حمزہ خاں
ڈیجیٹل محبت اور حقیقی محبت خودکشی نہیں بلکہ جینا سیکھاتی ہے
ڈیجیٹل محبت سے میری مراد موبائل فون کے آنے سے محبت کے پرستاروں کا بڑھنا ہے ۔ایسے کچھ نوجوان موبائل پر فلمیں دیکھ کر خود کو کسی رومانوی ہیرو یا ہیروئین کی طرح تصور کر لیتے ہیں اور فیس بک یا اس کی طرح کی دوسری اپپ کے ذریعے آپس میں باتیں کرتے ہیں۔شروعات میں اگر ایک منٹ بات نہ ہو تو انہیں محبوب کی یاد ستانے لگتی ہے مگر کچھ عرصہ بعد انہیں اپنے اس محبوب سے اکتاہٹ ہو جاتی ہے اور وه کسی دوسرے سے وقت گزاری کے پھر سے پرانا فارمولا آزما کر اسے اپنے شکنجے میں جھڑ لیتے ہیں ۔ایک بچہ اداس تھا تو پوچھنے پر معلوم ہوا کہ محبت میں دھوکا ہوا ہے ،محبت کے نام پر پیسے لوٹے گے ہیں جوکہ موبائل فون کا کارنامہ ہے ۔مجھے ڈر ہے کہ جس حساب سے ڈیجیٹل محبت پروان چڑھ رہی ہے اس کا انجام بہت برا ہو گا ،شاید معصومیت ختم ہو جاۓ اور پانچ سال کا بچہ کہے کہ مجھے محبت ہے ۔اس کے برعکس کچھ لوگ حساس ہوتے ہیں اور کسی کے چھوڑ جانے پر یا تو ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور یا پھر خودکشی کر لیتے ہیں ۔میں یہاں کوئی فتوی نہیں جھاڑنا چاہتا ،محبت ایک فطری عمل ہے اسی لیے کسی کو بھی ہو سکتی ہے ۔کچھ محبت کے پرستاروں کا ماننا ہے کہ جو لوگ کسی کی یاد میں اشعار لکھتے ہیں یا پھر کوئی نثر لکھتے ہیں تو وه محبت کی نمائش کرتے ہیں جو کہ بالکل غلط منطق ہے ۔شاعر اور ادیب حضرات کے پاس اپنے جذبات کو قلم کے ذریعے لکھنا ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا اور اس عمل کو کتھارسس کہتے ہیں(اپنے اندر کی بھڑاس ،غم وغصے کو الفاظ کے زریعے نکالنا )۔یہ ضروری نہیں کہ کسی کی شاعری یا ناولز کے پیچھے محبت کا راز چھپا ہے ،ایسے طنعے مارنا بند کیجیے کیونکہ اب بھی کچھ لوگ ادب سے ذوق رکھتے ہیں۔اس کے برعکس میرا ایسا کہنا ہے جو لوگ اپنے بازو بلیڈ سے کاٹتے ہیں اور خودکشی جیسا بزدل فیصلہ کرتے ہیں اسے نمائش کرنا کہتے ہیں ۔یہاں محبوب بھی اس جرم میں ملوث ہے جو عاشق سے کہتا ہے کہ کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا اور اسے کچھ غلط کرنے پر ابھارتا ہے ۔ اگر معاشرہ اور لوگ خلاف ہیں تو انہیں اپنی محبت سے جیتیں ۔محبت کرنا غلط نہیں لیکن محبت میں بہک جانا غلط ہے اور محبت تو روح کی پاکیزگی کا نام ہے ۔محبت مان ہے رشتوں کا ۔محبت تو جینا سیکھاتی ہے ،محبت تو باہمّت بناتی ہے ،محبت تو زندگی سے محبت کرنا سیکھاتی ہے ،محبت تو لڑنا سیکھاتی ہے ،محبت ہر شے کو پا لینے کا نام نہیں ،محبت تو دو دلوں کے ملنے کا نام ہے ،محبت ٹو احساس کا نام ہے ،محبت تو محبوب کے انتظار میں ساری زندگی انتظار کرنے کا نام ہے ،محبت تو زمانے کے ظلم و جبر کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے ،محبت تو بہادری کا نام ہے ،محبت انتظار کا نام ہے ۔یہ کون سی محبت ہے جو کسی کو خود کشی پر مجبور کرے؟ ۔قارئین اگر میں غلط ہوں تو مجھے ٹوکیے گا لیکن جو شخص اپنی زندگی سے ،پیدا کرنے والے رب سے اپنے جننے والے والدین سے پیار نہیں کر سکتا ،جو شخص حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتا ،جو اپنی محبت کا اعتراف نہیں کر سکتا ،وه بھلا کیسے محبت کر سکتا ہے ؟یہ بزدلی ہے ۔ایسے محبت کو میں محبت نہیں ڈھونگ کہتا ہوں معذرت۔لوگ محبت میں مجنوں کا نام لیتے ہیں تو میں اس کی مثال دیتا ہو۔،وه کتے کے قدم چوم رہا تھا کسی نے پوچھا کہ انسان ہو کر کتے کے قدم کیوں چومتے ہو ؟اس نے کہا تم اسے صرف کتا سمجھتے ہو ،یہ صبح و شام لیلیٰ کی گلی میں سے گزرتا ہے میں چومتا اس کے پاؤں اور دھیان لیلیٰ کی گلی کا کرتا ہو ۔ محبت کوئی اور شے ہے یہ قلب کی وه کیفیت ہے جو کسی ذات کے ساتھ جڑ جاۓ تو پھر اس کے در و دیوار سے بھی محبت ہو جاتی ہے ۔اس لیے خدا راہ کسی کے ساتھ کھلواڑ نہ کیجیے گا اور اگر وقت گزرانا ہے تو خود کے ساتھ گزاریں ۔کسی کے ساتھ برا کرنے سے پہلے مکافات عمل کا ضرور سوچیں کہ اگر میں نے برا کیا تو شاید میری بہن اور بھائی کے ساتھ بھی برا ہو گا اور اس کا ذمے دار میں ہوں گا یا ہوں گئی ۔چلیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ کبھی کسی کا برا نہیں سوچیں گے اور نہ ہی کسی کی پریشانی کا باعث بنیں گے ۔آپ کوشش کریں گے ناں ؟