489

اختیار اور بے اختیاری کا سفر

تحریر شئیر کریں

مالک الملک کا حکم ہوا ساری مخلوقات چرند پرند درخت بادل ہوا سب کے سب طوہا کراہا دوڑے چلے آۓ۔کیسے نا آتے مالک کا حکم تھا سرجھکاۓ ہاتھ باندھے حکم کی تعمیل میں کھڑے تھے۔حکم دے دیا گیا۔سب نے بہ راضی و خوشی اس کی تعمیل کا وعدہ کیا اور اپنی اپنی کوششوں میں جت گۓ۔صرف دو مخلوقات جن اور انسان کو اختیار کی قوت بخشی گئ۔وہ چاہے تو کرے نا چاہے تو نا سہی۔زور کوئی نہیں۔پھر اسی پہ بس نہیں کیا گیا اپنی مرضی سے سر جھکانے پہ انعام بھی رکھا گیا۔اور اس کے ساتھ ساتھ حکم عدولی پہ سزا کا وعدہ بھی کیا گیا۔اور اسی کا نام جزاوسزا ہے۔

اختیار اور بے اختیاری کا سفر شروع ہوا۔
حضرت انسان بہت خوش تھا ۔کیوں نا ہوتا اسے اختیار بخشا گیا تھا۔۔اس کی خوشی کے آگے ہر چیز ہیچ رہ گئ۔خوش تھا کہ باقی مخلوقات پہ برتری بھی ملی اور اختیار کی قوت بھی۔
سفر بہت دلچسپ تھا۔باقی مخلوقات اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتیں اور سو جاتیں۔اللہ اللہ خیر صلا۔جب کہ انسان دن کو رات اور رات کو دن بنانے کی تگ و دو میں بھول گیا کہ ایک وعدہ جزاء وسزاء کا بھی ہوا تھا۔یہ تھا اختیار کا ناجائز فائدہ جس نے انسان کو انسانیت سے گرا دیا۔جبکہ دیگر مخلوقات کے لیے انعام نہیں تھا تو سزا بھی نہیں تھی۔طوہا چلے آؤ نہیں تو کراہا آنا پڑے گا۔یہ مالک کا حکم تھا۔انسان کا سفر دلچسپ ضرور تھا مگر پیچدہ اور گنجلک بھی۔اس سفر میں سارا مسئلہ ہی اختیار کا تھا۔جس دن انسان نے اپنی مرضی چھوڑ کر مالک کی رضا کو اختیار کر لیا۔بندہ بن جاۓ گا۔طوہا آۓ گا تو برگ وبار لاۓ گا۔کراہا آے گا تو سفر مشکل بھی ہوگا اور کھٹن بھی۔بہر حال آنا تو پڑے گا۔

اختیار اور بے اختیاری کا سفر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں