نوجوان سولر پلیٹس صاف کرتے ہوئےجاں بحق — ایک لمحۂ فکریہ
گزشتہ روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک نوجوان سولر پلیٹس کی صفائی کے دوران کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
حادثہ لاہور کے نواحی علاقے میں پیش آیا، جہاں 23 سالہ نوجوان عثمان احمد روزگار کی تلاش میں سولر پینل صفائی کا کام کر رہا تھا۔
گرمی کی شدت اور بجلی کے بحران کے باعث سولر انرجی کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنا جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ عثمان کے اہل خانہ کے مطابق، وہ بغیر کسی حفاظتی کِٹ اور تربیت کے، پانی سے پینل صاف کر رہا تھا کہ اچانک جھٹکا لگا اور وہ نیچے گر گیا۔
یہ صرف ایک موت نہیں، یہ ہماری اجتماعی غفلت کی قیمت ہے۔
—
✔️ حل: حادثہ نہیں، شعور ضروری ہے
1. بغیر تربیت کے سولر پلیٹس کو ہاتھ نہ لگائیں۔
ہر گھرانے کو چاہیے کہ صرف تربیت یافتہ افراد کو صفائی کی اجازت دیں۔
2. حفاظتی کٹس اور خشک آلات کا استعمال کریں۔
پانی یا ننگے ہاتھ استعمال کرنا خطرناک ہے۔
3. بجلی کی سپلائی مکمل بند کیے بغیر کوئی صفائی نہ کی جائے۔
4. سولر کمپنیز عوامی تربیت پروگرامز شروع کریں۔
5. سوشل میڈیا پر آگہی مہم چلائی جائے۔
یہ ایک ایسا المیہ ہے جو صرف آگاہی سے روکا جا سکتا ہے۔ عثمان احمد کی موت کو صرف خبر نہ بنائیں — اسے شعور کا آغاز بنائیں۔
زندگی قیمتی ہے، اور احتیاط اس کی حفاظت کا واحد راستہ۔
—