ہم منفرد کیوں نہیں؟جانیے وہ راز جس کی وجہ سے ہم آج تک دنیا سے پیچھے ہیں۔
ہم پاکستانی کیوں دنیا سے اتنا پیچھے ہیں کیوں ترقی پزیر ہیں ترقی یافتہ نہیں؟ حالانکہ اللہ نے ہمیں سوچنے کے لیے دماغ اور کام کرنے کے لیے دو ہاتھ اور دن میں چوبیس گھنٹے عطا کیے ہیں جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کو دیے ہیں
یہ ایک راز کی بات ہے جسے ہم سمجھنے کو تیار نہیں اور اسے سمجھ بغیر ترقی کرنا مشکل ہی نہیں۔ناممکن بھی ہے
سوچیں جب اللہ نے ہم سب انسانوں کو ایک دوسرے سے مختلف بنا یا ہے تو پھر ہم مختلف کیوں نہیں؟ دنیا میں چار ارب لوگ ہیں سب کے فنگر پرنٹس آنکھ کا ریٹینا ، اور کان ایک دوسرے سے نہیں ملتے،یہی معاملہ قد اور دیگر جسمانی ساخت کا ہے مگر آپ غور کریں ہم لوگوں کی عادات ایک جیسی کیوں ہیں؟
کیونکہ ہماراسوچنے کا انداز ایک جیسا ہے سوچ مختلف کیوں نہیں؟
آپ اس حقیقت کو سمجھیں آپ دنیا میں ایک منفرد انسان ہیں آپ جیسا کوئی اور نہیں،نا اس سے پہلے کوئی آپ جیسا آیا اور نا ہی آئے گا۔
یاد رکھیں!نقل اصل ہی نہیں آپ کی شخصیت آپ کی یگانگی آور آپ کی صلاحیتوں کو تباہ برباد کر کے رکھ دہتی ہے۔نقل کرنا چھو
ڑدیں۔اپنا کام ڈھونڈیں اپنے اندر اتریں غوط لگائیں اور کچھ ایسا کر دکھائیں جس کے لیے اللہ نے آپ کو پیدا کیا ہے۔کوئی ایسا کام کوئی ایسا ہنر جس کے لیے آپ بنے ہیں جو آپ سے اچھا کوئی اور نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ نے آپ کو اسی کام کے لیے پیدا کیا ہے۔
بس ہمارے اور اس کام کی راہ میں ایک ہی رکاوٹ ہے وہ ہے ہماری سوچ ہم مرجاتے ہیں مگر سوچنا گوارا نہیں کرتے،ہماری سوچ اس ایک بات سے آگے نہیں۔بڑھ پاتی کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے یقین کریں سکے کے دو رخ ہی نہیں بلکہ ہزاروں رخ ہو سکتے ہیں۔
ہماری سوچ پسماندہ کیوں؟
قاسم علی شاہ موٹیویشنل کوچ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمارے دماغ میں بھی راستے اور پگڈنڈیاں ہوتی ہیں۔ جب ہم کوئی چیز سوچتے ہیں تو ایک نامعلوم سی لکیر بن جاتی ہے۔ بار بار سوچنے سے وہ لکیر نمایاں ہونے لگتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ کسی کھیت کے درمیان سے پہلی بار گزریں تو آپ کو راستہ نہیں ملتا مگر بار بار گزرنے سے راستہ بننا شروع ہو جاتا ہے اسی طرح پہلی بار کوئی نئ بات سوچنے سے دماغ شور مچاتا اور رولا ڈالتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا اصل میں دماغ کو عادت ڈالنی پڑتی ہے
تب وہ سوچنا سیکھتا ہے۔نئی منفرد اور تخلیقی سوچ کے لیے زمین یعنی دماغ کو ہموار کرنا پڑے گا،پھر اس میں بیج ڈالیں گے تو وہ پھوٹ نکلے گا ،برگ وبار لائے گا اور پھلے پھولے گا۔سوچ بدل کر ہم اپنے اور اپنے اردگرد کا ماحول بدل سکتے ہیں۔ترقی کے سارے راستے سوچ سے شروع ہوتے ہیں۔پھر عمل بنتے ہیں۔پاکستان پہلے کسی کی سوچ میں بنا پھر دنیا کے نقشے پہ نمودار ہوا۔کسی سائنس دان نے کیا خوب کہا ہے کہ جو ہم سوچ سکتے وہ کر بھی سکتے،قدرت ہمارے دماغ میں وہی چیز ڈالتی ہے جو ہم کر سکتے۔تو آج کے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم منفرد کیوں نہیں؟