637

انٹرویو ہربلسٹ ڈاکٹر عطیہ بتول کریم

تحریر شئیر کریں

انٹرویوہربلسٹ ڈاکٹرعطیہ بتول کریم ملاحظ کیجیے قلم کتاب پر

طبیبہ عطیہ بتول کریم طب نبوی ﷺ کی سٹوڈنٹ ہیں۔اور ایم فل سکالر بھی۔صحت کے حوالے سے قلم کتاب ان سے کچھ نادر مشورے لے کر حاضر ہوا ہے۔شکریہ

س: تعارف کروائیں
نام،تعلیم،پیشہ،فیورٹ ہابی وغیرہ
عطیہ بتول کریم BEMS ایم فل سکالر

س:طب نبویﷺ کی اہمیت پہ روشنی ڈالیں کہ۔جدید دور میں طب اتنی اہم کیوں ہے؟

تندرستی اللہ رب العزت کی کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے۔نبی کریم ﷺ نے صحت کی حفاظت کا حکم دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہمارے فرائض میں شامل ہے کہ ہم اپنی صحت کی حفاظت کریں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ نے بیماروں کے علاج کے بارے میں فرمایا ہے کہ “اللہ کے بندو دوا کا انتظام کرو کیونکہ اللہ نے جو بھی بیماری پیدا کی اس کا علاج بھی رکھا ہے آپ ﷺ نے خود بھی علاج کیا اور صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کو بھی مختلف طبی اور روحانی علاج بتاۓ۔آپ ﷺ کے تجویز کردہ طریقہ علاج کو “طب نبوی”کہا جاتا ہے۔یہ طرہقہ علاج اس لیے بھی اہم ہے کہ آپ ﷺ نے تجوہز کیا۔جس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہے۔

طب نبوی ﷺ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ بیماری کو جڑ سے ختم کرتا ہے۔ بلکہ بیماریوں سے بچاؤ اور صحت برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔دور جدید میں طب نبویﷺ اس لیے بھی اہم ہے کہ آسان قدرتی طریقہ علاج ہے۔

س:ایلوپیتھی کے نقصانات کیا ہیں؟
ایلوپیتھی جسے جدید طریقہ علاج ہے جو ڈاکڑ حضرات کرتےہیں۔اس کے نقصانات معمولی نوعیت سے لے کر شدید نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔بعض اوقات تو انسانی جان تک چلی جاتی ہے۔جو نقصانات زیادہ تر دیکھنے میں آۓ ہیں ان میں سے قبض ،سکن پرابلم، دست ، لوز موشن ،دل گھبرانا اور چکر آنا؟سردرد اور منہ خشک ہونا،نیند کی کمی ؟ڈپریشن،خون کا بہاو جس سے انسان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ایلوپتھی کا دوسرا بڑا نقصان یہ کہ دوائی ایک وقت تک فائدہ دیتی ہے مگر اس کے بعد اثر کرنا چھوڑ دیتی ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ جسم کے دیگر حصوں پہ منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صحت کے بنیادی اصول

س:لوگوں کو دیسی علاج کی طرف کیسے لایا جاۓ؟

لوگوں کو طب نبوی﷽ سے آگاہی فراہم کی جاۓ۔انھیں بتایا جاۓ کہ یہ آسان طریقہ علاج ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ نے خود بھی اپنایا ہے۔اور دوسروں جو بھی تجویز کیا ہے۔لوگوں کو فروٹ سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کی افادیت بتا کر انھیں اس طرف لایا جا سکتا ہے۔
اس طریقہ علاج میں سائیڈ ایفیکٹ نا ہونے کے برابر ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ علاج انسان کے اندر قوت مدافعت بھی پیدا کرتا ہے جو بذات خود بچاؤ کا قدرت کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے۔

ایلوپیتھی کہ نسبت چب نبویﷺ کی دوائیاں سستی اور ہر جگہ سےآبآسانی مل جاتی ہیں۔اس لحاظ سے یہ بآسانی ہر انسان کی ہہنچ میں ہیں۔

س:رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہے۔اس حوالے سے کچھ بتائیں؟

رمضان میں لو فیٹ فوڈ کا استعمال کریں۔سبزیاں پھل سوپ ،اس کے ساتھ ساتھ ہائی فائیبر فوڈ کا استعمال کریں۔مصالحہ جات اور تلی ہوئی چیزیں کم سے کم استعمال کریں۔

س:رمضان المبارک پہ کن بیماریوں پہ قابو پایا جا سکتا ہے؟

رمضان المبار ک میں شوگر، ،بلڈ پریشر ہائی کولیسٹرول،موٹاپا،معدے کے امراض،جوڑوں سے درد،دماغی امراض اور دل کی بیماریوں پہ قابو پایا جا سکتا ہے۔

س:روزے کے فوائد ہماری عمومی صحت پر کیسے پڑتے ہیں؟
رمضان المبارک انسان کو صبر ،ضبط نفس اور اطاعت کرنا سکھاتا ہے۔روزہ رکھنے سے جہاں انسان کے اندر پاکیزگی اور روح میں قوت پیدا ہوتی ہے۔وہاں جسمانی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بدن کے تمام نظام مل کر بدن کی صفائی کرتے ہیں۔اس میں سائکالوجیلی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔انسان کے اخلاق و کردار کو از سر نو مرتب کرنے میں مدد ملتی ہے۔انسان اپنے جذبات پی کنٹرول کرنا سیکھتا ہے۔روزہ انسان کے اندر احساس اور ہمدردی کے جذبات کرتا ہے۔جو معاشرے کی بہتری کے لیے اور کمزور طبقے کی امداد کا باعث بن کر معاشرے کو فعال بناتے ہیں۔

س:کووڈ کا علاج جڑی بوٹیوں سے کیا جا سکتا ہےاگر ہاں تو کیسے؟

انٹرویو طبیبہ عطیہ کریم کے دوران کرونا وائرس کا بھی ذکر ہوا۔جس کے بارے میں جواب دیتے ہوۓ انھوں نے کہا”کووڈ ایک نئ بیماری ہے۔جس پہ ریسرچ جاری ہے۔اگر قوت مدافعت بہتر سے بہترین کر لی جاۓ تو اس کے اٹیک سے بچا جا سکتا ہے۔اس کے لیے مختلف جڑی بوٹیوں جیسا کہ ہلدی دارچینی ،کالی مرچ،red
ginseng ، eucalyptus ،tea tree وغیرہ وغیرہ

لوگوں کو پرہیز علاج سے بہتر ہے کے فارمولے کے زریعے کووڈ سے بچایا جا سکتا ہے ۔ماسک پہنیں۔لوگوں سے کم سے رابط رکھیں۔ہجوم والی جگہ پہ جانے سے بچیں۔

انتڑویو ہربلسٹ ڈاکٹر عطیہ بتول کریم سے اختتام کو پہنچا۔قلم کتاب ان کی اس عنایت پر ان کا شکر گزار اور دعا گو ہے کہ انکا سفر بہترین ہو اور وہ ڈھیروں کامیابیاں سمیٹتی رہیں۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں