زندگی بہت خوبصورت هے مگر ان لوگوں کے لیے جو اسکی خوبصورتی دیکھنے کی استطاعت رکھتے هیں۔زندگی بہت بد صورت هے مگر ان لوگوں کے لیے جن کی آنکھیں اور دل مایوسی میں ڈوبے هوۓ ہیں۔
بلاشبہ زندہ رہنے کی خواهش سب خواهشوں په بھاری هوتی هے۔مگر مایوسی اور ناامیدی کے بادل جب چھا جاتے ہیں تو بسا اوقات انسان اسی زندگی کے درپے هو جاتا هے۔اور کبھی کبھی وہ اس پہ عمل بھی کر بیٹھتا هےاور اپنے آپ کع ختم کر بیٹھتا هے۔۔
نا امیدی اور مایوسی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔جب بھی مایوسی حمله آور هو فورا سےجان لیں که یه شیطانی حمله هے۔
انسان مایوس کیوں هوتے هیں؟
جب الله پر ایمان اور توکل کمزور پڑتا هے تو انسان امید کی ڈوری کو چھوڑ بیٹھتا هے۔امید وہ ڈوری هے جس کا ایک سرا انسان کے هاتھ میں هوتا هے تو دوسرا خالق کے هاتھ میں۔۔۔
اللہ رحمن اور رحیم هے۔اس کی رحمانیت کی ایک اهم مثال ماں هے۔انسان تو کجا جانور بھی اپنے بچے پر اپنا سینگھ نہیں رکھتا۔۔۔اس رحمن اور رحیم الله سے انسان مایوس هو کر در در کی ٹھوکریں کھاتا هے۔
امید ہے کیا؟
امید وہ چراغ هےجو انسان کو اندھیرے میں بھی روشنی دکھا سکتا۔۔۔مولانا رومی کہتے ہیں کہ زخم کا سوراخ وه دروازه جهاں سے روشنی اندر داخل هوتی هے۔بن مصائب کے انسان کبھی سونا نہیں بنتے۔۔واصف علی واصف کهتے هیں جس کے اپنے اندر خوشی نهیں وه خوشیوں کے میلے سے بھی کچھ
حاصل نهیں کر سکتا۔۔نبیوں پیغمبروں نے مصائب برداشت کیے۔۔۔صبر کیا اور کامیاب ٹھرے۔
صبر اور برداشت وه سواریاں هیں جو اپنے مقابل کو کبھی گرنے نهیں دیتیں۔
قرآن کهتا هے
لا تقنطوا۔۔۔مایوس مت ہو
لا تحزن ۔۔غم نا کر
حدیث کے مطابق مایوسی کفر هے۔
اگر اعدادو شمار دیکھیں جائیں تواس وقت دنیا میں هر سال آٹھ لاکھ افراد خودکشی کرتے هیں۔ ہر چالیس سیکنڈ کے بعد انسان خودکشی کا مرتکب هو رها هے۔ریسرچ بتاتی ہے کہ ایسا کیوں هوتا کهانسان جان جیسی چیز اپنے هی هاتھوں ختم کر بیٹھتا۔۔۔نتیجہ یہ نکلا کہ اس انسان کی سب سے پہلے امید پہ حمله هوتا هے۔اور جب ایسا بار بار ہوتا تو پھر معاملہ خودکشی تک جا پهنچتا هے۔
۔۔۔۔۔
حدیث کے مطابق بد گمانی سب سے بڑا جھوٹ هے۔اور ہمارے معاشرے میں یه اس حد تک رچ بس گی هے که الامان۔۔۔انسانوں کی بڑی تعداد کی زندگیوں میں کوئی مقصد نهیں هے۔وہ زہنی طور پر فارغ هوتے هیں ۔اور فارغ دماغ شیطان کی فیورٹ جگه هے جهاں بیٹھ کر وه بدگمان کرتا هے۔دوسروں سے هی نهیں اپنے آپ سے بھی۔۔کبھی آپ نے غور کیا مایوس لوگ اپنے آپ سے هی بیزار دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔وه اپنی ذات سے پیار نهیں کرتے۔اعتماد نہیں کرتے۔اور یہ سارا کھیل ایک ماہوسی بھرے خیال سے شروع هوتا هے۔
۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز هونا هر ذی روح کا حق هے۔ اس وقت انسانوں کو مایوسی سے نکالنا سب سے اهم کام هے۔سمیرا حمید پاکستان کی بهترین ناول نگار هیں لکھتیں هیں که هر انٹلیکچوئل ہر رائٹر ہر وہ بندہ جو درد محسوس کر سکتا اس کا یه فرض هے که سب کام چھوڑ کر لوگوں کے اندر امید پیدا کریں۔امید بانٹیں۔۔امید پہ لکھیں۔۔۔
امید امید اور امید
457