348

انتخابات

تحریر شئیر کریں

محمد قاسم راجہ
تاریخ ملک و قوم کے تشخص اور وقار کا پتا دیتی ہے؛ انسانیت کے زوال و بقا کے انہونے اور حسین نقش سنبھالے ہوۓ تاریخ اپنے طالب علموں کی بہترین اُستاد ہے؛ یہ استاد ہے ان طلب رکھنے والوں کی جو اِس کے نشیب و فراز سے سبق افزوں ہونا چاہتے ہوں:
تقریباً ہر صدی کے بعد تاریخ انگڑائ لیتی ہے، اپنی بقا کے لیے اچھے اور بُرے کرداروں کا انتخاب کرتی ہے؛ اپنی بھوک مٹانے کے لیے غدار، کاہل، چاپلوس اور لاپرواہ کرداروں کو نگل جاتی ہے؛ اور خاص کر شعور، تشخص، انقلاب اور آزادی کی بقا کے لیے ہونے والی کھینچا تانی میں یہ ہر پگڈنڈی پر گھات لگاتی ہے۔
پیارے ہم وطنو! قریب ایک صدی ہونے کو ہے، انقلاب کی بھوکی اور خون کی پیاسی تارِیخ شدت سے بے چین ہے اور خطہِ کشمیر کی بقا اور وحدت کی جدو جہد بھی جوبن پر ہے. صرف انتخابات ہونا باقی ہیں؛ حلقہِ یاراں اور حلقہِ غداراں کا چناؤ باقی ہے:
جہاں پاک و ہند ریاست جموں کشمیر کے جغرافیائ، تاریخی تشخص کو ہڑپ کرنے کے چکر میں ہیں، وہی تاریخ خطہِ کشمیر کے کہساروں اور وادیوں میں انتخابات کی منتظر ہے؛ اسے بھوک مٹانے کو میر جعفر اور میر صادق کا انہونہ وجود درکار ہے.
ریاستی وحدت کی دعویدار سیاسی پارٹیوں اور اُن کے وفاداروں کے امتحان کا وقت ہے۔ تقسیم کے اِس کھیل میں پاکستانی آقاؤوں کی خوشنودی کے لیے دھرتی ماں سے آنکھ چُرانے والے سیاسی قائدین کی غیرت کی پرکھ کا وقت ہے؛ یہ وقت ہے میر جعفر اور میر صادق کی پیدائش کا، یہ وقت ہے وفاداروں کی آزمائش کا:
کشمیریو! یہ وقت ہے چُناؤ کا، یہ وقت ہے غیرت کے پاور شو کا، یہ وقت ہے جذبہ ایمانی کے امتحان کا، یہ وقت ہے تاریخ کو خون و انقلاب سے آراستہ کرنے کا، یہ وقت ہے اپنے شہداء سے عہد وفا نبھانے کا؛
اور یہ وقت ہے۔۔۔۔ یکجان ہو کر ناسوروں سے ٹکرانے کا۔
واللّٰه اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں