401

اعلان فکر وعمل

تحریر شئیر کریں

چ23 مارچ کے موقع پر اپنے ہم وطنوں کی طرف سےاعلان فکروعمل

پروفیسر رف رف

اے واعظ ۔۔۔۔
میں آج اپنا چھوٹا سا دل سینےکی تاریکی سے نکال کراپنی ہتھیلی پر رکھ کر دیکھنا چاہتا ہوں۔
اس کی گہرائیوں کو اور اس میں چھپے رازوں کو ڈھونڈھنا چاہتا ہوں۔
اےواعظ خدا را۔۔
اپنے اعتقاد کے تیروں سے اس کی نگرانی ناکرو۔اپنے خوف سے اسے
پسلیوں کے پنجرے میں چھپنے پر مجبور نہ کرو
جب تک میرا دل حسن و محبت کے اسرار و رموز نہ پالے اسے آس و منشور پر یوں قربان نہ کرو۔
خدارا ۔۔۔ مجھے ۔۔نیند کےلحاف سےنکل کرجنگل میں جانے دو۔
بھیڑوں سے محبت کرنے دو۔
شیروں سے ہمکلام ہونے دو۔
وادی کےسانپوں کو ہاتھ میں لینے دو۔
اےواعظ ۔۔ !
کیوں میرے ہی خالق سے مجھے تم ڈراتے ہو۔
کیوں زمانےکاخوف میری روح میں بھرتے ہو۔
کیوں ممنوعات کا مسلہ ہمارے درمیاں لےآتےہو۔
کیوں امیری غریبی کی خلیج ہم میں بڑھاتے ہو
اےواعظ
مجھے مصائب سے گزر جانے دو۔
مجھے برائیوں سے خود نپٹنے دو۔
سنو ۔۔!
میرے خالق نےمجھے باصفت کیا ہے۔
میرے پاس چشم بصیرت ہےجو گناہ ثواب سے نم رہتی ہے۔
میرے پاس ضمیر ہےجو ممنوعات کی فہرست جانتا ہے۔
میرے پاس قناعت بھرا دل ہے جو غربت میں امیری کی رمزجانتا ہے۔
اےواعظ
مجھے نہ روکو ۔۔ خدا را مجھے جانے دو۔
دیکھو میرے ہر رستے کے دونوں جانب گلاب اور چنبیلی کے پھول بچھ چکے ہیں۔
فضا خوابناک اور مشک بار ہو چکی ہے۔
اے واعظ
مجھ پر اب اپنا آخری حربہ نا آزماؤ۔
مجھےسیاست اور اقتدار میں نہ الجھاؤ۔
مجھے معاف رکھو ۔۔
کہ ۔۔۔۔ یہ ساری زمین میرا وطن ہے
اور ۔۔تمام انسان میرے ہم وطن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں