غصے اور دیگر جذبات کو کسیے مینج کیا جاۓ?اہم معلوماتی تحریر
غصہ ایک فطری عمل ہے۔اس کا واسط کم و بیش ہر ایک کو پڑتا ہے۔فرق صرف اتنا کسی کو غصہ کم آتا اور کسی کو زیادہ۔۔کوئی اس پہ جلدی کنٹرول کر لیتا ہے اور کوئی دیر سے۔۔۔ماہرین سائیکالوجی کا کہنا ہے کہ غصہ کو مینج کرنا آسان ہو جاتا ہے اگر اس کی کیمسٹری کو سمجھ لیا جاۓ۔سائیکالوجی کہتی ہے کہ انسان کے اندر 16 کیمیکل پاۓ جاتے ہیں۔ہمارے ایموشنز انہی کیمیکل کے تابع ہوتے ہیں۔اور انہی ایموشنز سے موڈ بنتا ہے۔اور اسی موڈ کے تابع ہماری شخصیت اور مزاج ہوتا ہے۔جدید ریسرچ کہتی ہے کہ ہر ایموشن کا دورانیہ بارہ منٹ ہوتا ہے۔بعض ماہرین کے مطابق یہ ایک اندازہ ہے وگرنہ ہر انسان میں یہ دورانیہ اس کی وسعت کے مطابق ہوتا ہے۔جن کا خیال ہے کہ بارہ منٹ کے بعد یہ ایموشن ختم ہو جاتا ہے ان کے مطابق اگر ہم نمک زیادہ کھا لیتے تو اس کا ری ایکشن یہ ہوگا کہ ہمارا بلڈ پریشر شوٹ کر جاۓ گا۔اسی طرح غصہ بھی ہے۔جیسے ہی ہمارے موڈ کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو ہمیں غصہ آتا ہے یہ غصہ بارہ منٹ تک رہ سکتا اور کبھی کبھی اس سے زیادہ بھی۔۔۔اگر ہم ری ایکٹ نا کریں خاموشی سے جو کام کر رہے ہیں ۔اس سے الٹ کرنا شروع کر دیں تو یہ جلدی ختم ہو جاۓ گا۔یعنی کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔بیٹھے ہیں تو اپنی کوئی اور پوزیشن بدل لیں۔پانی پی لیں۔گھر میں ہیں تو باہر چلے جائیں۔ایسا کرنے سے چانسز ہیں کہ آپ جلد اس کیفیت سے باہر آ جائیں گے۔اور غصے کی تباہ کاریوں سے بھی بچ جائیں گے۔ہمارے ہاں طلاق سے کے کر قتل تک سبھی غصے کی تباہ کن شکلیں ہیں۔جو گھروں کے گھر برباد کر دیتیں ہیں۔
اور ایک مزے کی بات یہ کہ یہ بات غصے تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمارے دیگر ایموشنز خوف ،نفرت،حیرت،خوشی اور غم جن میں غصہ بھی شامل ہے۔ان کی عمر بھی کم سے کم کی جاسکتی ہے اگر ان کو مینج کرنا سیکھ لیا جاۓ۔تو یہ بارہ منٹ بعد ختم ہوجاتے ہیں۔کچھ لوگوں میں اس کا دورانیہ اس لیے بھی طویل ہوتا ہے کیونکہ وہ بات ختم کرنے کی بجاۓ اور بڑھاتے رہتے ہیں۔بار بار ذکر کرنا،بار بار یاد کرنا۔۔۔اس سے وہ کیفیت بار بار موڈ کو ڈسٹرب کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دماغ کو پرسکون کیسے کر سکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق اگر کسی کا موڈ تین دن تک بھی ٹھیک نہیں ہوتا تو یہ مزاج اس کی شخصیت کا حصہ بن کر اس کی پرسنیلٹی تباہ کر ڈالتا ہے۔ایسی صورت میں تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر بارہ منٹ کا فارمولا سیکھ لیا جاۓ تو ساری زندگی کی تباہ کاریوں سے بچ سکتے ہیں۔شہوت کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے اگر اس کے ابتدائی بارہ منٹ کو کنٹر ول کر لیا جاۓ تو بہت سے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔کیا ہی اچھا ہو اگر سیکسوئل ابیوز کرنے والوں اور دیگر مجرموں کو یہ جرم مینج کرنا اور انکی فلاسفی سکھا دی جاۓ۔اور انھیں سمجھایا جاۓ کہ شروع کے بارہ منٹ اپنا دھیان توجہ ارتکاز بدل کر آپ اپنے پوری زندگی بدل سکتے ہیں۔

اہم ہم بات یہ کہ جب بھی ان چھ ایموشنز میں سے کسی ایک ایموشن کا غلبہ ہوتو
کبھی بھی کوئی فیصلہ نا کریں۔وہ ہمیشہ غلط ہوگا۔جب وہ ایموشن نارمل ہوں تب فیصلہ کریں۔
جدید سائکالوجی غصے اور دیگر ایموشمز کے حوالے سے جو کچھ کہہ رہی ہے کم وبیش وہی اسلام بھی کہتا ہے۔اسلام بھی غصے میں حالت تبدیل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔حدیث کے مطابق غصہ آگ ہے اور جب غصہ آۓ تو پانی پئیں۔۔
۔والکاظمین الغیظ۔۔۔وہ غصے کو پی جانے والے ہیں۔”جبکہ کہ یہ ترجمہ ٹھیک نہیں۔کاظمت عربی میں ایک کنویں سے دوسرے کنویں تک پانی پہنچانے کو کہتے ہیں۔اسی سے کاظمین نکلا ہے۔غور کریں تو غصہ پینا نہیں بلکہ چینلائز کرنا ہے۔ایک سے دوسری جانب لے کر جانا ہے۔جب کوئی ایموشن دبا لیا جاتا ہے تو وہ بیماری کی صورت میں جسم میں ظاہر ہوتا ہے۔جبکہ چینلائز کرنے سے وہ ایموشن اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔انرجی کنورٹ ہو جاتی ہے۔یہ ہے اصل مطلب کاظمین کا۔اور مومن وہی ہوتے ہیں جو غصے کو چینلائز کر کے اس منفی توانائی کو کسی مثبت کام میں لگا تے ہیں۔ایموشن بھی ختم ہوگیا اور تباہ کاریوں سے بھی بچ گۓ۔اور مثبت کام بھی ہوگیا۔اور ایسے ہی مومن کامیاب ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔۔۔۔غصے اور دیگر جذبات کو مینج کیسے کر سکتے ،اس کو سیکھنے سمجھنے اور اپنی زندگی پہ اپلائی کرنے کی ضرورت ہے۔عدم برداشت والے کلچر میں جہاں اغواء زنا قتل اور دیگر جرائم کی شرح دن بدن بڑھ رہی ہے۔غور کریں تو چھ جذبات میں سے کسی ایک جذبے کے غالب آنے سے اور مینج نا کر سکنے سےیہ جرائم سرزد ہوتے ہیں۔جو ہماری دنیا ہی نہیں آخرت بھی بگاڑ کے رکھ دیتے ہیں۔