414

وَالصُّـــلحُ خَــــیرٌ

تحریر شئیر کریں

وَالصُّـــلحُ خَــــیرٌ

اور صلح خوب ہے

🖋 مہوش کرن

~~~~

طلاق، دینِ اسلام میں ایک ایسا فعل جو جائز تو ہے لیکن پسندیدہ نہیں۔ البتہ کوئی آخری صورتحال جس میں گزارا ناممکن ہوجائے تب طلاق جائز ہے۔ ایسے حالات میں کہ جب کوئی امید بَر نہ آئے، جب کوئی صورت نظر نہ آئے، لیکن اُس سے پہلے ہر ہر قدم پر صلح ہی بہتر ہے۔

افسوس صد افسوس کہ ہمارے مسلم ملک یعنی ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں، جسے حاصل ہی اللّٰہ کے نام پر اور رسول ﷺ کے طریقوں پر عمل کرنے کی نیت سے کیا گیا تھا۔ اس ملک میں آج کسی بھی معاملے میں مجموعی طور پر اللہ کا تقویٰ بالکل نہیں رہا۔ انفرادی و اجتماعی معاملات میں خدا خوفی ختم ہوتی جارہی ہے، اور اس کی بنیادی وجہ ٹوٹتے گھر ہیں۔ جی ہاں، وہی گھر جو کہ معاشرے کی اکائی ہوتے ہیں، جو معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں اور جب بنیادیں ہلنا شروع ہو جائیں تو عمارتوں کو گرتے دیر نہیں لگتی۔

دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ عدمِ برداشت کے پروان چڑھتے ماحول میں طلاق ایک عام رواج بن چکا ہے۔

پچھلے چند سالوں کی تحقیقاتی رپورٹس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اِس کی شرح میں مستقل اور تیز تر اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم رپورٹ بھی پڑھ لیتے ہیں اور اُس پر اظہارِ رائے بھی کر لیتے ہیں، آس پاس اپنے کسی جاننے والے ایسے مرد یا عورت سے افسوس بھی کر لیتے ہیں اور تو اور شکار ہونے والوں کے سَر پر الزامات بھی دھر دیتے ہیں۔

لیکن پھر سے افسوس صد افسوس کہ ہم کسی کے لیے کچھ کرتے نہیں۔ ہم بحیثیت انسان کسی دوسرے انسان کے درد کو محسوس کرتے ہوئے انسانیت کے درجے پر بھی کچھ کرنے کی کوشش نہیں کرتے بَجُز اِس کے کہ بحیثیت مسلمان اس کے لیے کچھ کریں۔ تو پھر آئیں کیوں نہ ہم سب مل کر آج پھر سوچتے اور جانتے ہیں کہ کیوں ہماری اپنی پیاری بہنوں کے ساتھ ایسا ہورہا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کون کون اسکا ذمہ دار ہے۔وَالصُّـــلحُ خَــــیرٌ

  • کیا شوہر یا بیوی؟
  • کیا ہمارا خاندانی نظام؟
  • کیا معاشرہ؟
  • کیا ہمارا میڈیا؟ یا وہ ڈرامے جو آج کل دکھائے جارہے ھیں؟
  • ہماری روایات؟ ظاہری چمک دمک اور جہیز وغیرہ۔
  • موبائل فون؟ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا مستقل اور بے جا استعمال؟
  • عدم برداشت؟ بد اخلاقی؟وَالصُّـــلحُ خَــــیرٌ
  • ہر طرف بڑھتی بے حیائی؟

کیا ہم ان میں سے کسی ایک وجہ کو الزام دے سکتے ہیں۔؟
تو جواب یہ ہے کہ جی نہیں۔ کیونکہ اوپر دیے گئے تمام عوامل میں سے ہر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایسا ماحول بنا رہا ہے کہ لوگوں کے لیے طلاق ناگزیر ہو گئی ہے اور معاشرے کے لیے ایک ناسور بن کر رہ گئی ہے۔ اور ان میں سب سے بڑھ کر اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا ہے جو ان تمام مسائل سے نبٹنے کا واحد حل ہے۔

شوہر اور بیوی۔۔۔ ایک دوسرے کا لباس، ایک دوجے کے لیے سکون کا باعث۔ ایک دوسرے کے لیے بہت بڑی فضیلت اور اہمیت کے حامل، ایک دوجے کے دکھ درد کے ساتھی، آپس میں ایک دوسرے کا پردہ رکھنے والے، ایک دوسرے کی عزت نہ اچھالنے والے اور اپنی راز کی باتیں راز ہی میں رکھنے والے۔ پھر بھلا کون ہے جو اُن کے درمیان دراڑ ڈال دیتا ہے۔

کبھی یہ نازک رشتہ سسرال والوں اور فرسودہ روایات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے کہ جہیز کم یا معیار کے مطابق نہیں، چیزوں اور باتوں میں دکھاوا اور شو بازی نہیں، تقریبات میں ادھم بازی اور فضول خرچی نہیں، شکل وصورت جو پہلے ٹھیک لگی تھی لیکن شادی کے بعد آنکھ کا کانٹا بن گئی، تعلیم کی کمی کے طعنے یا اپنے سے زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار ہوکر تشنے، تو کبھی اولاد نہ ہونے یا بیٹا نہ ہونے کے طماچے کھا کھا کر یہ رشتہ سیراب ہونے کی بجائے پیاسا ہی رہ جاتا ہے اور کبھی میکے والوں کی انَّا کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ۔وَالصُّـــلحُ خَــــیرٌ

خاندانی نظام جو کہ کبھی پاکستانی معاشرے کی پہچان تھا، وہ آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ کہیں لوگ اپنے بزرگوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے، کہیں بزرگ بچوں کے ہنسی مذاق اور شور شرابے سے الجھ کر اپنا وقت اولاد کی اولاد کو دینے کی بجائے ٹی وی، فضول باتوں اور کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ غرض یہ کہ بچوں میں شروع ہی سے گھر اور خاندان کا وہ نقشہ نہیں بن پاتا جو کبھی اس معاشرے کا خاصہ تھا۔

جہاں تک بات معاشرتی بگاڑ کی ہے تو اس میں میڈیا کا کردار نہایت زوردار ہے۔ پچھلے دس سالوں میں جس سوچ اور جن اقدار کو ڈراموں کے ذریعے پروان چڑھایا گیا ہے اور جس طرح بےحیائی اور بے باکی کو اشتہاروں کے ذریعے عام کیا گیا ہے تو اسی طرح کے نتائج سامنے آنے کا اندیشہ تھا۔

پھر اِن سب جلتی پر تیل کا کام انجام دیتا ہے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے مقصد استعمال۔ لوگ ایک دوسرے کے بجائے اپنے فون یا لیپ ٹاپ کو زیادہ وقت دیتے ہیں۔ اِس جدید تکنیک کے جہاں بیش بہا فوائد ہیں وہیں بیشمار جذباتی اور جسمانی نقصانات بھی سامنے آرہے ہیں۔وَالصُّـــلحُ خَــــیرٌ

اس کے علاؤہ چمکتی دمکتی عورتوں یا مردوں کو سوشل میڈیا پر دیکھنا۔ بے حیائی سے صبح شام آنکھوں کو خیرا کرنا، جائز اور حلال رشتوں کی قدر کم کر دیتا ہے۔

لوگ جب مادی چیزوں میں فرار ڈھونڈتے ہیں تو سکون نہیں پاتے البتہ توقعات پوری نہ ہونے کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہوئے عدم برداشت کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ جب سوشل میڈیا پر دوسروں کو دیکھتے ہوئے خود اپنا جائزہ لیتے ہیں تو زندگی کبھی امیدوں پر پوری اترتی نہیں محسوس ہوتی اور یوں زیادہ بگاڑ شروع ہوجاتا ہے۔ کہیں نوکری معیار کے مطابق نہیں، کہیں زندگی کا ساتھی، کہیں گھر تو کہیں گھر والے، کہیں بچوں کا اسکول اعلٰی نہیں تو کہیں برانڈڈ کپڑے نہیں، کبھی کچھ تو کبھی کچھ۔ یہ سب مادی چیزیں اور ایسی مادہ پرست سوچ مرد یا عورت کو بد اخلاق بناتی ہے۔

مگر بات وہی ہے کہ مندرجہ بالا گفتگو میں شامل تمام عناصر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر بھرپور اثرانداز ہوتے ہیں۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آخر کار طلاق سے بچنے کے لیے اوّل طور ہر ایک عنصر سے بچنا چاہیئے ورنہ نتیجہ مایوس کُن رہے گا۔وَالصُّـــلحُ خَــــیرٌ

کیونکہ کاتبِ تقدیر نے اپنی کتاب کی سُورَۃ النِّسآء میں لکھ دیا ہے کہ :
”اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہو تو میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے۔ اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاروں اور پرہیزگاری کروگے تو اللّٰہ تمھارے سب کاموں سے واقف ہے۔“ (آیت 128)وَالصُّـــلحُ خَــــیرٌ

”اور اگر میاں بیوی میں موافقت نہ ہوسکے اور ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو اللّٰہ ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کر دے گا اور اللّٰہ بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے۔“ (آیت 130)

”اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللّٰہ ہی کا ہے۔ اور اللّٰہ ہی کارساز کافی ہے۔“ (آیت 132)

یعنی اللّٰہ رب العزت جو ہر بندے کے تمام حالات سے باخبر ہیں وہ اپنے بندے یا بندی کے لیے خود یہ راستہ متعین کر رہے ہیں کہ پہلے معاملات کو بخوبی نمٹایا جائے کیونکہ صلح ہی بہتر ہے اور یہ پرہیزگاری کی نشانی ہے لیکن اگر ہر تدبیر بیکار جائے تو پھر اللّٰہ کی حکمت پر شاکر و صابر رہا جائے اور مکمل بھروسہ کیا جائے، بے شک اللّٰہ کی مصلحت اور فیصلے ہی بہترین ہیں۔ ہاں یہ ضرور یاد رہے کہ دنیا کی زندگی فانی ہے اور اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہوگی۔
زندگی کیا ہے ایک تلخ حقیقت کے سوا،
وہ جسے تم نے اور میں نے سمجھا ہی نہیں،
موت کیا ہے ایک جہدِ مسلسل کے سوا،
وہ جسے میں نے اور تم نے دیکھا ہی نہیں،
آؤ! کہ اب تو آجاؤ کوشش کر لیں،
پھر کہیں خلش ہی رہ جائے نہ خالی دل میں،
میں نہیں ہوں گی تو تمھیں کون وفائیں دے گا،
تم نہیں ہوگے تو مجھے کون سہارا دے گا۔
زندگی تلخ سہی پیار بھی ہو سکتا ہے،
ایک دوجے سے یہ اظہار بھی ہو سکتا ہے۔
موت سے ایک دن ملنا ہے ہمیں مان لیا،
اُس کی تیاری کا سامان بھی ہو سکتا ہے۔

وَالصُّـــلحُ خَــــیرٌ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں