توقیر ہوں، اور رب کو بھلا دیا جائے، تو آفات صرف اتفاق نہیں ہوتیں، تنبیہ ہوتی ہیں۔

ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا:
کیا ہم نے اپنے فرائض عدل سے نبھائے؟
کیا ہم نے طاقت کو امانت سمجھا یا ہتھیار؟
کیا ہم نے اپنے رب کو یاد رکھا یا دنیا میں گم ہو گئے؟

یہ آندھیاں صرف ہوا نہیں، ایک پکار ہیں۔
یہ کہتی ہیں: “جاگو، سنبھلو، واپس پلٹو۔”

سائنس ہمیں وجہ بتاتی ہے، ایمان ہمیں مقصد۔
زمین کا موسم سورج سے، اور انسان کا حال اُس رب سے وابستہ ہے جو سورج کو چمکنے کا حکم دیتا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ ہمیں نہ صرف آفات سے بچائے بلکہ ان کے پیچھے چھپے سبق کو سمجھنے اور زندگی بدلنے کی توفیق دے۔ آمین۔

حوالہ جات:
1. NASA: Solar Cycle 25
2. NOAA Space Weather Alerts
3. قرآن: الاسراء: 59

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں