479

میرے استاد

تحریر شئیر کریں

میرے استاد

حاجرہ خان

ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑے معلم ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ نے قرآنی تعلیمات اور دینی و شرعی احکام کو باالعمل پیش کیا۔
اسی طرح جن صالحین اور بزرگ ہستیوں سے ہم دینی تعلیم اور زندگی گزارنے کے اسلوب سیکھتے ہیں وہ ہمارے لیے استاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ ایسے ہی ایک عظیم انسان ہماری زندگی میں بھی آئے۔ میری زندگی میں ان کا درجہ استادوں کے استاد کا ہے۔ کیونکہ وہ ایک باعمل مسلمان تھے۔

درویش صفت انسان


اپنے زمانے کے مسٹر پاکستان رہے، بدن پر ایک لنگی اور ورزشی جسم ننگ دھڑنگ۔ کبھی وہ دین سے دور انسان تھے
پھر جستجوئے روزگار کے سلسلے میں کافی عرصہ سعودی عرب رہائش پذیر رہے۔ رب کے گھر کی قربت حاصل ہوئی تو ایسا تن ڈھانپا کہ نظر تک کا پردہ فرمالیا۔


اللہ نے انہیں ایک بیٹی سےنوازا۔ جس نے دینی و شرعی احکامات کے مطابق مثالی زندگی گزاری۔ پھر وہ لاہور آگئے۔
اور ادھر ہماری قسمت کہ ہم نے ان سے ملنا تھا، انہوں نے ہمیں رب سے ملایا، اس کی اطاعت میں خوش رہنا سکھایا۔
وہ بہت سی جائداد کے مالک تھے۔ مگر فقیرانہ زندگی بسر کی۔ دین کو اپنے عمل سے لوگوں کو سکھانے کی سعی کی۔اس طرح وہ اللہ کے کام میں لگے رہے اور اللہ نے ان کی کام اپنے ذمے لے لیے۔

تعارف


سخی سرور بٹ ،اونچے لمبے، سرخ سپید رنگت، لمبی باریش داڑھی، چہرے پر خفگی کی لالی ، اور زبان پر صرف رب تعالیٰ کا شکر۔وہ بولتے تو ہم سر دھنتے۔ پہلی بار میرے گھر تشریف لائے تو بہت اصرار پر صرف ایک گلاس پانی پینے پر راضی ہوئے۔ پورا گلاس پانی ختم نہیں ہوا تو باقی ٹرے میں الٹا دیا۔ کہنے لگے” ضعیف الاعتقاد لوگ بابا جی کا پانی تبرک سمجھ کر پی لیتے ہیں ، میں نہیں چاہتا کہ تم لوگ یہ پانی کوئی مقدس پانی سمجھ کر پی لو، میں عام سا انسان ہوں کوئی پیر نہیں”

بہترین استاد


بچیوں سے آیة الکرسی سنی،الحمد اللہ ۔۔۔۔۔سن کر بے حد خوش ہوئے۔ پھر آیة الکرسی کے دس فضائل بیان کیے۔ بچیوں کو زبردستی چند لال روپے انعام بھی دیا۔ مجھے خاص تاکید کی کہ بچیوں کی تربیت میں بہت دھیان دینا۔ ان کو روزانہ لیکچر دینے کی تاکید کی( جس کا موقع میں پہلے ہی جانے نہیں دیتی) بولے ہمارے بزرگ ہم بچوں سے درود شریف، آیة الکرسی وغیرہ سنتے تو انعام ضرور دیا کرتے تھے۔

حکمت سے آگاہی


وہ حکمت بھی جانتے تھے ، گھر کا نیچے والا پورشن اسی مقصد کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔کسی کو بھی ان کے مشورے کی ضرورت ہوتی تو اپنے پاس سے پیسے خرچ کرکے دوا بنا کر دیتے۔

منفرد انسان


وہ دنیا سے الگ ہی انسان تھے۔ نہ آج کل کے پیروں کی طرح پیسے بٹورنے والے اور نہ ہی الٹے سیدھے مشورے دیتے۔ بلکہ وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ کسی کا کوئی پیسہ
ان پر قرض رہ جائے۔ جب ان سے کہا جاتا کہ دعا کریں تو وہ کہتے کہ تم خود اپنے لیے دعا کرو، سب سے زیادہ بیوی اپنے شوہر کے لیے دعا کرے اور اگر تمہیں کوئی حاجت ہو تو سر سجدے میں رکھ کر دعا مانگو۔
” ان اللہ ربی لاشریک لا”


