ہمارے اقبال
نو نومبر اس عظیم الشان انسان کی ولادت کا دن ہے جنہیں جننے کے لیے ماوں کو صدیوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔تب جا کر اقبال جیسے دیدہ ور پیدا ہوتے ہیں ۔میں کہتی ہوں اقبال کو سمجھنے کے لیے بھی ایک دن نہیں بلکہ برسوں چاہیے تب ان کا فلسفہ ان کی سوچ ان کی فکر کی گہرائیاں سمجھ آتیں ہیں اور ایسے ہی نہیں آتیں غوط زن ہونا پڑتا ہے تب ادراک ہوتا ہے کہ ہم اقبال کی صورت میں کس مرشد عظیم سے نوازے گئے جو ہمارا نہیں۔تمہارا نہیں بلکہ سب کا اقبال ہے۔

ایسے ہی تو دنیا ان پہ فداء نہیں ہے ایران اور فارسی سمجھنے والے ان کو اپنا پیر مانتے ہیں ۔یہ وہ ستارہ ہیں جو ہندوستان میں ابھرا یورپ میں چمکا اور یورپ سے آنے کے بعد ٹمٹمانے لگا۔اس کی جگمگاہٹ اور افکار کی روشنی ٹھہرے ہوئے پانی میں ارتعاش بن کر ابھری ،دلوں کی بنجر زمین جو غلامی کی چکی میں پستے پستے جام ہو چکی تھی میں ہلچل برپا کر دی۔ایسی ہلچل جو آزادی کے لیے تڑپ بن گئ۔یہ ٹڑپ پاکستان کی صورت میں سامنے آئی۔
آج بھی امت کی کشتی ہچکولے کھا رہی۔کوئی مرشد ہندی نہیں ہے جو ان کو جگائے مگر اقبال کی شاعری اور پیغام کی صورت میں یہ دوا موجود ہے نوجوان۔نسل کو بڑے پیمانے پر اقبال سے ملانے متعارف کروانے کی ضرورت ہے اپنی زندگی میں اتنا کام۔کر جائیں کہ اپنی نسل۔کو قرآن۔کے اس شاعر سے ضرور ملوا جائیں۔بطور والدین بطور مصنف بطور ٹیچر بطور کالم۔نگار بطور کہانی کار آپ کا فرض ہے کہ وقت کے لمحات میں سے کچھ لمحات ان کو سمجھنے پہ۔لگائیں پھر آگے سمجھائیں۔۔کیونکہ میرے نہیں آپ کے نہیں۔سب کےاقبال ہیں اللہ ان سے راضی ہو۔آمین
ہمارے اقبال