شوربہ کھیر
از قلم :عمارہ فہیم
“ویسے تو ہماری آپی صاحبہ امی کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر کچن کا سامان اڑاتی رہتی ہیں کبھی چیز اچھی بن جاتی تو کبھی ایسی کہ اس کا حال ہم سے نا پوچھیں ۔۔۔وہ صرف کھانے والا ہی بتاسکتا ہے ،آج بھی ہماری امی جان رشتے داروں کے گھر گئی ہیں اور ہماری آپی محترمہ کچن میں کچھ ایجاد کرنے میں مصروف ہیں آئیے دیکھتے ہیں آج کیا شاہکار سامنے آتا ہے “
ثانیہ ،احمر اور فاروق تینوں بہن بھائی تھے ،فاروق سب سے چھوٹا اور حساس طبیعت کا مالک تھا اپنی اسی فطری طبیعت کی وجہ سے وہ سب کا ہاتھ بٹانا اولین فریضہ سمجھتا تھا،
اب بہن بھائی ہوں اور آپس میں کوئی شرارت نہ ہو یہ تو ہو نہیں سکتا تھا اس لیے تینوں بہن بھائی ہر وقت کچھ نہ کچھ کارنامہ انجام دیتے رہتے تھے ،
ثانیہ میں اپنی مرضی سے ہر وقت کچھ نیا کرنے کا شوق بیدار ہوتا رہتا تھا لیکن اس کی تکمیل امی کی غیر موجودگی میں ہوتی تھی،
آج بھی ثانیہ کھیر بنا کر سب کو خوش کرنا چاہتی تھی اور گھر میں کچھ ہورہا ہو اور مخبر بلے فاروق کو خبر نا ہو یہ ناممکن تھا جیسے ہی ناک میں خوشبو گئی اور کان میں کھٹر پٹر کی آوازیں آنا شروع ہوئیں فاروق صاحب میں ایک کامنٹری مین کی روح بیدار ہوگئی اور وہ کامنٹری کرتے ہوئے کچن میں پہنچ گئے ۔
“بلے !تم آگئے یہاں ،اب آہی گئے ہو تو تھوڑی سی مدد کردو “
پہلے پہل تو ثانیہ فاروق کو دیکھ کر پریشان ہوئی کہ اب تو بن گئی کھیر کیونکہ فاروق صاحب کی عادت تھی ہر کام میں ٹانگ اڑانے کی ۔
“جی نہیں آپی جی ! آج میں کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوں بلکہ میں تو آج آپ کی نئی ایجاد کا ریکارڈ جمع کرکے اسے منظر پر لانے کے لیے آیا ہوں “
فاروق نے اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا تو ثانیہ کا منہ کھلا رہ گیا اور آنکھیں باہر امڈ آئیں ۔
“مطلب تم یہاں جاسوسی کے لیے آئے ہو “
ثانیہ نے گھوری دی ۔
“جی نہیں !میں تو آپ کو مشہور کرنا چاہتا ہوں اس لیے بس ۔۔
فاروق نے دانتوں کی نمائش کی ۔
“اچھا !سب چھوڑیں یہ بتائیں آج آپ بنا کیا رہی ہیں تاکہ آپ کو مشہور کرنے کے کام کے ساتھ تھوڑی بہت آپ کی مدد بھی کرلوں “
فاروق کو ثانیہ کے چہرے کے تاثرات بگڑتے نظر آئے تو خود کو بچانے کے لیے اپنی خدمت پیش کرنے میں ہی عافیت سمجھی ۔
“کھیر بنا رہی ہوں اور دیکھنا کتنے مزے کی کھیر بنے گی “
ثانیہ مدد کا سن کر فورا ٹھنڈی ہوگئی اسے اس وقت ایک خدمت گار کی شدید ضرورت تھی آخر پہلی بار کھیر پر زور آزمائی ہورہی تھی ۔
“اوہ کیا واقعی !اللہ کرے اچھی بنے ورنہ چینی،دودھ،بادام،اللہ جانے کتنا نقصان ہونے والا ہے “
فاروق نے آخر کے جملے منہ میں بڑبڑائے مگر لفظوں نے ثانیہ کے کانوں تک رسائی حاصل کرلی تھی ۔
“کیا کہا ؟
ثانیہ نے فاروق کا کان مڑوڑتے ہوئے پوچھا ۔
“ارے کچھ نہیں پیاری آپی! میں تو بس اپنے جیسا مزاق کررہا تھا “
فاروق کی آخری بات پر ثانیہ کو ہنسی آگئی ۔
اور وہ فاروق کو بادام ،پستے کاٹنے کے لیے دے کر چولہے پر چڑھے دودھ کی طرف متوجہ ہوگئی ۔
ثانیہ نے دودھ میں ابال آنے پر چینی اور پسے ہوئے چاول (ایک کلو دودھ میں ایک مٹھی چاول ڈالے گئے تھے )ڈال کر پکنے کے لیے رکھ دیا ساتھ چمچ چلاتی رہی ۔
کافی دیر پکنے کے بعد بھی کھیر پتلی ہی تھی ۔
“یا اللہ !امی کیا جادو کرتی ہیں جو یہ کھیر گاڑھی ہوجاتی ہے کتنی دیر سے پکا رہی ہوں پتلی کی پتلی ہے کب تیار ہوگی ،کب ٹھنڈی ہوگی ،اور کب میں اسے فریج میں رکھوں گی سجا کر “
ثانیہ نے کھیر میں چمچ چلاتے ہوئے پریشان ہوکر فاروق کو دیکھ کر کہا ۔
“اب میں کیا بتاؤں !
فاروق نے کندھے اچکا کر جواب دیا ۔
” بس اب میں اسے اتار رہی ہوں جو بھی ہے منہ بند کرکے کھالینا “
ثانیہ نے فاروق کا تنبیہہ کرتے ہوئے کہا ۔
اور فاروق صاحب نے اس وقت پوری تابعداری کا مظاہرہ کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے کھانے کے بعد ثانیہ نے کھیر کی ڈش لا کر دسترخوان پر رکھی جو اوپر سے دیکھنے میں بڑے مزے کی لگ رہی تھی کیونکہ سجاوٹ میں بادام،پستے،کھوپرا،کھویا سب استعمال کیا گیا تھا ۔
“کیا بنا لیا آج ہماری بیٹی نے “
ابو نے پیالی اٹھاتے ہوئے پوچھا ۔
اور ثانیہ یا کسی اور کے کچھ کہنے سے پہلے فاروق کی زبان قینچی کی طرح چلنے لگی ۔
“محترم مہمانوں ،قدردانوں،کھانے والو!آج ہماری پیاری آپی نے آپ سب کے لیے کھیر بنانے کی پوری کوشش کی مگر کھیر نے بننے سے انکار کیا اور وہ شوربہ بن گیا”
فاروق نے کمال اداکاری کرتے ہوئے کمنٹری کی اور آگے اس کے ساتھ اب کیا ہونے والا تھا وہ جانتا تھا اس لیے اس نے بات آہستہ آہستہ دور ہوتے ہوئے مکمل کی اور پھر دوڑ لگادی ۔
“فاروق کے بچے تم چپ نہیں ہوسکتے کچھ دیر کے لیے پٹو گے میرے ہاتھوں سے “ثانیہ نے فاروق کے پیچھے دوڑتے ہوئے کہا ۔
“رکو !بیٹھو ادھر “
امی جی (دادی)نے دونوں کو بلایا اور پھر گویا ہوئیں۔
“بھئی شازیہ (ثانیہ کی امی کو مخاطب کیا )!ہماری پوتی نے کھیر تو مزے کی بنائی ہے بس اس میں چاول ذرا کم ہیں اور پیس کر ڈال دیے اس لیے یہ کھیر کی جگہ فرنی بن گئی ہے “
“کیا ہرنی ؟
فاروق نے چمچ منہ سے نکالتے ہوئے آنکھیں باہر نکال کر پوچھا ۔
“نہیں لڑکے !فرنی ،اس میں چاول پیس کر ڈالتے ہیں اور کھیر کی نسبت کم چاول ڈالے جاتے ہیں اس وجہ سے وہ پتلی اور کھیر گاڑھی ہوتی ہے “شوربہ کھیر
دادی نے آرام سے سمجھاتے ہوئے ثانیہ کو انعام بھی دیا ۔۔
“مطلب اب میں یہ کہ ہماری آپی کھیر بنانے چلیں اور فرنی بنا آئیں “
فاروق کی بات پر دسترخوان پر موجود تمام افراد مسکرانے لگے۔
شوربہ کھیر