ایک تاریخ، دو زخم 194

ایک تاریخ، دو زخم

تحریر شئیر کریں

ایک تاریخ، دو زخم

کچھ تاریخیں کیلنڈر پر نہیں ہوتیں، وہ قوم کے دل پر لکھی جاتی ہیں۔
16 دسمبر بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔
ایک ہی دن… مگر دو مختلف زمانے، دو الگ کہانیاں، اور ایک سا درد۔
16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ ہم سے جدا ہوا۔
وہ دن جب نقشہ بدلا، جب ایک ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔
یہ سقوط بندوق سے نہیں ہوا تھا،
یہ سقوط ناانصافی، انا اور سیاسی اندھے پن سے ہوا تھا۔
ہم نے اپنے ہی لوگوں کو نہیں سنا،
اور تاریخ نے ہمیں سنانا چھوڑ دیا۔
وقت گزرتا رہا…
قوم نے سمجھا شاید ہم نے اس دن کا قرض ادا کر دیا ہے۔
مگر تاریخ کبھی ایک ہی زخم پر اکتفا نہیں کرتی۔
پھر آیا 16 دسمبر 2014ء
اس بار ڈھاکہ نہیں گرا،
اس بار پشاور کے بچے گرے۔
کتابیں ہاتھ میں تھیں، بستے کندھوں پر…
اور گولیاں سینوں میں۔
ریاست قائم رہی،
مگر ضمیر لرز گیا۔
اس دن ملک نہیں ٹوٹا،
اس دن مستقبل ٹوٹا۔
عجیب اتفاق نہیں؟
ایک ہی تاریخ…
ایک دن ہم نے اکثریت کی آواز نہ سنی
اور ملک ہاتھ سے نکل گیا۔
دوسرے دن ہم نے نفرت کو پنپنے دیا
اور بچے ہاتھ سے نکل گئے۔
ڈھاکہ ہمیں بتاتا ہے:
جب انصاف مر جائے تو سرحدیں نہیں بچتیں۔
پشاور ہمیں یاد دلاتا ہے:
جب امن مر جائے تو معصوم نہیں بچتے۔
یہ دونوں دن ہمیں ایک ہی سبق دیتے ہیں،
صرف زبان بدل جاتی ہے، لاشیں بدل جاتی ہیں۔
قرآن ہمیں صاف کہتا ہے:
“وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ”
جب فیصلے کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔

شاید اسی عدل کی کمی نے ایک دن وطن چھینا،
اور ایک دن بچوں کی مسکراہٹ۔

16 دسمبر ہمیں ماتم کے لیے نہیں،
خود احتسابی کے لیے دیا گیا ہے۔
تاکہ ہم سمجھ سکیں:
قومیں ایک دن میں نہیں گرتیں،
اور بچے ایک دن میں یتیم نہیں ہوتے۔

فرق صرف اتنا ہے،
1971ء میں ہم نے تاریخ کو رُلایا،
اور 2014ء میں تاریخ ہم پر روئی۔

ایک تاریخ، دو زخم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں