۔۔۔۔۔۔
آیا صوفیہ میں چھیاسی برس بعد نماز جمعہ کی ادائیگی ایک تاریخی اور روح پرور منظر دیکھنے میں آیا۔صبح پانچ بجے سے پہلے ہی مسجد میں نماز جمعہ کے خواہش مند جوق در جوق آنا شروع ہوگۓ تھے۔آیا صوفیا کی گلیوں میں رش ہی رش تھا جبکہ ابھی نماز میں لمبا وقت ن
باقی تھا۔ایک اندازے کے
مطابق ایک ملین لوگ یہاں تشریف فرما تھے۔جو ترکی کے علاوہ دیگر ممالک سے نماز جمعہ کے لیے تشریف لاۓ تھے۔
۔۔۔۔
ترک صدر طیب اردگان بھی اس تاریخی موقع پر موجود تھے ان کے ساتھ دیگر وزراء نے بھی نماز جمعہ کی سعادت حاصل کی۔ترک صدر نے کچھ آیات کی تلاوت بھی کی۔
۔۔۔۔
تاریخ میں جھانکین تو آیا صوفیہ کو بازنطینی شہنشاہ جسٹنین نے 537ء میں بطور چرچ تعمیر کیا۔جسے خلافت عثمانیہ میں مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد کمال اتاترک نے اسے مسجد سے میوزیم بنا دیا۔اس بات کو چھیاسی برس بیت گۓ۔گزشتہ دنوں ترک کی عدالت نے اسے دوبارہ مسجد بنانے کا اعلان کر کے ترک سمیت دیگر اسلامی ممالک کے لوگوں کے دل موہ لیے۔لوگوں نے اس اقدام کو خلافت کی واپسی قرار دیا اور اچھے وقت کی پشینگوئی بھی۔اللہ کرے ہم بحثیت مسلم امہ پھر سے وہ عروج حاصل کریں جس میں اتنی خوشحالی ہو کہ لوگ زکوتہ دینے کے لیے نکلیں تو کوئی لینے والا نا ہو۔نیل کے ساحل سے لیکر سب ایک ہی رسی میں پروۓ ہوۓ ملیں۔آمین
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر
421