کرم پاڑہ چنار کے اسپتالوں میں آج بھی ڈاکٹر بیٹھتے ہیں۔ اُن کی میز پر اب بھی پرچیاں رکھی جاتی ہیں۔ انتظار گاہوں میں آج بھی ماں، باپ، بیٹے، بیٹیاں بیٹھے ملتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ڈاکٹر دوا نہیں دیتے، دلاسے دیتے ہیں۔ اب زخموں پر پٹیاں نہیں رکھی جاتیں، تسلیاں رکھی جاتی ہیں۔
سات مہینے ہو گئے۔ کرم کے راستے بند ہیں۔ سانسیں بند ہو رہی ہیں۔ ماؤں کی گودیں سونی ہو گئیں۔ باپ کی نظریں اُداس ہو گئیں۔ اور دکان…؟ وہ تو کب کی بند ہو چکی۔
بلکتے بچوں کی تعداد اب شمار سے باہر ہے۔ کوئی کہتا ہے ڈیڑھ سو، کوئی کہتا ہے دو سو۔ لیکن ماں کے آنسو کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔
پہاڑوں کا تیس کلومیٹر، اب تین سو کلومیٹر کا عذاب بن چکا ہے۔ افغانستان کا رستہ بھی بند۔ اب جلال آباد سے طورخم کا چکر بھی خواب بن چکا۔
ریاست کہاں ہے؟
کیا ریاست کے پاس امن کا بجٹ نہیں؟ وسائل نہیں؟ یا… نیت نہیں؟
بات سیدھی سی ہے۔ وسائل ہیں۔ حل موجود ہیں۔ لیکن وہی پرانا مسئلہ… نیت کا جنازہ نکل چکا ہے۔
کرم کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے پہاڑ سونا اُگلتے ہیں۔ اور جہاں زمین سونا اُگلتی ہے، وہاں خون ارزاں ہو جاتا ہے۔
یہاں جنگ ایک ضرورت ہے۔ تنازعہ روزی کا وسیلہ ہے۔ بندوقوں کا شور ہی ہمارے چولہے جلاتا ہے۔ جنگ ختم ہو تو ہم کوئی نیا محاذ کھول لیتے ہیں… اپنے ہی ملک میں۔
جب اسلحہ آسانی سے دستیاب ہو، دہشت گردوں کے ٹھکانے سب کو معلوم ہوں، اور پھر بھی ان پر ہاتھ نہ ڈالا جائے — تو سمجھ لیجیے، یہ جنگ نہیں، ایک منظم کاروبار ہے۔
اور جو امن کی بات کرے؟ اس پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔
پھر کرم کے نوجوان اسلام آباد آئے۔ ہر در کھٹکھٹایا۔ ہر طبقے کو مخاطب کیا۔ آواز اُٹھائی۔
اور سب نے مانا — یہ فرقہ واریت نہیں، یہ زمین کا تنازعہ نہیں، یہ بااختیار لوگوں کی مجرمانہ خاموشی ہے۔
ان نوجوانوں نے کیا مانگا؟
کالج؟ نہیں
یونیورسٹی؟ نہیں
سڑک، اسپتال؟ نہیں
انہوں نے صرف ایک چیز مانگی — امن۔
اور انہیں کیا ملا؟
خاموشی۔
کیونکہ ہم اس وقت سرحد پار کی الجھنوں میں الجھے تھے۔ ہم عالمی طاقتوں کے ساتھ کشمکش میں تھے۔
اب کچھ فرصت ملی ہے شاید۔
کیا اب ہم کرم کی طرف پلٹ کر دیکھیں؟
یا جنگ ابھی کچھ اور منافع دے سکتی ہے؟
کرم: جہاں دلاسے دوا بن گئے ہیں