کامیاب راستہ کون سا ہے؟
دنیا کے کامیاب ترین افراد کی لسٹ میں جو نام نمایا ں ملیں گے ان میں ٹاپ پر پیغمبر آتے ہیں۔حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کا نام آتا ہے۔لسٹ مرتب کرنے والے نے عقیدت کی بجائے حقائق کو ہیمانہ بنایا تو محمد صل اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نام۔اس پیمانہ پہ پورا اترتا نا دکھائی دیا
۔میرے آج کا موضوع کامیاب انسان ہیں۔سییلف ہیلپ کی ساری کتابیں ساری تقریریں کامیابی اور کامیاب لوگوں کے گرد گھومتی ہیں۔مگر جب ریسرچ کی جاتی ہے تو جگہ بنانے میں پیغمبر نمایاں رہے ۔۔۔اس سوال پہ غور کیا تو پتہ چلا انبیاء دنیا میں سب سے بڑے عہدے پر فائز ہوتے اور یہ عہدہ وہ اپنی محنت سے یا خواہش سے نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی طرف سے ان کو ودیعت کیاجاتا ہے۔آخر ان میں کیا خوبی ہوتی ہے؟جدید ذہن کا طالب علم جب اس سوال کا جواب تلاشتا ہے تو اسے پتہ چلتا کہ دنیا میں کامیاب وہ ہے جو روحانی طور پر سب سے آگے ہے اور انبیاء بلاشبہ اس خوبی سے لبریز ہوتے ہیں اور اپنے عہد کے سب سے پارسا نیک اور روحانی انسان ہوتے ہیں جبھی ان کو اس عہدے سے نوازا جاتا ہے۔
ہم روحانی طور پر مضبوط کیسے ہو سکتے ہیں؟
ہم تبھی روحانی طور مضبوط ہو سکتے ہیں جب ہم سب سے عظیم۔انسان حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کو حرز جان بنائیں گے تبھی وہ مقام حاصل ہوگا جو ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی سے نوازے گا۔
ربیع الاول کا مہینہ اس عظیم ترین انسان کے لیے مخصوص ہے حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ آنے والی ساری صدیاں ان کے نام ہیں۔دنیا آج بھی اس مینارہ نور سے روشنی کی ایک جھلک پانے کے لیے صدیوں پہلے اتری اس رات سے فیض یاب ہونا چاہتی ہے جس رات نبی تحمت دنیا میں۔تشریف لائے،یققینا محبت اور عقیدت کی اعلی معراج ہے مگر محبت کے دستور نرالے ہوتے ہیں۔محبت جس سے کی جاتی ہے اس کی خواہش اس کا طریقہ سب سے اہم ہوتا ہے
مگر یہاں تو بات ہی پوری زندگی کے نصاب کی ہے جب مقصد ہی نصاب حیات میں تبدیلی ہوتو اپنی خواہشیں آرزوئیں بہت پیچھے رہ جاتیں ہیں۔کاش یہ بات اس امت کو سمجھ آجائے جو محبوب کو پانے نکلے ہیں مگر محبوب کی بجائے اپنی خواہش کو مطلوب بنائے۔اللہ ہم سب کو اس راستے کا۔مسافر بنائے مگر اس راستے پر رہتے ہوئے جو مصطفی جان رحمت لے کر آئے وگرنہ باقی سب باطل ہے۔مقبول و منظور صرف وہی طریقہ ہے جس پہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی مہر ہے آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان محبت کے ان متوالوں کے نام جو اپنے طریقے سے محبت تلاشنے نکلے ہیں من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد “جس عمل پر میرا حکم نہیں وہ رد ہے”
کامیاب راستہ کون سا ہے؟