500

“اخلاص اور ہمارے رویے “

تحریر شئیر کریں

رابعہ شیخ

لوگ کہتے ہیں کہ اس دور میں مخلص لوگ نہیں ہیں ۔ جب کہ میں یہ نہیں مانتی۔ میرا ماننا ہے کہ مخلص لوگ ہیں مگر وہ اپنا اخلاص لے کے کہاں جائیں کیونکہ اب تو لوگ اخلاص کو بھی اپنے معیار پہ جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی تو مخلصی اٹھا کے ان کے منہ مار دی جاتی ہے اور مخلصین یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ آخر ان کا قصور کیا تھا ۔

لوگوں کے مختلف نظریے ہیں کوئی ان کی مخلصی کو ہوشیاری کا نام دیتا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ ضرور کوئی مطلب ہوگا ۔ سمجھ نہیں آتا کہ وہ شخص جو آپ سے اتنا مخلص ہے وہ کیسے ثابت کرے کہ اس کا یہ عمل فقط اخلاص نیت پر مبنی ہے۔ وہ کیسے کہے کہ اس کے بدلے مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے وہ کیسے آپ کو یقین دلائے کہ وہ کوئی چالاکی نہیں دکھا رہا بلکہ وہ اپنے دل میں آپ کے لیے ایک نرم گوشہ رکھتا ہے اس لئے وہ آپ کی مدد کر رہا ہے یا آپ کی بہتری کے لئے کوشاں ہے ۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اس عدم اعتماد کی وجہ سے اچھے اور مخلص لوگ کھو دیتے ہیں ۔ یوں انسان انسانوں سے دور ہوتے ہوتے ہمیشہ کے لیے دور ہو جاتے ہیں۔

آخر ہم کہاں جائیں اپنی مخلصی لے کے
کہ اس دل نے تو ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں