باب 2
شکر نامہ کیسے لکھیں؟

پہلا دن: کیا لکھیں، کیسے لکھیں اور کیا محسوس کریں؟
تمہید
شکر نامہ کیسے لکھیں؟ یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے، لیکن کسی بھی نئی عادت کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اسے عملی زندگی میں نافذ کرنے بیٹھتا ہے۔ ہر سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے اور ہر مستقل عادت ایک چھوٹے سے عمل سے۔
پچھلے باب میں ہم نے جانا کہ شکر لکھنا اور اسے محسوس کرنا کیوں اہم ہے۔ محض یہ جان لینا کافی نہیں کہ شکر گزاری اچھی چیز ہے؛ اصل تبدیلی اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے روزمرہ میں اس کے لیے ایک باقاعدہ جگہ بناتا ہے۔
بہت سے لوگ شکر گزار ہونا چاہتے ہیں، مگر شروع نہیں کر پاتے۔ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھیں، کتنی چیزیں لکھیں، کس وقت لکھیں، اور کیا ہر روز کوئی نئی نعمت تلاش کرنا ضروری ہے۔
یہ باب اسی عملی مرحلے کے لیے ہے۔ یہاں ہم پہلے دن سے شکر نامہ شروع کرنے کا آسان طریقہ دیکھیں گے، ساتھ ہی یہ بھی سمجھیں گے کہ شکر صرف الفاظ لکھنے کا نام نہیں بلکہ نعمت کو پہچاننے، اس کے معنی پر غور کرنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا عمل بھی ہے۔
جدید مثبت نفسیات میں gratitude journaling پر متعدد مطالعات ہوئے ہیں۔ Robert Emmons اور دیگر محققین کی تحقیق میں شکر گزاری کو باقاعدہ طور پر نوٹ کرنے کے مختلف طریقے استعمال کیے گئے ہیں، جبکہ Greater Good Science Center کی تحقیقاتی خلاصہ نگاری بھی اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ صرف زیادہ چیزیں گننا مقصد نہیں؛ گہرائی سے غور کرنا بھی اہم ہے۔
شکر نامہ شروع کرنے کا پہلا قدم
شکر نامہ شروع کرنے کے لیے آپ کو بہت سی چیزوں کی ضرورت نہیں۔ ایک کاپی اور ایک قلم کافی ہیں۔
کاپی مہنگی ہو، خوبصورت ہو یا خاص ڈیزائن کی ہو، یہ ضروری نہیں۔ ایسی کاپی منتخب کریں جسے کھول کر لکھنے میں آپ کو اچھا محسوس ہو۔ اسی طرح قلم بھی وہ رکھیں جو آپ کو پسند ہو۔ مقصد یہ ہے کہ شکر لکھنا ایک خوشگوار اور آسان عمل بنے، کوئی اضافی بوجھ نہیں۔
اگر آپ چاہیں تو شکر نامے کے لیے ایک مخصوص نوٹ بک رکھ سکتے ہیں۔ اس کے پہلے صفحے پر اپنی نیت لکھیں:
یا اللہ! میں تیری نعمتوں کو پہچاننے، انہیں یاد رکھنے اور دل سے تیرا شکر ادا کرنے کی عادت بنانا چاہتا ہوں۔
کیا موبائل پر شکر نامہ لکھ سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ اگر کاغذ اور قلم دستیاب نہ ہوں تو موبائل کی Notes ایپ یا کسی ڈیجیٹل جرنل میں بھی شکر لکھا جا سکتا ہے۔ اصل مقصد نعمتوں پر توجہ دینا اور انہیں شعوری طور پر یاد کرنا ہے۔
البتہ اگر آپ ہاتھ سے لکھنے کو پسند کرتے ہیں تو کاغذی شکر نامہ ایک خوبصورت ذاتی تجربہ بن سکتا ہے۔ اسے لازماً سائنسی طور پر ڈیجیٹل تحریر سے زیادہ مؤثر قرار دینا درست نہیں، کیونکہ ہاتھ سے لکھنے کے بارے میں عمومی علمی فوائد کو gratitude journaling کے خاص اثر کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔
شکر نامہ لکھنے کا وقت
اب سوال آتا ہے کہ شکر نامہ کب لکھا جائے؟ اس کا ایک ہی لازمی جواب نہیں۔ بہتر وقت وہ ہے جسے آپ مستقل طور پر اپنی زندگی کا حصہ بنا سکیں۔
کچھ لوگوں کو صبح کا وقت پسند آتا ہے۔ بیدار ہونے کے بعد چند منٹ خاموشی میں بیٹھ کر نعمتوں کو یاد کرنا پورے دن کے آغاز کو بامعنی بنا سکتا ہے۔
کچھ لوگوں کے لیے رات زیادہ مناسب ہوتی ہے۔ سونے سے پہلے دن کے اچھے لمحات کو یاد کرنا انسان کو دن بھر کی نعمتوں پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔
اگر صبح آسان ہے تو صبح لکھیں۔ اگر رات آسان ہے تو رات لکھیں۔ اگر کسی مخصوص نماز کے بعد یہ عمل آپ کے لیے آسان رہتا ہے تو اسے اسی نماز کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔
اصل اصول وقت کی سخت پابندی نہیں بلکہ تسلسل ہے۔ ایسا وقت منتخب کریں جس پر آپ بار بار واپس آ سکیں۔
کتنی نعمتیں لکھیں؟
اس کتاب کے عملی طریقے میں ہم پہلے دن تین نعمتوں سے آغاز کریں گے۔ تین چیزیں اس لیے کہ یہ ایک مختصر اور قابلِ عمل آغاز ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شکر گزاری کے لیے سائنسی طور پر ہر شخص کے لیے صرف تین چیزیں ہی درست ہیں۔ تحقیق میں مختلف تعداد اور مختلف اوقات کے طریقے استعمال ہوئے ہیں۔
آپ کے لیے پہلے دن تین نعمتیں کافی ہیں۔ اگر کسی دن زیادہ لکھنے کا دل چاہے تو لکھ سکتے ہیں، لیکن خود پر اتنا بوجھ نہ ڈالیں کہ چند دن بعد یہ عادت ہی چھوڑ دیں۔
ہر نعمت کے لیے ایک یا دو جملے کافی ہیں۔ آپ کو مضمون، کہانی یا لمبی تحریر لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اصل چیز الفاظ کی تعداد نہیں بلکہ توجہ اور احساس ہے۔
مثلاً:
آج میں نے گرم چائے کا ایک کپ سکون سے پیا۔ چند منٹ کے اس وقفے نے مجھے خوشی دی۔ الحمد للہ۔
یہ بھی شکر نامہ ہے۔
شکر نامے میں کیا لکھیں؟
یہ سب سے اہم سوال ہے: شکر نامے میں آخر لکھا کیا جائے؟
اس کا آسان جواب ہے: جو نعمت آپ کی زندگی میں موجود ہے، اسے دیکھیں، پہچانیں اور لکھیں۔
آپ اپنی صحت، جسم، گھر، خاندان، دوستوں، کام، علم، وقت، خوراک، پانی، موسم، کسی اچھی گفتگو یا کسی چھوٹے سے خوشگوار لمحے پر شکر لکھ سکتے ہیں۔
صحت کی نعمتیں
آپ آنکھوں کے دیکھنے، کانوں کے سننے، ہاتھوں کے کام کرنے، پاؤں کے چلنے، سانس لینے یا جسم کی کسی ایسی صلاحیت پر شکر لکھ سکتے ہیں جسے آپ عام دنوں میں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
رشتوں کی نعمتیں
والدین، اولاد، شریکِ حیات، بہن بھائی، دوست، استاد یا کسی ایسے شخص کو یاد کریں جس نے آپ کے لیے محبت، دعا، مدد یا خیرخواہی کا اظہار کیا ہو۔
روزمرہ کی نعمتیں
کھانا، صاف پانی، گھر، لباس، بجلی، روشنی، کتاب، کام، تعلیم، سفر کی سہولت اور آرام کا موقع بھی شکر کا سبب بن سکتے ہیں۔
چھوٹے خوشگوار لمحات
چائے کا ایک کپ، بارش کی خوشبو، پرندے کی آواز، بچے کی مسکراہٹ، کسی عزیز کا فون، کسی دوست کا پیغام یا کسی اجنبی کی اچھی بات بھی آپ کے شکر نامے کا حصہ بن سکتی ہے۔
شکر گزاری کا مقصد یہ نہیں کہ زندگی کے مسائل سے انکار کیا جائے۔ انسان بیک وقت کسی مشکل سے گزر سکتا ہے اور کسی نعمت پر شکر بھی ادا کر سکتا ہے۔ شکر کا مطلب غم کو جھٹلانا نہیں بلکہ غم کے درمیان موجود نعمت کو بھی دیکھ لینا ہے۔
معمولی نعمتیں کیوں اہم ہیں؟
انسان اکثر ان چیزوں کی قدر زیادہ کرتا ہے جو نایاب ہوں اور ان نعمتوں کو کم محسوس کرتا ہے جو ہر روز میسر آتی ہیں۔ صحت، گھر، پانی، سانس، خاندان اور امن جیسی نعمتیں روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں تو ان کی غیرمعمولی قدر ہماری نظروں سے اوجھل ہو سکتی ہے۔
اسی لیے شکر نامہ ہمیں ایک اہم ذہنی مشق سکھاتا ہے: معمول کی چیز کو دوبارہ توجہ کے ساتھ دیکھنا۔
Robert Emmons کی طرف سے gratitude journaling کے بارے میں دی گئی رہنمائی میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صرف لمبی فہرست بنانا مقصد نہیں۔ کسی نعمت پر ذرا گہرائی سے غور کرنا، اسے ایک تحفے کے طور پر دیکھنا اور اس سے وابستہ احساس کو محسوس کرنا شکر گزاری کے تجربے کو زیادہ بامعنی بنا سکتا ہے۔
شکر صرف لکھنا نہیں، محسوس کرنا بھی ہے
اب ہم اس باب کے سب سے اہم حصے تک پہنچتے ہیں۔
اگر آپ لکھیں:
آج مجھے صاف پانی ملا۔ الحمد للہ۔
تو یہاں رکنا بھی ضروری ہے۔ چند لمحوں کے لیے سوچیں کہ یہ پانی آپ کے لیے کیوں اہم ہے۔ اسے پئیں، اس کی تازگی محسوس کریں اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کریں۔
آپ خود سے پوچھ سکتے ہیں:
اگر یہ نعمت میرے پاس نہ ہوتی تو میری زندگی میں کیا فرق پڑتا؟
اس نعمت کا میرے روزمرہ پر کیا اثر ہے؟
میں نے آج اس نعمت کو کتنی توجہ سے محسوس کیا؟
پھر دل سے کہیں:
الحمد للہ، یا اللہ! تیرا شکر ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں شکر نامہ محض الفاظ کی فہرست سے آگے بڑھ کر ایک شعوری مشق بن جاتا ہے۔
دس سیکنڈ کا وقفہ
آپ اس کتاب میں ہر نعمت کے بعد تقریباً دس سیکنڈ کا ایک چھوٹا سا وقفہ آزما سکتے ہیں۔ اسے کوئی لازمی سائنسی فارمولا نہ سمجھیں۔ یہ صرف توجہ کو ایک نعمت پر کچھ دیر ٹھہرانے کی عملی مشق ہے۔
ماہرِ نفسیات Rick Hanson مثبت تجربے کو چند سیکنڈ تک شعوری طور پر محسوس کرنے اور اسے ذہن میں ٹھہرنے دینے کی مشق تجویز کرتے ہیں۔ وہ خود واضح کرتے ہیں کہ پانچ، دس یا بیس سیکنڈ کوئی قطعی عدد نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی ہے؛ اصل بات یہ ہے کہ مثبت تجربے پر جلدی سے آگے بڑھنے کے بجائے اسے کچھ دیر محسوس کیا جائے۔
اس لیے آپ چاہیں تو دس سیکنڈ سے آغاز کریں۔ کبھی پانچ سیکنڈ کافی محسوس ہوں گے اور کبھی آپ زیادہ دیر تک کسی نعمت پر غور کرنا چاہیں گے۔
پہلے دن کیا محسوس ہوگا؟
پہلے دن کسی خاص یا غیرمعمولی احساس کا آنا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو یہ مشق بہت اچھی لگے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ شروع میں کچھ عجیب محسوس ہو۔ دونوں صورتیں معمول کی بات ہیں۔
شاید آپ بار بار سوچیں گے: میں کیا لکھوں؟
شاید آپ کو لگے گا کہ میرے پاس لکھنے کے لیے کوئی خاص چیز نہیں۔
شاید آپ صرف تین معمولی چیزیں لکھ کر رک جائیں۔
اور شاید کسی ایک نعمت پر غور کرتے ہوئے آپ کے دل میں اچانک شکر کا احساس پیدا ہو جائے۔
کسی ایک تجربے کو سب کے لیے لازمی نتیجہ سمجھنا درست نہیں۔ شکر نامہ ایک ذاتی مشق ہے اور اس کے اثرات انسان بہ انسان مختلف ہو سکتے ہیں۔
اس لیے پہلے دن کا مقصد اپنی زندگی بدلتا ہوا دیکھنا نہیں۔ پہلے دن کا مقصد صرف آغاز کرنا ہے۔
پہلے دن کی عام غلطیاں
بہت زیادہ لکھنا: پہلے ہی دن بیس یا تیس چیزیں لکھنے کا ہدف نہ بنائیں۔ ایسا طریقہ بعض لوگوں کے لیے بوجھ بن سکتا ہے۔ تین مختصر نعمتوں سے آغاز کافی ہے۔
بہت کم توجہ دینا: صرف الفاظ لکھ کر فوراً صفحہ بند نہ کریں۔ کم از کم چند لمحے اس نعمت پر غور ضرور کریں۔
دوسروں سے موازنہ کرنا: کسی دوسرے شخص کا شکر نامہ آپ کے لیے معیار نہیں۔ آپ کا تجربہ آپ کا اپنا ہے۔
صرف بڑی نعمتوں کا انتظار کرنا: شکر کے لیے کسی غیرمعمولی واقعے کا انتظار نہ کریں۔ روزمرہ زندگی کی نعمتیں بھی توجہ کی مستحق ہیں۔
فوری نتیجہ چاہنا: ایک دن لکھ کر اپنے آپ سے یہ توقع نہ رکھیں کہ آپ کی پوری کیفیت بدل جائے گی۔ عادت بنانے میں وقت لگتا ہے، اور شکر گزاری کی مشق کا تجربہ ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔
پہلے دن کا مکمل نمونہ
تاریخ: یکم اکتوبر
پہلا شکر: صاف پانی
آج میں نے صاف پانی پیا۔ یہ روزمرہ کی ایک ایسی نعمت ہے جسے میں اکثر معمولی سمجھ لیتا ہوں۔ آج میں نے جان بوجھ کر اس نعمت پر توجہ دی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ الحمد للہ۔
چند لمحے رکا، پانی کو محسوس کیا اور سوچا کہ یہ نعمت میرے لیے کیوں اہم ہے۔ پھر دل سے کہا: یا اللہ! تیرا شکر۔
دوسرا شکر: ایک عزیز کی دعا
آج ایک عزیز نے میرے لیے خیر کی دعا کی۔ شاید یہ صرف چند الفاظ تھے، لیکن ان الفاظ میں محبت اور خیرخواہی تھی۔ میں نے اس دعا کو ایک نعمت کے طور پر یاد کیا۔ الحمد للہ۔
چند لمحے اس دعا کو یاد کیا اور دل میں اس شخص کے لیے بھی دعا کی۔ پھر کہا: یا اللہ! تیرا شکر۔
تیسرا شکر: ایک خوبصورت لمحہ
آج مجھے دن کے دوران ایک ایسا چھوٹا سا لمحہ ملا جس نے میرے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی۔ میں نے اسے جلدی سے نظر انداز کرنے کے بجائے چند لمحے یاد کیا۔ الحمد للہ۔
اس لمحے کو دوبارہ ذہن میں لایا اور اس خوشی کو محسوس کیا۔ پھر دل سے کہا: یا اللہ! تیرا شکر۔
آج کا سبق
آج میں نے سیکھا کہ نعمتیں ہمیشہ بڑی اور غیرمعمولی نہیں ہوتیں۔ بہت سی نعمتیں روزمرہ زندگی میں خاموشی سے ہمارے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ شکر ہمیں انہیں دوبارہ دیکھنا سکھاتا ہے۔
دوسرے دن کی مثال
تاریخ: 2 اکتوبر
پہلا شکر: آرام کی نیند
آج مجھے آرام کرنے کا موقع ملا۔ صبح بیدار ہونے کے بعد میں نے چند لمحوں کے لیے اس آرام کو محسوس کیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ الحمد للہ۔
دوسرا شکر: کسی کی مدد
آج ایک شخص نے میرے کام میں میری مدد کی۔ اس مدد نے میرا وقت اور محنت دونوں بچائے۔ میں نے اس احسان کو محسوس کیا اور اس شخص کے لیے دعا کی۔ الحمد للہ۔
تیسرا شکر: چائے کا ایک کپ
آج شام کو میں نے سکون سے چائے پی۔ چند منٹ کے اس معمولی سے وقفے نے مجھے خوشی دی۔ میں نے اسے بھی اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھ کر شکر ادا کیا۔ الحمد للہ۔
آج کا سبق
آج میں نے سیکھا کہ خوشی ہمیشہ کسی بڑے واقعے کے انتظار میں نہیں ہوتی۔ کبھی ایک مختصر اور معمولی لمحہ بھی دل کو سکون دے سکتا ہے۔
تیسرے دن کی مثال
تاریخ: 3 اکتوبر
پہلا شکر: ایک اچھی نصیحت
آج مجھے ایک ایسی نصیحت ملی جس پر پہلے بھی غور کرنا چاہیے تھا۔ اس نے مجھے اپنے رویے کے بارے میں سوچنے کا موقع دیا۔ الحمد للہ۔
دوسرا شکر: پرانے دوست کا پیغام
آج ایک پرانے دوست کا پیغام آیا۔ کچھ دیر بات ہوئی اور پرانی یادیں تازہ ہوئیں۔ میں نے اس رابطے کو ایک خوبصورت نعمت سمجھا۔ الحمد للہ۔
تیسرا شکر: بارش
آج بارش ہوئی۔ میں نے کچھ دیر بارش کو دیکھا اور ماحول کی تبدیلی کو محسوس کیا۔ یہ ایک چھوٹا سا مگر خوبصورت لمحہ تھا۔ الحمد للہ۔
آج کا سبق
آج میں نے سیکھا کہ زندگی میں کچھ نعمتیں ماضی سے جڑی ہوتی ہیں اور کچھ اچانک ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔ دونوں کو محسوس کرنا شکر کی عادت کو گہرا کر سکتا ہے۔
تیس دن کا شکر نامہ سفر
اگر آپ یکم اکتوبر سے شروع کر رہے ہیں تو اگلے تیس دن کو ایک عملی تجربے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہر روز چند منٹ نکالیں، اپنی نعمتیں لکھیں اور کچھ دیر ان پر توجہ دیں۔
لیکن ایک بات یاد رکھیں: تیس دن مکمل ہونے پر اپنے اندر کسی مخصوص نتیجے کی ضمانت نہ ڈھونڈیں۔ اسے ایک مشق سمجھیں جس کے ذریعے آپ اپنے روزمرہ تجربات کو زیادہ شعوری انداز میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کبھی ایک دن آسان ہوگا، کبھی مشکل۔ کبھی آپ کے پاس بہت کچھ لکھنے کو ہوگا اور کبھی صرف ایک معمولی سی بات۔ دونوں صورتوں میں واپس آنا ہی اہم ہے۔
آج کا عملی کام
آج ایک کاپی اور قلم لیں۔ تاریخ لکھیں۔ اپنی زندگی کی تین ایسی نعمتیں لکھیں جنہیں آپ آج محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ ہر نعمت کے بعد چند لمحے رکیں۔ اس نعمت کو ذہن میں لائیں۔ اس کی اہمیت پر غور کریں۔ پھر دل سے کہیں: الحمد للہ۔
آخر میں ایک جملہ لکھیں:
آج میں نے شکر کے بارے میں یہ سیکھا کہ __________۔
بس۔ یہی آپ کا پہلا دن ہے۔
کل دوبارہ چند منٹ نکالیں گے۔ پھر اگلا دن آئے گا۔ آہستہ آہستہ یہی چھوٹا سا عمل ایک ایسی عادت بن سکتا ہے جو آپ کو اپنی زندگی کی موجود نعمتوں پر زیادہ توجہ دینے میں مدد دے۔
باب کا خلاصہ
شکر نامہ شروع کرنے کے لیے کسی پیچیدہ نظام کی ضرورت نہیں۔ ایک کاپی، ایک قلم، چند منٹ اور توجہ کافی ہے۔ پہلے دن تین نعمتوں سے آغاز کریں۔ انہیں صرف لکھیں نہیں بلکہ کچھ دیر محسوس بھی کریں۔ بڑی نعمتوں کے ساتھ چھوٹی روزمرہ نعمتوں کو بھی دیکھیں۔ دوسروں سے اپنا موازنہ نہ کریں اور فوری نتائج کی توقع نہ رکھیں۔
سب سے بڑھ کر یہ یاد رکھیں کہ اسلامی شکر محض مثبت سوچ کا نام نہیں۔ مومن نعمت کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھتا ہے اور زبان، دل اور عمل کے ذریعے شکر ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اختتامی بات
آج آپ نے صرف تین چیزیں لکھی ہیں، لیکن ممکن ہے کہ پہلی بار آپ نے ان تین چیزوں کو اس توجہ سے دیکھا ہو۔ یہی اس سفر کی ابتدا ہے۔
نعمتیں ہمیشہ نئی نہیں ہوتیں۔ کبھی ہماری نظر نئی ہوتی ہے۔
اور جب نظر بدلتی ہے تو وہی روزمرہ زندگی، جسے ہم معمول سمجھتے تھے، نعمتوں سے بھری ہوئی محسوس ہونے لگتی ہے۔
اگلے باب میں: شکر نامہ کاغذ پر لکھنا بہتر ہے یا موبائل میں؟ ڈیجیٹل اور کاغذی جرنل کے فوائد، خامیاں، رازداری، ترتیب اور ایک ایسا نظام جس پر آپ طویل عرصے تک قائم رہ سکیں۔