سورہ الانفال نویں کلاس نوٹس
سورہ الانفال کا تعارف
اس سورت مبارکہ کا نام سورہ الانفال ہے، جو کہ اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔انفال نفل کی جمع ہے مراد زائدہ چیزحق سے زیادہ، جس کے معنی مال غنیمت کے ہیں۔ چونکہ سورت کا آغاز انفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام سے کیا گیا اور اس سورت کا بیشتر موضوع بھی یہی رہا ، اس لئے اس کا نام الانفال رکھا گیا۔اس سورت میں 75 آیات مبارکات ہیں اور اس کے دس رکوع ہیں۔ یہ مدنی سورت ہے
۔زمانہ نزول
:یہ سورہ مبارکہ غزوئہ بدر کے فوراً بعد 2 ہجری میں نازل ہوئی ۔اسی لئے اس کا بیشتر حصہ غزوہ بدر کے متعلق ہی ہے۔ اس سورت کے بنیادی موضوعات یہ ہیں۔حق اور باطل کی جنگ میں فتح حق کو ہوتی ہے۔باطل سے کبھی خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔جنگ کا مقصد مال و اسباب یا شان و شوکت نہیں بلکہ اللہ کے دین کا نفاذ اور ظلم و استبداد کا خاتمہ ہے۔
سبب نزول:
سبب نزول کسے کہتے ہیں؟سبب نزول سے مراد کسی سورت کے نازل ہونے کا سبب اور وجہ ہے۔قرآن مجید وقتا فوقتا ضرورت اور حالات کے مطابق تئیس سال کے عرصے میں نازل ہوا۔جیسے ہی کوئی واقعہ او ر ضرورت پیش آئی سورت نازل ہو جایا کرتی تھی۔اسی کو سبب نزول یا شان نزول کہا جاتا ہے۔
سورہ الانفال سبب نزول:مسلمان اپنی نوزائیدہ ریاست مدینہ میں قدم جمانے میں کامیاب ہوچکے تھے۔کفار کویہ بات کسی طور بھی گوارا نہ تھی،وہ ہر وقت تاک میں رہتے تھے۔۔انہی حالات میں کفارمکہ کا ایک قافلہ جو بھاری سازوسامان پر مشتمل تھا۔(جس کے ساتھ 50 ہزار اشرفی کا مال تھا اور تیس چالیس سے زیادہ محافظ نہ تھے)شام سے مکہ کی طرف پلٹتے ہوئے اس علاقے میں پہنچا جو مدینہ کے قریب تھا۔چونکہ مال زیاد تھا مگر محافظ کم تھے۔ابوسفیان جو اس قافلے کا سردارتھا بڑی ہوشیاری سے کام لیا۔اور ایک آدمی مدد کے لیے مکہ کی طرف دوڑا دیا تاکہ مسلمان اس پر حملہ نا کر دیں۔
اس شخص نے مکہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم قاعدے کے تحت اپنے اونٹ کے کان کاٹ ڈالےاور اپنی قمیض آگے پیچھے سے پھاڑ کر شور مچانا شروع کردیا ۔قریش والو! اپنے قافلۂ تجارت کی خبر لو، تمہارے مال جو ابو سفیان کے ساتھ ہیں، محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے آدمی لے کر ان کے درپے ہو گیا ہے، مجھے امید نہیں کہ تم انہیں پاسکو گے، دوڑو دوڑو مدد کے لیے۔یوں ایک ہزار پر مشتمل افراد قافلے کی مدد کے لیے نکل آئے۔۔۔ادھر ابوسفیان بحفاظت سازوسامان لیے مکہ پہنچ گیا۔ادھر سے مسلمان بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ابوجہل کے بھڑکانے پر بدر کے مقام پر دونوں قافلوں کی زبردست ٹکر ہوئی۔۔۔
جنگی سازوسامان:مسلمان تین سو تیرہ تھے اور کفار کی تعداد ایک ہزار پر مشتمل تھی۔جن کے پاس ایک سو گھوڑے اور چھ سو زرہیں تھیں۔اونٹ کثرت سے تھے۔لشکر کا سپہ سالار ابوجہل بن ہشام تھا۔یہ حالات تھے جن میں غزوہ بدر رونما ہوا،سورہ الانفال میں اللہ رب العزت نے تبصرہ فرمایا ہے۔اس سورت کا زیادہ تر حصہ اسی جنگ کے متعلق ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1: سورہ الانفال کا نام “الانفال” کیوں رکھا گیا؟
جواب: “انفال” نفل کی جمع ہے جس کے معنی “مالِ غنیمت” کے ہیں۔ چونکہ اس سورت کا آغاز مالِ غنیمت کے احکام سے ہوتا ہے، اس لیے اس کا نام سورہ الانفال رکھا گیا۔
سوال 2: سورہ الانفال کا زمانہ نزول کیا ہے؟ جواب: یہ
سورت مدنی ہے اور ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کے فوراً بعد نازل ہوئی۔
سوال 3: غزوہ بدر میں مسلمانوں اور کفار کی تعداد
کتنی تھی؟ جواب: غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار کا لشکر 1000 افراد پر مشتمل تھا۔
سوال 4: سورہ الانفال کے بنیادی موضوعات کیا ہیں؟
جواب: اس سورت کے بنیادی موضوعات میں حق و باطل کی جنگ، مالِ غنیمت کے احکام، تقویٰ، اور جہاد کے آداب شامل ہیں۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ فتح صرف اللہ کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔
سوال 5: “سببِ نزول” سے کیا مراد ہے؟
جواب: سببِ
نزول سے مراد وہ خاص واقعہ یا وجوہات ہیں جن کی بنا پر کوئی سورت یا آیت نازل کی گئی ہو۔
سوال 6: غزوہ بدر کا سپہ سالار کون تھا؟ جواب:
مشرکینِ مکہ کے لشکر کا سپہ سالار ابوجہل بن ہشام تھا۔