3

شکر نامہ کب لکھیں؟

تحریر شئیر کریں

شکر نامہ کب لکھیں؟

پچھلے باب میں ہم نے شکر نامہ بنانے کا طریقہ سمجھا اور یہ جانا کہ شکر کاغذ پر لکھنا بہتر ہے یا موبائل میں۔ اب ایک اہم سوال باقی ہے: شکر نامہ کب لکھیں؟

کیا صبح شکر لکھنا بہتر ہے، شام کو یا رات سونے سے پہلے؟ حقیقت یہ ہے کہ شکر لکھنے کے لیے کوئی ایک لازمی وقت مقرر نہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایسا وقت منتخب کیا جائے جس پر آپ مستقل مزاجی سے چند منٹ شکرگزاری کے لیے نکال سکیں۔

اس باب میں ہم صبح اور شام کے شکرنامے کے فرق، مناسب وقت کے انتخاب اور شکر لکھنے کی مستقل عادت بنانے کے عملی طریقے کو سمجھیں گے۔

صبح کا شکر کیوں لکھیں؟

صبح کا وقت بہت سے لوگوں کے لیے دن کی سمت متعین کرنے کا اچھا موقع ہو سکتا ہے۔ جب آپ دن کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرتے ہیں، تو آپ اپنی توجہ ان چیزوں کی طرف لے جاتے ہیں جن پر آپ شکر ادا کرنا چاہتے ہیں۔

صبح کا شکر نامہ کسی جادوئی طریقے سے پورے دن کے مسائل ختم نہیں کرتا، لیکن یہ آپ کو دن کے آغاز میں رکنے، سوچنے اور نعمتوں کو پہچاننے کا موقع ضرور دیتا ہے۔

صبح کے شکر کی ایک سادہ مشق

صبح شکر نامہ کھولیں اور صرف تین چیزیں لکھیں جن پر آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہ صحت، گھر، اولاد، ایمان، وقت، رزق، کسی عزیز کی محبت یا کسی چھوٹی سی خوشی سے متعلق ہو سکتی ہیں۔

ہر نعمت لکھنے کے بعد چند لمحے رکیں اور دل میں اس نعمت کو محسوس کریں، پھر کہیں: الحمد للہ۔

شام کا شکر کیوں لکھیں؟

شام کا وقت پورے دن پر نظر ڈالنے کا موقع دیتا ہے۔ دن میں جو اچھا ہوا، جو آسانی ملی، جس شخص نے مدد کی یا جس نعمت کو محسوس کیا، اسے یاد کرکے شکر نامے میں لکھا جا سکتا ہے۔

یہ عمل دن کے تجربات کو شعوری طور پر یاد کرنے کا ایک طریقہ بن سکتا ہے۔ ماہرِ نفسیات رک ہینسن اپنی کتاب Hardwiring Happiness میں مثبت تجربات کو چند اضافی لمحوں تک ذہن میں رکھنے اور انہیں شعوری طور پر محسوس کرنے کی مشق بیان کرتے ہیں۔ 1

شام کے شکر کی ایک سادہ مشق

سونے سے پہلے چند منٹ نکالیں اور خود سے پوچھیں: آج اللہ تعالیٰ نے مجھے کون سی نعمتیں عطا کیں؟ آج کون سی اچھی بات ہوئی؟ آج میں نے کس چیز سے سکون یا خوشی محسوس کی؟

پھر تین چیزیں لکھیں اور ہر ایک کے بعد کچھ لمحے رک کر دل سے الحمد للہ کہیں۔

صبح یا شام، کون سا وقت چنیں؟

اگر آپ صبح چند منٹ آسانی سے نکال سکتے ہیں تو صبح کا وقت منتخب کریں۔ اگر صبح مصروف ہوتی ہے لیکن شام کو سکون سے بیٹھ سکتے ہیں تو شام بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔

اصل مقصد یہ نہیں کہ ہر شخص لازماً صبح شکر لکھے یا لازماً رات کو۔ اصل مقصد ایسا وقت مقرر کرنا ہے جو آپ کی روزمرہ زندگی میں حقیقتاً قابلِ عمل ہو۔

مثلاً آپ یہ طے کر سکتے ہیں:

میں روزانہ فجر کے بعد پانچ منٹ شکر نامہ لکھوں گی۔

یا:

میں روزانہ عشاء کے بعد پانچ منٹ شکر نامہ لکھوں گی۔

جب وقت اور جگہ پہلے سے واضح ہوں تو نئی عادت پر عمل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ جیمز کلیئر بھی habit کے لیے مخصوص وقت اور جگہ طے کرنے کو implementation intention کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ 2

کیا صبح اور شام دونوں وقت لکھ سکتے ہیں؟

جی ہاں، اگر آپ کے لیے دونوں اوقات آسان ہیں تو صبح اور شام دونوں وقت شکر نامہ لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ابتدا میں خود پر بہت زیادہ بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں۔

آپ چاہیں تو پہلے صرف ایک وقت منتخب کریں اور اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ بعد میں اگر یہ عمل آسان محسوس ہو تو دوسرا وقت بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

صبح اور شام کے شکر میں فرق

صبح: دن کے آغاز میں موجود نعمتوں کو یاد کریں اور اللہ تعالیٰ سے اچھے دن کے لیے دعا کریں۔

شام: گزرے ہوئے دن کی نعمتوں اور اچھے تجربات کو یاد کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔

مثلاً صبح آپ لکھ سکتی ہیں:

یا اللہ! آج کے دن کی نعمتوں کے لیے تیرا شکر ہے۔ مجھے اپنے وقت، صحت اور صلاحیتوں کو اچھے کاموں میں استعمال کرنے کی توفیق دے۔ الحمد للہ۔

اور شام کو لکھ سکتی ہیں:

یا اللہ! آج کے دن میں جو آسانیاں، نعمتیں اور خوشیاں ملیں، ان سب کے لیے تیرا شکر ہے۔ الحمد للہ۔

اگر صبح اور شام دونوں ممکن نہ ہوں؟

کوئی مسئلہ نہیں۔ شکر نامہ صرف صبح یا شام تک محدود نہیں۔ اگر آپ کے لیے دوپہر کا وقت زیادہ مناسب ہے تو دوپہر میں لکھیں۔ اگر کام سے واپس آنے کے بعد چند منٹ ملتے ہیں تو اس وقت لکھیں۔

بس کوشش کریں کہ آپ کے شکر نامے کا وقت واضح ہو۔ وقت اور جگہ کو عادت کے ساتھ جوڑنا عمل کو یاد رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ 3

کیا 21 دن میں شکر نامہ عادت بن جاتا ہے؟

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی عادت کو بنانے کے لیے 21 دن کافی ہوتے ہیں، لیکن اسے ایک قطعی سائنسی اصول سمجھنا درست نہیں۔ ہر شخص اور ہر عادت کے لیے وقت مختلف ہو سکتا ہے۔

اس لیے شکر نامے کے لیے خود کو یہ پابندی نہ دیں کہ 21 دن مکمل ہوتے ہی عادت لازماً مضبوط ہو جائے گی۔ اس کے بجائے مقصد مستقل مزاجی رکھیں۔ اگر کسی دن ناغہ ہو جائے تو اگلے دن دوبارہ شروع کر دیں۔

عادت بنانے کے لیے زیادہ مفید حکمتِ عملی یہ ہے کہ عمل کو کسی واضح وقت، جگہ یا روزمرہ کے پہلے سے موجود کام کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ جیمز کلیئر کی وضاحت کے مطابق مخصوص وقت اور جگہ پہلے سے طے کرنا عمل کے لیے واضح cue پیدا کرتا ہے۔ 4

شکر نامہ لکھنے میں کتنا وقت لگے؟

شکر نامہ لکھنے کے لیے لمبا وقت ضروری نہیں۔ ابتدا میں صرف چند منٹ کافی ہو سکتے ہیں۔ آپ تین نعمتیں لکھیں، ہر نعمت پر چند لمحے رکیں اور پھر الحمد للہ کہیں۔

اگر کسی دن زیادہ وقت ہو تو تفصیل سے لکھیں۔ اگر مصروفیت زیادہ ہو تو مختصر لکھیں۔ مقصد لمبا مضمون لکھنا نہیں بلکہ شکرگزاری کو اپنی زندگی میں جگہ دینا ہے۔

شکر لکھتے وقت صرف الفاظ نہیں، احساس بھی

شکر نامہ صرف فہرست بنانے کا نام نہیں۔ کوشش کریں کہ جب آپ کسی نعمت کو لکھیں تو چند لمحوں کے لیے اس نعمت پر توجہ بھی دیں۔

رک ہینسن کی Taking in the Good مشق میں مثبت تجربے کو چند سیکنڈ تک شعوری طور پر محسوس کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کسی مثبت تجربے کو زیادہ توجہ سے محسوس کرنا اسے ذہنی طور پر زیادہ مضبوطی سے یاد رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ 5

مثلاً صرف یہ لکھنے کے بجائے:

الحمد للہ، میرے پاس گھر ہے۔

چند لمحوں کے لیے اپنے محفوظ گھر، اپنے کمرے، اپنے پیاروں اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو محسوس کریں، پھر کہیں:

الحمد للہ رب العالمین۔

اگر ایک دن شکر لکھنا بھول جائیں؟

خود کو ملامت نہ کریں۔ ایک دن کا ناغہ پوری عادت کو ختم نہیں کرتا۔ اگلے دستیاب وقت پر دوبارہ شکر نامہ کھولیں اور صرف تین چیزیں لکھ دیں۔

مقصد کامل ہونا نہیں، واپس آنا ہے۔ آہستہ آہستہ یہی واپسی مستقل مزاجی پیدا کرتی ہے۔

یاد دہانی کیسے بنائیں؟

اگر آپ بار بار شکر نامہ لکھنا بھول جاتی ہیں تو موبائل میں reminder لگا سکتی ہیں۔ یاد دہانی کا پیغام بہت سادہ رکھیں:

تین نعمتیں لکھیں — الحمد للہ

اگر آپ فجر کے بعد لکھتی ہیں تو نماز کے بعد شکر نامہ رکھ سکتی ہیں۔ اگر رات کو لکھتی ہیں تو اسے سونے کی تیاری کے معمول کے ساتھ جوڑ سکتی ہیں۔ اس طرح شکر نامہ کسی الگ اور مشکل کام کے بجائے روزمرہ معمول کا حصہ بن سکتا ہے۔

صبح کے شکر کا آسان طریقہ

آنکھ کھلنے کے بعد اپنے معمول کے مطابق نماز اور ضروری کام مکمل کریں۔ پھر شکر نامہ کھولیں، تاریخ لکھیں اور تین نعمتیں درج کریں۔ ہر نعمت پر چند لمحے رکیں اور الحمد للہ کہیں۔ آخر میں ایک مختصر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آج کے دن کو خیر، برکت اور نیکی کا ذریعہ بنائے۔

شام کے شکر کا آسان طریقہ

سونے سے پہلے چند منٹ نکالیں۔ دن بھر کے واقعات کو ذہن میں لائیں اور تین نعمتیں لکھیں۔ کسی اچھی گفتگو، آسانی، صحت، رزق، عبادت، محبت یا کسی چھوٹی خوشی کو نظر انداز نہ کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اپنے دن کی کمی کوتاہیوں پر معافی مانگیں۔

آپ کے لیے کون سا وقت مناسب ہے؟

اب اس باب کے بعد اپنے لیے صرف ایک فیصلہ کریں: میں شکر نامہ کب لکھوں گی؟

اگر صبح پرسکون وقت ملتا ہے تو صبح منتخب کریں۔ اگر رات کو ذہن زیادہ پرسکون ہوتا ہے تو شام یا رات منتخب کریں۔ اگر دونوں مشکل ہیں تو دن کا کوئی ایسا وقت منتخب کریں جو حقیقتاً آپ کے معمول میں شامل ہو سکے۔

اپنے فیصلے کو ایک واضح جملے میں لکھیں:

میں روزانہ ______ بجے، ______ جگہ پر، تین نعمتیں لکھوں گی۔

یہ چھوٹا سا فیصلہ شکر نامے کو ایک خیال سے عملی معمول میں تبدیل کر سکتا ہے۔

خلاصہ

شکر نامہ لکھنے کے لیے کوئی ایک لازمی وقت مقرر نہیں۔ صبح کا وقت دن کے آغاز میں شکر اور توجہ کے لیے مفید ہو سکتا ہے، جبکہ شام کا وقت گزرے ہوئے دن کی نعمتوں کو یاد کرنے کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔

اگر دونوں اوقات ممکن ہوں تو دونوں استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن ابتدا میں ایک مستقل وقت رکھنا زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ اگر صبح یا شام ممکن نہ ہو تو دن کا کوئی دوسرا وقت منتخب کریں۔ اہم بات یہ ہے کہ وقت واضح ہو، عمل آسان ہو اور آپ اسے اپنی زندگی کے کسی موجودہ معمول کے ساتھ جوڑ سکیں۔

اور یاد رکھیں: شکر نامہ کوئی مقابلہ نہیں۔ تین سطریں بھی کافی ہیں، اگر وہ دل سے لکھی گئی ہوں۔

عملی مشق

آج ہی اپنے شکر نامے کے لیے ایک وقت منتخب کریں۔ پھر موبائل میں یاد دہانی لگائیں یا اپنی کاپی کسی ایسی جگہ رکھیں جہاں وہ روزانہ نظر آئے۔ اگلے دن اسی مقررہ وقت پر صرف تین نعمتیں لکھیں۔

اگر کسی دن رہ جائے تو خود کو ناکام نہ سمجھیں۔ دوبارہ شروع کریں، الحمد للہ کہیں اور سفر جاری رکھیں۔

شکر کا سفر لمبی تحریر سے نہیں، ایک سچی سطر سے شروع ہو سکتا ہے۔

باب کے اہم نکات

صبح شکر لکھنا دن کے آغاز میں نعمتوں پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع دیتا ہے۔ شام کا شکر دن بھر کی نعمتوں کو یاد کرنے اور ان پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ دونوں اوقات اختیار کیے جا سکتے ہیں، لیکن ابتدا میں ایک واضح اور قابلِ عمل وقت منتخب کرنا آسان رہتا ہے۔ عادت بنانے کے لیے 21 دن کو لازمی سائنسی اصول سمجھنے کے بجائے مستقل مزاجی، واضح وقت اور واضح cue پر توجہ دینا زیادہ مناسب ہے۔

شکر نامے کا اصل مقصد زیادہ صفحات بھرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننا، انہیں یاد کرنا اور دل سے الحمد للہ کہنا ہے۔

اگلا باب

اب ہم ایک اور اہم سوال کی طرف بڑھیں گے: شکر نامے میں آخر کیا لکھنا چاہیے اور کیا نہیں لکھنا چاہیے؟ اگلے باب میں عام غلطیوں، مصنوعی شکرگزاری اور ایسے طریقوں پر بات ہوگی جن سے شکر نامہ محض الفاظ کی مشق بننے کے بجائے ایک بامعنی عمل رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں