714

ابن عربی ( شیخ اکبر)

تحریر شئیر کریں

ابن عربی ( شیخ اکبر)

تحریر : لبنٰی جمشید

ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ابن عربی کے شاید نام سے واقف ہوں اور کچھ ایسے بھی ہونگے جو ان کے بارے میں جانتے تو ہیں مگر وہ اس شک و شبہ میں مبتلارہتے ہیں کہ تاریخ کی کتابوں میں ان کے متعلق جو روایات اور قصے بین کیے گے ہیں کیا وہ مستند ہیں یا پھر ایک سے دوسرے فرد کی ترسیل کے بعد ان میں بہت سی ایسی باتیں شامل کر دی گئی ہیں جن کی صداقت پر عام مسلمان کو شبہ ہو سکتا ہے۔ ابن عربی کا ایک آسان تعارف مشہور زمانہ ڈرامہ ارطغرل غازی میں موجود ہے۔

حلب جاتے وقت ارطغرل کی راستے میں جن بزرگ ابن عربی سے ملاقات ہوتی ہے اور پھر یہ ملاقات پیر و مرشد کے رشتہ میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ شیخ ابن العربی کو ارطغرل اپنا مرشد مان لیتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے ابن عربی کے دل میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ ارطغرل مشکل میں پھنس گیا ہے اور پھر شیخ ابن عربی ارطغرل کی کامیابی اور دشمنوں کے شکنجے سے چھٹکارا پانے کیلئے دعا کرتے ہیں اور اچانک کسی نہ کسی طرح کی ارطغرل کو مدد مل جاتی ہے جس سے وہ دشمنوں کے ہاتھ سے نکلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

یہ ان کی دعا اور کرشمے کی صرف ایک جھلک ہے جسے ڈرامہ سیریل میں موقع کی مناسبت سے جگہ دی گئی ہے۔ ابن عربی کی زندگی کے حالات و واقعات کا مستند اور تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد میں جو معلومات آپ تک پہنچائی جا رہی ہیں ان میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

ابن عربی کون ہیں؟

آپ کا پورا نام شیخ اکبر ابوبکر محی الدین ”(دین کا ذندہ کرنے والا )  محمد ابن عربیخ الحاتمی الطائی الاندلسی ہے۔اکثر مآخذ میں اُن کی کنیت ابوبکر لکھی ہوئی ہے جبکہ کچھ تذکرہ نگاروں نے عبداﷲ کو درست قرار دیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے عہد میں اِن دونوں حوالوں سے معروف رہے ہوں۔ آ پ مشرق میں ابنِ افلاطون اور ابنِ سُراقہ کی کنیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ابنِ عربی اپنے عقیدت مندوں اور مقلدوں میں ’’شیخِ اکبر‘‘ کے خطاب سے خاص شہرت رکھتے ہیں، لقب ’’محی الدین‘‘ ہے۔

آپ کے پیشے کے بارے میں بات کی جاۓ تو آپ کو فلسفی, شاعر اور مصنف کہا جا سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ آپ کی پہچان صوفی ازم کے بانی کے طور پر کرنا بالکل بھی غلط نہیں ہے۔ بہت سے اولیاؤں کے مطابق تصوف میں وحدت الوجود کا تصورسب سے پہلے ابن عربی نے ہی پیش کیا تھا۔

انکی فکر کا دائرہ کار صرف تصوف کی حد تک نہیں بلکہ اسلامی و سماجی علوم پر ان کی گہری گرفت انکی لکھی ہوئی کتابوں سے چھلکتی ہے۔ ان کی کتب قرآن کی تفسیر، علمِ حدیث، اصولِ فقہ، صرف و نحو، سیرت، وقائع نگاری، نفسیات، مابعدالطبیعیات اور زمان و مکان کے پیچیدہ مسائل کے بارے میں سیر حاصل معلومات کا انسائیکلو پیڈیا ہیں.

ایران کے مشہور عا لم اور محقق سیّد حسین نصر اپنی کتاب Three Muslim Sages” ” (تین مسلمان فیلسوف اُردو مترجم محمد منور) میں ابن عربی کا ذکر کچھ ان الفاظ میں لکھا ہے۔

’’ ابن عربی کے ظہور میں آنے کے ساتھ ما بعد الطبیعیات و کونیات اور نفسیات و انسانیات کی رو سے تصوف کے بارے میں ہمارا واسطہ اچانک ایک ایسے وسیع الحدود اور کامل نظریے سے پڑتا ہے، جہاں بادی النظر میں تصوّف کی روایت ٹوٹتی ہوئی یا خود تصوّف کے اندر ہی ایک نیا موڑ اختیار کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔‘‘

ابتدائی حالات زندگی

مشرقی اندلس (اسپین) کے شہر مریسہ میں 1165 میں پیدا ہوۓ۔
ابن عربی نے زندگی کے ابتدائی ا یّام مُرسیہ میں گذارے پھر اس کے بعد والد صاحب اشبیلہ لے کر روانہ ہوۓ۔ اس دوران مختلف علوم میں دسترس حاصل  شروع کر دی۔

یہاں تقریبا تیس سال کا عرصہ گزارا اور ابوبکر محمد بن خلف اور ابو القاسم عبدالرحمن الشرائط القرطبی سے قرآت سبعہ کی  تعلیم لی۔

1198 تک ابن عربی اندلس اور شمالی افریقہ کے مختلف شہروں میں زندگی کے دن گزارتے رہے۔ صوفیا و علماء سے علمی و روحانی شرف کے لیےملاقاتیں کیں۔ معتزلہ جیسے مختلف الخیال لوگوں سے بحث و مناظرہ بھی کیا جو اسلام کی عقلی و استدلالی تعبیریں کرتے تھے۔ اس دوران میں وہ تیونس تک گھوم پھر آئے، جہاں اُنھوں نے ’’خلع النعلین‘‘ کا مطا لعہ کیا جو ابن قسیسی کی تصنیف ہے ۔ علاوہ ازیں وہ المریہ میں بھی گئے، جو ابن مسرہ اور ازاں بعد ابن العارب کے مکتب و مسلک کا مرکزی مقام تھا
بحوالہ شیخ کتب جلد پنجم

1201 میں خانہ کعبہ کی زیارت کے لی مکہ روانہ ہوۓ ، اسی مقام پر فتوحات مکیہ کے لکھنے کا آغاز ہوا، دورانِ قیامِ مکہ ایک اصفہانی خاتون سے ملاقات ہوئی جو حد درجہ حسین، پارسا اور تصوف کی طرف طبعی رجحان رکھتی تھی۔ وہ اس سے متاثر بھی تھے۔ لیکن اس بات کی ٹھوس دلائل موجود نہیں۔ مکہ سے واپسی پر ترکی چلے گے اور قونیہ میں رہائش اختیار کی۔

جوانی میں آپکو سرکاری ملازمت کاتب (سیکرٹری) کے طور پر ملی جو دیوان سلطنت کا اہم عہدہ تھا ۔ اپنے روحانی تجربہ کے بعد آپ نے ملازمت کرنے سے انکار کر دیا اور طریقہ کے دوسرے لوگوں کی طرح فقر کو اپنا شعار بنایا۔ آپ کے مرشد شیخ یوسف بن یخلف الکومی کو خبر پہنچی کہ ابن عربی اپنا وقت مختلف قبرستانوں میں گذارتے ہیں انہوں نے لکھ بھیجا کہ ابن عربی نے زندوں کی مجلس کو چھوڑ کر مردوں کی مجلس اختیار کر لیا ہے ۔ا بن عربی نے انہیں پیغام بھیجا کہ آپ خود آکر دیکھیں کہ میں کن لوگوں کے ساتھ مجلس لگاتا ہوں۔ ‭”‬

تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ابن عربی ارواح کو حاضر کر کے گفتگو کرتے تھے اور انہوں نے حضرت خضر سے بھی تین ملاقاتیں کی۔۔ اس بات کی تصدیق و تحقیق بہت سے محققین نےبھی کی ہے جن میں عبدالعزیز سعید کا حوالہ اہم ہے۔ اس کے علاوہ ان کی اپنی کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ وہ خاتم الاولیا۶ ہیں, واللہ علم۔۔
(فتوحات مکیہ۔ جلد سوم۔ ص ۴۵)۔

لڑکپن کا ایک قصہ

نوجوانی کے دور میں آپ اپنے گھر کے قریب ایک پنساری کی دوکان پر فارغ وقت میں بیٹھا کرتے تھے ، جو جڑی بوٹیاں بیچتا تھا ۔ ایک روز دوکاندار کی غیر حاضری میں آپ وہاں پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خوبصورت لڑکا آیا اور آپ کو دوکان کا مالک سمجھتے ہوئے آپ سے ایک خاص پودے کے سفید بیج مانگے۔ آپ ہنس دیئے اور پوچھا کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ لڑکے نے کہا کہ اسے ایک تکلیف ہے ، جس کا علاج ایک عورت نے اس پودے کے سفید بیج بتایا تھا ۔ آپ کے چچا نے کہا کہ میں تمہاری لاعلمی کے سبب ہنسا تھا ، کیونکہ اس پودے کا بیج سفید نہیں سیاہ ہوتا ہے ۔ اس پر لڑکے نے کہا: چچا میری اس بارے میں لاعلمی کا مجھے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچے گا ،لیکن آپ کی اس سے غفلت آپ کے لئے بہت نقصان کا موجب بنے گی،بالخصوص جب کہ آپ عمر رسیدگی کے باوجود
مخالفت پر اڑے ہوئے ہیں ۔ یہ بات ابن عربی
کے دل کو لگی اور ان کے اندر ایک انقلاب برپا کرنے اور ان کے طریقہ کی طرف رجوع کا باعث بنی ۔
(فتوحات مکیہ۔ جلد دوم۔ ص ۱۸)

ابن عربی اور فلسفیانہ تصوف

فلسفہ اسلامی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ امام غزالی، الکندی، ابن رشد، ابن سینا اور ابن خلدون وغیرہ نے مخصوص علوم پر الگ الگ اصناف میں لکھا اور نام پیدا کیا ہے جبکہ ابن عربی کا اسلوب اپنے متقدمین، متا خرین اور معاصرین سے مکمل طور پر منفرد رہا۔ وہ کثیرالاجزا علوم کو ایک لڑی میں پیرونےکے بعد نتائج اخذ کرنے کا رجحان رکھتے تھے۔۔ ان کا نظامِ فکر کثرت میں وحدت کا نظارہ کرنے پر قادر ہے۔ اُن کے ہاں فکر کے تمام سرچشمے، کائنات کی سچائیوں کو سمیٹ کر ایک ایسا ”کل“ کی شکل تشکیل دیتے ہیں جہاں سچائی نُور کی صورت مجسم ہو کر اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ شیخ اکبرکی فکر کا نقطہ فلسفہ وحدت الوجود ہے۔

وحدت کایہ عرفانی تصوّر اُن کی فکر کا ایک عنصر ہے, یہ عنصر علوم و فنون کی درجہ بندی اور نتائج کی ترتیب کے دوران پوری طرح فعال نظر آتا ہے۔ ان کی تحریروں میں انتہائی گہری بصیرت اور رموز جہانِ کے معنی پوشیدہ ہے۔

بحوالہ قصوص العلوم (نذیر پبلشرز، لاہور، طبع اول۱۹۹۲)

وفات

آخرکار ملک ملک کا سفر کرنے اور بہت سے تجربات کے بعد آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک عادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ مطابق 1220 وفات پائی , آپ کو اوجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، محقق نصر صابر کہتے ہیں کہ مجھے۰ 1980 میں وہاں پر حاضر ہو کر دعا کرنے کی اور 1989 میں جانے کی سعادت نصیب ہوئی ، جہاں پر ابن عربی کی کوئی یادگار نہیں پائی جاتی ۔ صرف کجھوروں کا ایک جھنڈ ہے جس کے پاس قبر مبارک ہے۔
.
( فنون۔ لاہور۔ شمارہ ۴۵۔ جنوری۔اپریل ۱۹۹۵ ء

وہ اللہ کے ولی تھے, خاتم الاولیا۶ تھے فلسفی شاعر یا کچھ بھی ہو سکتے ہیں مگر ہمارا منشور اچھائی اور سچائی کے رستے کو فالو کرنا ہے ان کی اچھی باتیں اور طریقیت کے پہلوؤں سے اپنی روحانی زندگی کے اندھیروں کو روشنی سے منورکرنا ہے۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ ان کا درجہ یا مقام کتنا بڑا یا پھر کس سے مطابقت کرتا تھا۔

ابن عربی محققین کی نظر سے

سیّد حسین نصر اپنے مقالہ میں شیخ ابن عربی کے بارے میں لکھتے ہیں

’’ ۵۹۵ھ( اور جہاں Asin Palacios کے بقول ابن عربی نے تصوف کی راہ میں پہلا قدم رکھا تھا۔‘‘

ابن عربی کی زندگی کا یہ دور ذات صفات کی معرفت اور کشف و الہام کے حوالے سے خاصا اہمیت کا حامل ہےیہاں سے ہی ان کے روحانی قویٰ کی استعداد انور علمِ نظری کے در وا ہونے کا عمل تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا تھا۔ سیّد حسین نصر کا ایک اور بیان ملاحظہ ہو:

’’ ان سالوں کے دوران شیخ کو عرفانی مشاہدا ت کا تجربہ ہوتا رہا۔ ان کو رجال الغیب کے سلسلہء مراتب کا، جوکائنات کے حاکم ہیں، پہلے ہی سے مشاہدہ ہو رہا تھا۔ اُن میں سے ایک قطب ہے، دو امام، چار اوتاد ہیں جوبنیادی اطراف کے فرماں روا ہیں۔ سات ابدال ہیں، ان میں سے ہر ایک کا اثر ایک اقلیم پر ہے۔ بارہ نقباء ہیں جو بارہ بروج پر حکمرانی کرتے ہیں۔ آٹھ نجبا ہیں جو آٹھ آسمانی طبقات سے مماثل ہیں۔‘‘ ۴؂

اس کے علاوہ ان کے افکار و نظریات پر تحقیق و تنقید کے بے مثال مطالعات خاص طور پر، ہنری کاربن(Henry Corbin)، آسین پھلاسی اوس (Asin Palacios)، اے۔ ای عفیفی، (A.E.Afifi)، محمد طاہر، عبدالعزیزسیّدالاہل، کارل بروکلمان، حا جی خلیفہ، ایچ۔ ایس۔ نیبرگ (H.S.Nyberg) جعفری کلیمی، سید حسین نصر، کلاڈ اڈیس (Claude Addas)، آر۔ ڈبلیو۔ جے۔ آسٹن، پی۔ کوٹس(P.Coates)، رالف آسٹن ) (Ralph Austin، ولیم چیٹک (william chittick)، مچل ہیڈ کیویچ (Michel Chodkiewich) ،(Jane Clark)، محمد برکت اﷲ لکھنوی فرنگی محلی، ماجد فخری، ڈاکٹر محسن جہانگیری، ایس۔ اے۔ کیو۔ حسینی اور محمد سہیل عمر وغیرہم کی مسلسل علمی کاوشو ں کا ذکر بے حد ضروری ہے کیونکہ انہی فاضل اصحاب کی بدولت ابن عربی تک عام لوگوں کی رسائی ممکن ہو سکی۔ حال ہی میں ’’ فصو ص الحکم‘‘ کا انگریزی ترجمہ ”The Bezels of Wisdom”، آر۔ اے۔ آسٹن کے قلم سےلکھا گیا ہے اور علمی حلقوں میں پڑھا جا رہا ہے۔

تصانیف

یوں تو ابن عربی کی تصانیف کی تعداد پانچ سو سے زیادہ ہے لیکن ان کی چند تصانیف بے حد مشہور ہیں ان کا عربی سے اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔

فصوص الحكم اور الفتوحات المکیہ 4000 صفحات پر مشتمل ہے۔ فتوحات المكيۃ 560 ابواب پر احاطہ کیے ہوۓ ہے۔ اس کا ترجمہ فضل خان مرحوم نے کیا تھا۔

اس کے علاوہ ابن عربی کے چار رسائل بہت مشہور ہیں
شجرة الكونا
لكبريت الاحمر
الامر المحكم والمربوط
كتاب الاخلاق و الامر
ان کا ترجمہ 2001 میں لاہور میں محمد شفیع نے کیا ہے۔

ابن عربی ( شیخ اکبر)

ابن عربی اسلامی تاریخ کا ایک ہیرو جس کا ذکر ارطغرل غازی ڈرامے میںں ملتا ابن عربی ( شیخ اکبر)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں