455

ابن سینا،الرازی ،بقراط اور کرونا وائرس جیسی بیماریوں کا علاج

تحریر شئیر کریں

تحریر : روبینہ شاہین

ابن سینا اور رازی وہ مسلم سائنس دان گزرے ہیں۔جنہوں نے وائرس کا سب سے پہلے بتایا اور اس وقت بتایا جب ابھی مایکروسکوپ بھی ایجاد نہیں ہوئی تھی۔صرف یہی پر بس نہیں کیا بلکہ متعدی بیماریوں کے حوالے سے بھی بیماریوں کی درجہ بندی کی۔
۔۔۔۔

قرنطینہ ،وائرس اور ویکسین کے الفاظ اب د نیا کے لیے نۓ نہیں رہے۔قدیم طب کے بانی بقراط نے دنیا کو سب سے پہلے بتا دیا تھا کہ کچھ بیماریاں ایسی ہوتیں ہیں جو باقی بیماریوں کی نسبت زیادہ تیزی سے پھلتی پھولتیں ہیں۔جیسا کہ ملیریا ،ہیضہ،ٹی بی خناق اور کچھ بخار وغیرہ۔۔ان بیماریوں کو متعدی امراض کا نام دیا گیا۔جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں تیزی سے منتقل ہوتیں۔ اس دریافت سے بیماریوں کے حوالے سے پاۓ جانے والے بہت سے توہمات کا خاتمہ بھی ہوا۔اس سے قبل لوگ ان بیماریوں کے حوالے سے بہت سی خرافات میں مبتلا تھے۔

۔۔۔۔۔

وائرس کی دریافت


وائرس نہایت چھوٹے چھوٹے جرثومے۔۔۔جو انسانی آنکھ سے دیکھنا محال ہیں۔ان کے حوالے سے مسلم سائنس دانوں نے اپنی سمجھ بوجھ سے اس وقت بتا دیا تھا جب انھیں کسی انسانی آنکھ نے دیکھا تک نا تھا۔یعنی خوردبین کی ایجاد سے قبل ہی متعدی بیماریوں کا بتا دیا تھا اور مریض کے کپڑے اور برتن کے متعلق احتیاط کے حوالے سے تجاویز دے دیں تھیں۔القانون فی الطب ابن سینا کی مشہور کتاب ہے اس کتاب میں انہوں نے قرنطینہ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں ہیں جو آج بھی میڈیکل میں استعمال ہو رہیں ہیں۔اور یہ وہیں تجاویز ہیں جو چودہ سو سال قبل حکیم اعظم نبی کریمﷺ نے پیش کیں تھیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس علاقے میں وبا پھیل جاۓ اس سے نکلو مت اور کوئی باہر سے آنے والا اس بستی میں داخل نا ہو۔۔یعنی مکمل لاک ڈاون۔۔۔اور ایسی بیماریاں جن کا علاج نہیں ہوتا اور نا ہی کوئی ویکسین ان کا یہی بہترین علاج هے۔چونکہ یہ اہل ایمان سائنس دان تھے جن کا اوڑھنابچھونا اسلامی تعلیمات تھیں اس لیے انہوں نے اسی کو مدنظر رکھتے ہوۓ علاج معالجے میں مزید پیش رفت کیں۔اور یہی وجہ ہے کہ یہ آج بھی اتنی ہی مفید ہیں جتنی صدیوں پہلے۔۔۔جہاں تک قرنطینہ کی اصطلاح کی بات ہے۔تو ابن سینا نے اسے ان بیماریوں کے لیے اکسیر قرار دیا جو ایک سے دوسرے میں منتقل۔ہوتیں ہیں۔قرنطینہ کا۔فلسفہ یہ ہے کہ چالیس دن تک علیدگی اختیار کی جا ۓ تاکہ وائرس کو کمزور کیا جا سکے۔اور قرنطینہ کا مطلب بھی چالیس دن ہی ہیں۔ا

ابن سینا پر ایک فلم بنائی گئ جس کے ایک منظر میں دکھایا گیا ہے کہ البیرونی ابن سینا سے ملنے آتے ہیں ۔۔۔البیرونی نے جب مصافے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ابن سینا نے ایسا نا کیا۔البیرونی حیران ہوۓ تو ابن سینا نے کہا کہ اس میں کالی موت یعنی طاعون چھپی ہے اور سرکے کے ساتھ کپڑا لانے کو کہا تاکہ اس سے ہاتھوں اور منہ کو صاف کیا جا سکے۔واضح رہے کہ سرکہ زمانہ قدیم سے ہی جراثیم کش ہے۔اور جراثیم مارنے کے لیے استعمال ہوتا آیا ہے۔ابن سینا نے کرونا جیسے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والےفرد کے لیے بھی سرکہ سے ہاتھ منہ صاف کرنے کی ہدایات دیں ہیں۔یہ بہترین قدرتی سینیٹائزر ہے۔ابن سینا نےمزیدکہا کہ جب اس طرح کی بیماری پھیل جاۓ تو بازار اور مسجدیں بند کر دو۔۔۔لوگوں سے میل جول منقطع کر دو اور انتشار سے بچو۔ناک منہ اور ہاتھوں کو صاف رکھو۔۔۔
ابن سینا کا مشہور قول ہے الوہم نصف الداء یقین نصف الدواء یعنی وہم آدھی بیماری اور یقین آدھی شفاء ہے۔اور صبر شفاء کا آغاز ہے۔
۔۔۔
ویکسین اور ابن رازی
۔۔۔
ابن رازی وہ پہلا مسلم سائنس دان ہے جس نے چیچک کے امراض کی ویکسین دریافت کی۔چیچک اس دور کی کرونا وائرس سے بھی مہلک بیماری تھی۔جس میں مبتلا افراد کو پہاڑوں اور جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔الرازی اپنے وقت کا ماہر طبیب تھا اس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر چیچک اور خسرے پر تحقیق کی اور ایک کتاب الجدری والحصبہ لکھی۔۔جو آج بھی یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔انسایکلو پیڈیا بریٹینیکا نے الرازی کے اس عظیم کا م کا زکر کیا ہے۔الرازی کے اس کارنامے کو ایک انگریز کے نام سے منوب کرنا سراسر ناانصافی ہے۔الرازی نے متعدد امراض پہ ریسرچ کرکے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔
۔۔۔۔
خلاصہ
ابن سینا اورالبیرونی کی متعدی امراض پر گفتگو ہمیں بتاتی ہے کہ کرونا وائرس سے کیسے بچنا ہے۔
مسلم۔سائنس دان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔انکی ایجادات کا تحفظ ہمارا فرض ہے۔اس قیمتی ورثے سے مدد لے کر ہم میڈیکل کی دنیا میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں