512

اپنا گھر بنائیں مگر کیسے۔۔؟

تحریر شئیر کریں

اپنا ذاتی گھر بنائیں مگر کیسے؟یہ وہ سوال جس کے جواب کی تمنا ہر بے گھر انسان کو ہوتی ہے۔
پاکستان میں دو چیزیں غیر محسوس طریقے سے پہنچ سے باہر ہوتیں جا رہیں ہیں ان میں سے ایک “گھر”بھی ہے۔المیہ یہ ہے کہ اس پہ کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔
ہمارے ہاں اکثر بولا جاتا ہے کہ گھر بنانا ایک خواب ہے۔جی ہاں ایک ایسا خواب ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ حسرت بن جاتا ہے مگر گھر نہیں بنتا۔
اپنے گھر کے لیے لوگ بہت پاپڑ بیلتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنے بچوں کے لیے گھر بنا کر دے جائیں تاکہ وہ رلتے نا پھیریں ۔۔کیا ہی اچھی سوچ ہے۔ضرور بنائیں گھر ۔۔۔اس کے لیے کچھ ٹوٹکے ہیں جو آزمادہ ہیں بہت منجھے یوۓ اور سنجیدہ لوگوں نے بتائے ہیں۔رضوان رضی جو ایک عرصہ ریڈیو پہ دادا پوتا کے نام سے پروگرام کرتے رہے۔مشیور جرنلسٹ ہیں ۔آج کل 7 نیوز پہ بھی آ رہیں ہیں۔انھوں نے ایک بار اپنے گھر کے حوالے سے ایک خاص بات بتائی ، کہتے ہیں میری بیوی ہر سال پرندوں کے گھونسلوں کے لیے لکڑی کے گھر خرید کر لٹکا دیتی ہے۔نیت انکی یہ ہوتی ہے کہ اللہ کی مخلوق کو گھر دوگے تو اللہ تمھیں بھی گھر دے گا۔اس کا بہت فائدہ ہوا ۔
بچیوں کے رشتوں کے لیے بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ایک بیٹی کی عمر38 سال تھی۔مگر شادی نہیں ہو پارہی تھی۔اس نے اپنے گھر کی نیت کے لیے پرندوں کے لیے گھر لٹکا دیا۔کچھ ہی ماہ میں اللہ کے کرم سے اسکی شادی ہو گی۔
اسی طرح ایک اور مجرب عمل دیکھنے میں آیا ہے وہ یہ کہ آپ نیت کرو کہ اللہ مجھے مصلی یعنی نماز کی جگہ بنانا ہے اس لیے گھر دے دیں۔ایک نیت تو یہ ہے۔اور ایک یہ کہ گھر دے دے پھر اس میں ایک کمرہ نماز اور ذکرواذکار کے لیے مختص کر دوں گا۔دونوں میں فرق ہے۔پہلی دعا زیادہ موثر اور جاندار ہے۔یعنی مصلے نماز کے لیے گھر بنایا جا رہا۔۔ایک صاحب نے اپنا تجربہ بیان کیا کہ اے اللہ! مجھے مصلی بنانا ہے مجھے اس کے لیے گھر چاہیے۔اللہ نے انھیں گھر دے دیا۔وہ کہتے ہیں ہم نے ایک کمرہ مختص کیا۔پھراس میں ذکرواذکار کرتے۔عجیب بات یہ کہ جب سے ایسا کیا کہ خوشحالی کے دروازے کھل گۓ ہیں۔
ایک صاحب روحانی علوم کے ماہر تھے۔ان سے کسی نے پوچھا کہ اپناگھر بنانا ہے کوئی وظیفہ بتائیں۔کہتے دو رکعت توبہ پھر دو رکعت شکرانے کے پھر دو نفل حاجت کے پڑھیں اور دعا کریں کہ اے اللہ اگر تو چھ دن میں دنیا تخلیق کر سکتا ہے تو تو اس بات پہ بھی قادر ہے کہ اپنی جناب سے مجھے گھر عطا فرما۔۔آمین
یہ دعا دل کو چھو گئ۔۔۔آپ بھی دعا کریں یقینا دعا سے زیادہ پراثر چیز اس دنیا میں کوئی اور نہیں ہے۔

خلاصہ:
اس آرٹیکل میں تین باتیں بتائیں گئیں ہیں ایک دو کا تعلق اسباب سے ہے اور ایک کا دعا سے۔جب ہم کسی کے لیے آسانی کرتے تو اللہ رب العزت خوش ہو کر وہ چیز اس بندے کو بھی عطا کر دیتے ہیں۔دوسری چیز کا تعلق بھی اسباب سے ہے یعنی گھر طلب ہی اس لیے کیا جاۓ کہ اللہ کی یاد کے سوا کوئی اور سبب نا ہو۔اور تیسری چیز دعا ہے وہ بھی کثرت سے۔پر امید ہوکر کہ اللہ ضرور نوازے گا۔بلکہ اپنی مائنڈ پروگرامنگ میں یہ بات ڈالیں کہ گھر مل گیا ہے۔سوچیں کہ کتنے روم کس طرح کی سیٹنگ اور کس طرح کے ڈیکوریشن وغیرہ ہوئی ہے۔جب ایسا کریں گے تو آپ کا مائنڈ کانشس اسی وقت گھر کے لیے ہلاننگ کرنا شروع کر دے گا۔گھر کے علاوہ بھی کچھ بھی مانگیں اس پہ اندھا اور کامل یقین رکھنا ہوگا۔مل جاۓ گا کی بجاۓ مل چکا ہے کہ تکرار کریں۔یہ چیز آپ کو بہت جلد اس مقصد تک لے جاۓ گی۔انشاء اللہ، میں نے ایک آرٹیکل پڑھا تھا جس میں ایک انگریز لڑکی کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ اس تکنیک په بهت یقین رکھتی تھی.شادی سے پهلے وه جو جو سوچا کرتی تھی بعدمیں وہی ہوا۔یہاں تک کہ روم فرنیچر بھی ویسا ہی تھا جیسا وہ سوچتی تھی۔مائنڈ پروگرامنگ والے جانتے ہیں کہ اس طریقہ کو آٹوسجیشن طریقہ کہتے ہیں جو مغرب میں بہت مقبول ہے۔ہمیں ان جدید طریقوں سے مدد لے کر یقین کی طاقت کو بڑھانا ہوگا۔دماغ بہت پاور فل چیز ہے۔جس بات پہ یقین کر لیتا اسے منوا کر چھوڑتا ہے۔
اپنا گھر خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے جو جاگتی آنکھوں سے پوری ہو سکتی ہے اگر ہم نیک نیتی سے دعا کریں اور اللہ کی مخلوق کے لیے آسانیاں کریں۔
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں