714

مولی کے فائدے اور پکوان

تحریر شئیر کریں

مولی کے فائدے اور پکوان

مولی کےفائدے کیا کیا ہیں؟اسے کس کس بیماری میں کس طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔جانیے اس آرٹیکل میں

مولی وہ سبزی ہے جس کی اہمیت اور افادیت کااندازہ اس بات سے لگائیے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے جب اہرام مصر کی تعمیر ہو ریی تھی تو اس وقت جو مزدور کام کر رہے تھے ان کواجرت میں مولی دی جاتی تھی۔

مولی کے ان گنت فائدء ہیں۔یہ ایک ایسی سبزی ہے جسے پکا کر کم اور کچا زیادہ کھایا جاتا ہے۔مولی اپنے اندر بے پناہ فوائد رکھتی ہے۔حکماء اسے بہت سی بیماریوں میں بطور علاج بھی استعمال کرتے ہیں۔یعنی علاج بھی اور غذا بھی۔۔۔

مولی سے حاصل ہونے والے وٹامن اور منرلز

مولی اپنے اندر بہت سے فوائد چھپاۓ ہوۓ ہے۔یہ۔افادیت اور بھی بڑھ جاتی ہے اگر اس کے بارے میں درست معلومات آپ کے پاس ہوں۔

مولی کے اندر وٹامن سی،ای اور کیلیثیم ، پوٹاشیم ، زنک اور آئرن بھی پایا جاتا ہے۔مولی مختلف امراض جیسا کہ گلے کےامراض اور پیٹ کے امراض میں فائدہ دہتی ہے۔اس کے علاوہ جلد کے لیے بھی مفید ہے۔دور حاضر کی بیماریاں موٹاپا ، کینسر، یرقان ، بلڈپریشراور شوگر جیسے موذی امراض میں بھی مفید ہے۔

مولی کو کیسے کھایا جاۓ ؟

ہر مرض کی نوعیت مختلف ہوا کرتی ہے اس لیے مولی کو ہر بیماری میں کھانے کے طریقے بھی مختلف ہیں۔مثلا اگر قبض گیس اور موٹاپا کم کرنے کے لیے کھا رہے تو صبح نہار منہ شہد لگا کر کھائیے وہ بھی پتوں سمیت۔اور اگر یرقان میں کھا رہے تو اس کا ایک پانی نکال کر شکر یا چینی ملا کر استعمال کیجے۔تین ہفتوں کے استعمال سے آپ بہت افاقہ محسوس کریں گے۔مولی کے پتے بھی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔اس لیے پتوں سمیت کھایا جاۓ تو بہت مفید ہے۔اسی طرح نہار منہ تلی کے لیے بھی مفید ہے۔گردہ پتہ اور مثانہ کی پتھری کو ریزہ ریزہ کر کے نکال دیتی ہے۔پیشاب کی جلن کو بھی کم کرتی ہے۔تیس دن کے استعمال سے پتھری نکل جاتی ہے۔
مولی میں چونکہ پوٹاشیم موجود ہوتا ہے اس لیے یہ بلڈپریشر کو کنٹرول رکھتی ہے۔بواسیر کے مریض ایک مولی پتوں سمیت کھانے کے درمیان کھائیں۔شوگر کے مریض بطور سلاد کھانے کے ساتھ استعمال کریں۔یہ خون صاف کرتی ہے۔جسم سے فاسد مادوں کو نکال باہر کرتی ہے۔منہ کے چھالوں کے لیے مفید ہے۔مولی ایکنی اور ڈپریشن کو کم کرتی ہے۔جیسا کہ آج جل جلدی انفیکشن کی بیماری عام ہے ۔سو مولی کھائیے اور خارش چنبل اور دھدر جیسے امراض سے نجات پائیے۔

 

مولی کو درست کھانے کا طریقہ کیا ہے؟

 

مولی کو نہار منہ پتوں سمیت چبا چبا کر کھائیں یا کھانے کے درمیان میں کھائیں۔مگر اسے رات کو کبھی مت کھائیں۔مولی کھانے سے عموما لوگوں کو ڈکار آتے ہیں اگر مولی کھانے کے بعد تھوڑی سی شکر یا چینی کھا لی جاۓ تو ڈکار نہیں آئیں گے۔


الغرض مولی سردیوں کا نایاب تحفہ ہے اسے کچی کھائیے پکاکر کھائیے یا پراٹھوں کی صورت میں کھائیے ۔ہر طرح سے غذائیت اور لذت سے بھر پور سبزی ہے اسے سردیوں میں بطور غذا اور دوا استعمال کیجیے۔

مولی کے مشہور پکوان

مولی کے پراٹھے، مولی کے کباب، مولی کا سالن مشہور روایتی ڈشیں ہیں جوسردیوں کے موسم میں ہر گھر میں پکائی اور کھائی جاتیں ہیں۔
مولی کے پراٹھے اور کباب کدوکش کر کے اس کا پانی نکالیے اور نمک مرچ سبز مرچ اور دھنیا حسب ذائقہ ڈال کر مکسچر بنا لیں۔جو لوگ پراٹھے پسند کرتے وہ پراٹھوں میں اس مکسچر کو لگائیں اور جو کباب پسند کرتے وہ تھوڑا بیسن مکس کر کے شیپ دے کر تل لیں اور سبز چٹنی کے ساتھ گرم گرم دھوپ میں بیٹھ کرسنہری کبابوں سے لطف اندوز هوں.
مولی کے پتوں کو پالک کی طرح کاٹ کر پکایا جاتا ہے اور بیچ میں مولی کے قتلے ڈال کر بھی پکایا جاتا ہے اور الگ الگ بھی۔۔
تو کب بنا رہے آپ مولی کی یہ مزیدار ڈشز؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں