آمنہ نور
آمنہ نور نو آموز مصنفہ ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ پہ ان کے الفاظ ہی نہیں جزبات بھی تحسین کے لائق ہیں۔
یہ راہِ عشق کا سفر یہاں کی منزلیں الگ
بلندیوں کے طالبوں عمرؓ کی اقتداء کرو۔
صحابہ کا تونام سنتے ہی ایمان بڑھنے لگتا ہے اور بات حضرت عمرؓکی ہو تو کیا کہنے۔ یہ اعزاز ہی سب سے بڑا ہے کہ عمرؓ میرے نبی کی مراد بن کر آئے۔ اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوسکتی ہے بھلا۔ قیامت تک کے لیے یہ نسبت ان کے ساتھ جڑ گئی۔ اور وہ مرادِ مصطفیَ کا لقب پاگئے۔
مجھے ان کا غصہ بچپن سے بہت اچھا لگتاہے انکے واقعات پڑھنا میرا محبوب مشغلہ رہاہے۔ ہر غلط بات پر ان کا تلوار نکالنا مجھے بہت پسند ہے اور انکے لیے میں کبھی یہ نہیں کہوں گی کہ انکی فلاں بات یا واقعے نے مجھے متاثر کیا کیونکہ انکی ایک ایک ادا ایک ایک واقعے سے مجھے محبت ہے انکے نام سے انکے ذکر سے عشق ہے..
وہ شخص جس کے کہنے کو خدا نے اپنا کہا کر دیا۔ وہ جو زمین پہ درّہ مارے تو زلزلہ رک جاٸے۔ دریا کو حکم دے تو دریا میں روانی آجاٸے۔وہ شخص جس کا پیغام بادل ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاٸیں۔وہ تلوار نکالے تو حق کا بول بالا کردے.عاجزی ایسی کہ زمین کا بستر اور اینٹ کا تکیہ بنا کر سوجاٸے۔حکمران ایسا کہ سفر میں غلام سواری پر سوار اور خود پیادہ… ایسا شخص ایسا عادل ایسا منصف اس سے پہلےنہ زمیں نے دیکھا ہوگا نہ آسمان نے۔ تبھی تو فرمایا گیا.
؏:اگر اک عمرؓ اور دنیا میں ہوتا۔
تو ہر شخص ہی چین کی نیند سوتا۔
اور تبھی تو میرے ھادی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لو کان نبی بعدی لکان عمرؓ
ترجمہ: میرے بعد کوٸی نبی ہوتا تو عمرؓہوتا
غرض یہ کہ عمرؓ کےبعدپھر کوٸی عمرؓنہیں ملا.
بڑی خواہش رہی آنکھوں کو پھر سے وہی مثال دیکھنے کی۔ اور اب تک ہے۔ عمرؓ کا نام سن کر شیطان بھاگ جایا کرتا تھا اس لیے آخری درخواست یہی کہ
؏:عمرؓ عمرؓ لکھا کرو
عمرؓعمرؓ پڑھا کرو
عمرؓعمرؓکہا کرو
عمرؓ عمرؓ کیا کرو….
لکھو گے سیرتِ عمرؓ
پڑھو گے سیرتِ عمرؓ
مبلغوں مصنفوں
یہ آج فیصلہ کرو…..
ازقلم🖊️: آمنہ نور