ان کی عبادت کا تو شمار ہی نہیں تھا۔ مگر دکھاوے سے بچتے اور عاجزی اتنی کہ کوئی دیکھ کر کہہ نہیں سکتا کہ یہ ایک متموّل انسان ہے، خودداری ایسی کہ ایک گلاس پانی پیتے ہوئے بھی جھجکتے۔ دینی کتابیں گفٹ کرتے۔ دین کا کوئی عنوان ہو سمجھاتے تو زبانی یاد ہوجاتا۔
وہ میرے دینی استاد تھے۔ جو اپنے عمل سے دین سکھاگئے۔ اپنے عمل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کو زندہ کر گئے۔ یہاں ہر دوسرا شخص اپنے قول اور فعل میں تضاد لیے پھرتا ہے، ان سب میں ایک وہ تھے حاجی انکل جو اپنے عمل سے دوسروں کے لیے ان کی زندگی کے راستے متعین کرتے تھے۔


پھر وہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ مگر ان کی تعلیمات ہم سب کے دلوں میں زندہ ہیں۔
دل نے انہیں استاد مان رکھا ہے۔استاد بھی ایسا جو دین و آخرت کی روشنی سے معمور تھا اور روشنی پھیلاتا اس دنیا سے چلا گیا۔

ماں باپ کےبعد سب سے قریب ترین رشتہ استاد کا ہوتا ہے۔
ماں کی گود میں آنکھ کھولنے والا بچہ شعور کی آنکھ استاد کے دستِ شفقت کے زیرِ سایہ کھولتا ہے۔ اس کی پہلی محبت اور پہلا لگاؤ اپنے استاد کے ساتھ ہوتا ہے۔ سکول و کالج کے اساتذہ کی اپنی شان ہے، ایک بچے کو ساری عمر ان کے سکھائے سبق حرف بہ حرف یاد رہ جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت، ان کا ٹھہراؤ ، متانت، سنجیدگی، لہجہ ہر ایک عمل بچوں کی زندگیوں پر مثبت اور منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
مس نفیسہ ، مس سلطانہ کا دستِ شفقت پنجم کلاس تک حاصل رہا تو ششم کلاس میں مس زرینہ، مس آسیہ، مس نجمہ میری پسندیدہ اساتذہ تھیں۔ پروقار شخصیات، لہجوں پر مکمل عبور اور بچوں کو اپنا گرویدہ بنالینے کے فن سے معمور۔
مس زرینہ اسلامیات کی ٹیچر تھیں۔ جو سبق کے علاوہ ہر روز ایک نبیؑ کی کہانی سنایا کرتیں۔ انبیاء اکرام کی زندگیوں اور حالات و واقعات سے ہماری دلچسپی ان کی اسی محنت کا نتیجہ ہے۔
مس آسیہ اردو کی استانی تھیں۔ کمال شستہ لہجہ اور گرائمر کی استاد تھیں۔ آج ہمارے تھوڑے بہت اردو داں ہونے میں ان کا بہت سا ہاتھ ہے۔
مس نجمہ حیدر ، مطالعہ پاکستان کی استانی، بچوں کی نفسیات سے گہرا شغف رکھتی تھیں . تدریسی سبق کے علاوہ عام زندگی کی اتار چڑھاؤ سمجھانے میں ان کا ثانی نہیں تھا۔ سائنس کلاس ہونے کی وجہ سے میری ساتھی طالبات مطالعہ پاکستان کو زیادہ وقت نہ دے سکتیں تو ان سب نے میری ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ پیریڈ شروع ہوتے ہی مس کو دس پندرہ منٹ تاریخِ پاکستان میں الجھائے رکھنا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ بتاتے ہوئے وہ اس قدر مصروف ہوجاتیں کہ اردگرد سب بھول جاتیں اور پیریڈ اوور ہوجاتا اور ہم سب شکرکا کلمہ پڑھتے( سوری مس)
ایک استاد کی جھڑکی میں اس کی شفقت چھپی ہوتی ہے۔ ایک بچے کی شخصیت اس کے اساتذہ کا پرتو ہوتی ہے۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے دلوں میں روشن رہتی ہے اور ہم ان کے پڑھائے گئےایک بھی لفظ کا بدلہ نہیں اتار سکتے۔
ایک استادانسان کے روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ ہم جو استاد کو دیتے ہیں وہ خرچ ہوجاتا ہے مگر استاد جو ہمیں سبق سکھاتا ہے وہ خرچ کرنے سے بڑھتا رہتا ہے۔
استاد نہ صرف آپ کے ذہن کو شعور کی دولت سے مالا مال کرتا ہے ,

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں