اکتوبر کے پھول
نصرت یوسف
اکتوبر کی شامیں سورج ڈھلتے ہی کراچی میں معمولی سی خنکی اوڑھ لیتی ہیں. میرے گھر کے سامنے بنگلہ کا نام اس زمانے میں دار الرحمت تھا.. گھر والے اپنی دنیا میں مگن رہنے والے مختصر افراد تھے لیکن گول برآمدے والے پرانے طرز تعمیر کے ساتھ جو چیز سحر کرتی تھی وہ بیرونی دیوار کے ساتھ لگے چوڑے تنے اور چھوٹے قد کے ایسے ہرے بھرے درخت تھے جس پر اکتوبر شروع ہوتے ہی سفید پھولوں کے گچھے لٹکنے شروع ہوجاتے. یہ پھول سورج کی روشنی غائب ہوتے ہی مخصوص خوشبو سے اطراف گھیر لیتے تھے،اس برس بھی اکتوبر میں دار الرحمت کے درختوں پر پھول آچکے تھے، مہینہ نصف ہونے ہی والا تھا ، دہلی سے جب بھی رابطہ ہوتا، اس سوال کا جواب نہ ہوتا کہ کب آنے کا پروگرام ہے؟ کزن کی نومبر میں شادی طے تھی اس میں شرکت کا کوئ راستہ اکتوبر تک نہ تھا، بھارتی سفارت خانہ کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو چکا تھا ، اب حصول ویزہ واسطے اسلام آباد سفر ناگزیر تھا.
پندرہ اکتوبر کی شام بھائ کے ساتھ بذریعہ ریل گاڑی سفر کرکے اسلام آباد والدہ محترمہ کے توسط سےکسی آشنا خاتون کے گھر پہنچے، اسلام آباد کے پوش علاقے میں بنگلہ تھا، جہاں تین بچے اور والدین کا قیام تھا.
یہ خاندان کچھ عرصہ قبل کراچی سے ایم کیو ایم کے پیدا کردہ حالات سبب اسلام آباد منتقل ہوا تھا.
ہم دونوں بہن بھائی عمر کی دو دھائیاں بے شک گزار چکے تھے لیکن میں اس طرح کبھی شہر سے باہر نہ نکلی تھی ، کبھی سفر ہوا بھی تو کراچی ائر پورٹ سے دہلی ائر پورٹ تک. تقریبا چار سے آٹھ گھنٹوں میں آشنا، محبت بھرے رشتوں کے درمیان پہنچ گئ. لیکن والدین بنا یہ پہلا سفر تھا، جس میں بھائ چھوٹا اور حوصلہ بڑا تھا.
اگلے دن اکتوبر 1998 کی سترہ تاریخ تھی ہفتہ کا دن تھا، سفارت خانے کی چھٹی تھی، یہ ہمارے لیے کوئی اچھی اطلاع نہ تھی، سو میزبان کے نو عمر بچے کو ساتھ لیا، اور مری کے لیے روانہ ہو گۓ. مری کے راستہ ہی میں حکیم سعید کی شہادت کی خبر نے دل جیسے بند کردیا اور نہ ہوتے بھی کان درد اور متلی شروع ہوگئ.
جیسے تیسے راستہ گزارا، سبحان اللہ کہا اور نہ اللہ اکبر بس دل تھا کہ بیٹھا ہی جاتا اور نظریں دھندلانے لگتیں.
دن گزار کر اندھیرے میں گھر لوٹے تو جذباتی اور جسمانی دونوں تھکاوٹ غالب تھیں.
میزبان خاتون بے انتہا “طہارت پسند “خاتون تھیں.. گھر آکر تشریف رکھنے سے قبل کپڑے بدلنا لازم تھا، صرف ڈرائنگ روم پر یہ اطلاق ممکن نہ تھا، اگلے دن اتوار انکے ساتھ دوپہر کی شادی میں شرکت سےواپس ہو کر ہم بظاہر صاف ستھرے حلیہ کے ساتھ شامت اعمال بستر پر بیٹھ گۓ، بیچاری کو بہت پریشانی ہوئی، چادر فورا بدلی ہم اتنے شرمندہ کہ کہاں چلو بھر پانی پائیں، گو اس پانی میں چیونٹی تو پھر بھی ڈوب جاتی، ہم تو محض منہہ ہی دھو پاتے.
اگلے دن پیر تھی، میزبانوں نے کمال مہربانی سے اتوار کی رات پکھانے بعد کافی فلاسک اور گرم چادریں تیار کرکے سفارت خانے پہنچانے کا بندوبست کرتے ہم کو اطلاع دی کہ بہتر ہے ہم رات سے وہاں پہنچ جائیں تاکہ صبح سویرے ویزے کے لیے بننے والی قطار کا حصہ بن سکیں.
ہمارے پاس اثبات میں سر ہلانے سوا کوئی اختیار نہ تھا.سو پاسپورٹ اور دوسرے ضروری سامان کا بیگ سنبھالتے اس رات روانہ ہوگۓ.
کچھ دیر بعد آبادی سے دور ویرانے میں جنگل سے ملحق سفارت خانہ کے نذدیک رات دس گیارہ کے لگ بھگ گاڑی ہمیں اتار کر جا چکی تھی.
میں، سعید، اور سڑک پر یخ بستہ نیم تاریک رات!
تاریخ انیس اکتوبر 1998 ہو چکی تھی، زندگی کے واقعات میں ایک نیا اضافہ ہورہا تھا.
َ ہماری طرح جمع ہوۓ انبوہ کے ہنسنے بولنے کی آوازیں تھیں، رزق کمانے والوں کی صدائیں تھیں اور جنگل قریب ہونے کی بنا پر جنگلی سور کے ظاہر ہونے خطرات بھی ارد گرد کی گفتگو کا حصہ تھے، یہ سب تھا لیکن اسکے ساتھ یہ ایک جوان لڑکی کے لیے زندگی کی پہلی رات تھی جو اندھیرے چوراہے پر گزارنی تھی،جو بس محفوظ اور آرام دہ ماحول سے واقف تھی ، اس رات وہ نیم آشنا شہر کی فٹ پاتھ پر درختوں تلے بھائ کے ساتھ تھی، دل بہت مضطرب تھا، حکیم سعید کی شہادت کا زخم، ویزہ بھکاری بننے کا احساس، سردی اور خدشات سے بے چین ہو کر فلاسک سے کافی انڈیلی، گرم مشروب سے سوچیں ربط میں آئیں تو جنگل سے آتی آوازوں کی دہشت بھی کم ہوگئ.
رات نے گزرنا ہی تھا، گزر گئ، پو پھٹ گئ اور فجر بعد دل بھی کچھ سنبھل گیا.
سورج اور سفارت خانے کے باہر ویزہ طلبگاروں کی قطار دونوں ساتھ ساتھ بڑھتے گۓ، قطار کے “پنڈتوں” کی کارروائیوں سے نا آشنا ہم میر مانند تھے، جو اسی عطار کے لونڈے سے دوا کی امید میں تھے جس کے سبب بیمار تھے.
اس دن ہمارا نمبر ہی نہ آیا اور محدود تعداد میں ویزہ لگے پاسپورٹ لوگوں کے ہاتھوں میں کچھ ہی گھنٹوں میں پہنچ گئے.
اس ویزہ کو لینے کے لیۓ” کیا اور کیا ” کرنا تھا ‘شب بیداری اور قطار بندی سوا’ ، وہ مشاہدہ سے علم ہوا دھچکہ کھا کر میزبان کے ہاں دوپہر تک ایک بار اور کوشش کے ارادہ کا سوچتے لوٹ آۓ.
اللہ میزبان کو ہر حسن عمل کی جزا دے، ساری رودار سننے کے بعد انہوں نے کھانا کھلایا اور پنڈی اسٹیشن تک گاڑی کا بندوبست کر کے ہمیں اطلاع دی کہ” دن کی روشنی میں سفر شروع کرنا خیر ہے، شام تک کراچی کے لیے نکل جائیے” .
ہم نے اس مشورہ کو سنا، جسکو ماننے سوا کوئی راہ نہ تھی، .. ‘ایک اور کوشش’ پر مٹی ڈال کر کراچی کے لیے روانہ ہوگۓ.
20 اکتوبر 1998کو جب ہم گھر پہنچے تو زندگی نۓ اسباق کے اتنے باب دکھا اور سکھا چکی تھی کہ کتابوں کے ڈھیر کیا سکھاتے.
سفید پھول اسی طرح خوشبو بکھیر رہے تھے لیکن کراچی کی شان، قوم کا حکیم مٹی تلے پہنچا دیا گیا تھا.. قوم کی صحت کا رکھوالا ، تعمیر ملت میں مصروف محسن پاکستان کو اسکی سرزمین پر لہو کی سرخ قبا پہنا دی گئ جسے وہ مدینہ ثانی سے تعبیر کرتے تھے.
حکیم سعید کی شہادت کو آج بائیس برس گزر گئے.. تغیرات نے زمینی نقشے تبدیل کردہے، فراعنہ غرق ہوۓ تو نۓ سامری بھی تیار ہوۓ.
دار الرحمت پر بھی بلڈوزر چلا، درختوں پر آرا لگا، اور نئ عمارت بن کر تیار ہوگئ.
اب پھولوں کی وہ باس نہیں جو پوری سردی علاقے میں چکراتی تھی، ہاں باس ہے باقی ہلکی سی جو ایک تنہا درخت کے سفید پھولوں سے آتی ہے.
سترہ اکتوبر وہ باس یاد دلاتی ہے کہ تنہا ہو یا ساتھ، مٹی تلے جانے تک فیض عام دینا ہے.
اکتوبر کے پھول