16

این ایل پی اور شکرگزاری

تحریر شئیر کریں

این ایل پی اور شکرگزاری

انسان کی سوچ، زبان اور روزمرہ عادات اس کے رویوں پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اسی لیے اپنی سوچ کے انداز کو سمجھنا اور مثبت عادات کو اپنانا شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ این ایل پی اور شکرگزاری بھی اسی موضوع سے متعلق دو ایسے تصورات ہیں جنہیں بعض لوگ اپنی ذاتی اور روحانی بہتری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ NLP کے تمام دعوے سائنسی طور پر یکساں مضبوط ثابت نہیں ہوئے۔ اسی طرح شکرگزاری کو صحت کے مسائل کا علاج سمجھنا بھی درست نہیں۔ شکرگزاری ایک اچھی روحانی اور نفسیاتی عادت ہو سکتی ہے، لیکن بیماری کی صورت میں مناسب طبی علاج اپنی جگہ ضروری رہتا ہے۔

شکرگزاری کیا سکھاتی ہے؟

شکرگزاری کا مطلب صرف زبان سے الحمدللہ کہنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننا، دل سے ان کا اعتراف کرنا اور انہیں اللہ کی عطا سمجھنا بھی ہے۔

﴿لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾

’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔‘‘

(سورۃ ابراہیم: 7)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں شکرگزاری محض ایک مثبت سوچ نہیں بلکہ بندے کا اپنے رب کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے والی اہم عبادت اور اخلاقی صفت ہے۔

این ایل پی اور سوچ کا انداز

NLP یعنی Neuro-Linguistic Programming ایک ایسا طریقۂ کار ہے جو زبان، سوچ اور رویے کے باہمی تعلق کو سمجھنے اور بعض ذہنی و رویّاتی patterns پر کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

اس کے بعض طریقے self-reflection، communication اور اپنے خیالات پر توجہ دینے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم NLP کے بارے میں موجود سائنسی شواہد محدود اور متنازع ہیں، اس لیے اسے بیماریوں کے علاج یا یقینی ذہنی تبدیلی کا ثابت شدہ طریقہ قرار دینا مناسب نہیں۔

اس کے برعکس، اپنی گفتگو اور سوچ کا جائزہ لینا بذاتِ خود ایک مفید عادت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر:

’’میرے ساتھ ہمیشہ برا ہوتا ہے۔‘‘

کے بجائے انسان یہ سوچ سکتا ہے:

’’اس مشکل صورتِ حال میں میں کیا بہتر قدم اٹھا سکتی ہوں؟‘‘

یہ تبدیلی انسان کو شکایت سے عمل کی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔

صحت کے معاملے میں شکرگزاری

شکرگزاری انسان کو اپنی زندگی میں موجود نعمتوں پر توجہ دینے میں مدد دے سکتی ہے۔ بعض تحقیق میں gratitude practices کو ذہنی کیفیت اور wellbeing کے بعض پہلوؤں سے جوڑا گیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف شکرگزاری سے ذیابیطس، معدے کے مسائل یا دوسری جسمانی بیماریوں کا علاج ہو جاتا ہے۔

اس لیے صحت کے بارے میں متوازن رویہ ضروری ہے۔

ہم بیماری میں بھی الحمدللہ کہہ سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ڈاکٹر کی ہدایات، دوا، مناسب غذا اور ضروری طبی اقدامات بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔

یہی توکل اور تدبیر کا متوازن راستہ ہے۔

نماز اور شکرگزاری

شکرگزاری ہماری روحانی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی لا سکتی ہے۔ جب انسان صبح آنکھ کھلنے، صحت، گھر، اہلِ خانہ اور ایمان جیسی نعمتوں کو یاد کرتا ہے تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لیے شکر کا احساس بڑھ سکتا ہے۔

نماز بھی اسی شکر اور بندگی کا اہم ذریعہ ہے۔

اگر کوئی شخص اپنی نماز کی پابندی بہتر بنانا چاہتا ہے تو صرف مثبت جملے دہرانے کے بجائے ایک عملی نظام بنا سکتا ہے۔ مثلاً سونے کا وقت بہتر کرنا، الارم لگانا، وضو کی تیاری کرنا اور فجر کے لیے پہلے سے ذہنی ارادہ کرنا۔

یوں این ایل پی اور شکرگزاری جیسے تصورات کو اسلامی عبادات کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ مثبت عادات اور self-reflection کے ایک عمومی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

شکرگزاری اور اخلاقی اصلاح

شکرگزاری انسان کی توجہ اپنی محرومیوں سے ہٹا کر موجود نعمتوں کی طرف لے جانے میں مدد دے سکتی ہے۔ جب انسان دوسروں کی خوبیوں کو دیکھنے کی عادت اپناتا ہے تو حسد، شکایت اور بے مقصد گفتگو سے بچنے کی کوشش بھی آسان ہو سکتی ہے۔

اسلام نے زبان کی حفاظت پر خاص توجہ دی ہے۔ قرآن مجید میں غیبت سے واضح طور پر منع کیا گیا ہے:

﴿وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُم بَعْضًا﴾

’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔‘‘

(سورۃ الحجرات: 12)

اس لیے شکرگزاری کا ایک عملی نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسان دوسروں کی خامیوں پر گفتگو کرنے کے بجائے اپنی اصلاح اور اپنی نعمتوں پر توجہ دینا شروع کرے۔

لکھ کر شکر ادا کرنا کیوں مؤثر محسوس ہوتا ہے؟

صرف دل میں شکر محسوس کرنے کے بجائے اسے الفاظ میں لکھنا ایک زیادہ شعوری مشق بن سکتا ہے۔ جب ہم کاغذ پر لکھتے ہیں:

’’یا اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتی ہوں کہ تو نے میرے لیے آسانی پیدا کی۔‘‘

تو ہم اپنے احساس کو واضح الفاظ میں بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ اس سے ہمیں اپنی نعمتوں کو دوبارہ دیکھنے، ان پر غور کرنے اور انہیں معمولی سمجھنے کے بجائے قدر کرنے کا موقع ملتا ہے۔

اسی لیے روزانہ شکرگزاری لکھنے کی عادت بعض لوگوں کے لیے زیادہ مؤثر اور یاد رہنے والی محسوس ہوتی ہے۔ یہ کسی جادوئی فارمولے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ لکھنے کے دوران انسان چند لمحوں کے لیے رک کر اپنی زندگی، نعمتوں اور اللہ تعالیٰ کی عطاؤں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

آپ روزانہ صرف تین جملے لکھ سکتی ہیں:

الحمدللہ، آج میرے پاس یہ نعمت ہے۔

الحمدللہ، آج اللہ تعالیٰ نے میرے لیے یہ کام آسان کیا۔

الحمدللہ، میں اس نعمت کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کروں گی۔

یہ مختصر سی مشق شکرگزاری کو صرف ایک خیال کے بجائے روزمرہ کا شعوری عمل بنا سکتی ہے۔

Manifestation کیا ہے؟

آج کل Manifestation کا تصور بھی بہت عام ہے۔ اس سے عموماً یہ خیال مراد لیا جاتا ہے کہ انسان جس چیز کو بار بار تصور کرے، اسے لکھے اور اس کے حاصل ہونے کا یقین رکھے، وہ حقیقت بن سکتی ہے۔

مثلاً کوئی شخص ابھی کسی کامیابی تک نہیں پہنچا، لیکن وہ لکھنا شروع کر دیتا ہے:

’’میں کامیاب ہو چکی ہوں۔ میرا کام بہت اچھا چل رہا ہے۔ میری زندگی میں آسانی آ چکی ہے۔‘‘

اس عمل کو بعض لوگ manifestation کہتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ صرف کسی چیز کو لکھ دینے سے وہ لازماً حقیقت نہیں بن جاتی۔ مستقبل کا علم اور فیصلہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اسلام ہمیں دعا، حسنِ ظن باللہ، شکر، توکل اور عملی کوشش کی تعلیم دیتا ہے۔

اس لیے manifestation کو کسی ایسی طاقت کے طور پر سمجھنا درست نہیں جو انسان کے خیالات کی وجہ سے کائنات کو لازماً اس کے مطابق نتائج دینے پر مجبور کر دے۔

مستقبل کو پہلے سے لکھنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟

اگر کوئی شخص مستقبل کے مقصد کو ایسے لکھتا ہے جیسے وہ حاصل ہو چکا ہے تو اس کا ایک عملی فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کو واضح انداز میں دیکھنے لگے۔

مثلاً:

’’الحمدللہ، میں قرآن کی تعلیم کے ذریعے بہت سے لوگوں تک فائدہ پہنچا رہی ہوں۔‘‘

اگر یہ شخص ابھی وہاں نہیں پہنچا تو اسے اس جملے کو یقینی پیش گوئی سمجھنے کے بجائے اپنے مقصد اور امید کی تحریری تصویر سمجھنا چاہیے۔

پھر اس کے ساتھ عملی قدم بھی ہونا چاہیے:

’’میں روزانہ اپنے قرآن کورس کے لیے ایک گھنٹہ کام کروں گی۔‘‘

یہاں صرف خواہش نہیں بلکہ امید + نیت + عمل پیدا ہو جاتا ہے۔

اسی طرح کوئی شخص لکھ سکتا ہے:

’’الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے میرے رزق میں برکت عطا فرمائی اور میں اپنے گھر والوں اور ضرورت مندوں کی مدد کر رہی ہوں۔‘‘

اس کے بعد وہ اپنے موجودہ حالات میں حلال آمدنی کے ذرائع تلاش کرے، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔

یوں مستقبل کو مثبت انداز میں لکھنا انسان کے لیے ایک journaling exercise بن سکتا ہے، لیکن اسے غیبی حقیقت کا یقینی اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔

Manifestation اور اسلامی انداز میں فرق

دونوں انداز میں ایک بنیادی فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔

Manifestation کا عام تصور:

’’یہ ضرور ہوگا کیونکہ میں نے اسے لکھا اور اس کا تصور کیا ہے۔‘‘

اسلامی انداز:

’’یا اللہ! میں اس نعمت کی امید رکھتی ہوں۔ اگر یہ میرے حق میں بہتر ہے تو اسے میرے لیے آسان فرما، مجھے اس کے لیے درست کوشش کی توفیق دے اور اس میں برکت عطا فرما۔‘‘

دوسرے انداز میں انسان امید بھی رکھتا ہے، دعا بھی کرتا ہے، شکر بھی ادا کرتا ہے، عملی کوشش بھی کرتا ہے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد بھی کرتا ہے۔

یہی حسنِ ظن باللہ اور توکل کا زیادہ متوازن انداز ہے۔

شکرگزاری کو عادت بنائیں

شکرگزاری کو زندگی کا حصہ بنانے کے لیے کسی پیچیدہ طریقے کی ضرورت نہیں۔ روزانہ چند منٹ نکال کر اپنی نعمتوں کو لکھیں، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور پھر اپنے اگلے عملی قدم کے بارے میں سوچیں۔

مثلاً رات کو اپنے journal میں لکھیں:

آج اللہ تعالیٰ نے مجھے کون سی نعمت دی؟

آج میں نے کس مشکل میں اللہ کی مدد محسوس کی؟

کل میں کون سا ایک اچھا کام بہتر طریقے سے کر سکتی ہوں؟

یہ طریقہ شکرگزاری کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے عمل سے جوڑ دیتا ہے۔

اصل تبدیلی کہاں سے آتی ہے؟

این ایل پی اور شکرگزاری کو سمجھتے ہوئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر ذہنی تکنیک کو حقیقت اور شرعی اصولوں کے مطابق دیکھا جائے۔

NLP کو بیماریوں کا یقینی علاج یا ذہن تبدیل کرنے کا ثابت شدہ نسخہ سمجھنا درست نہیں، جبکہ شکرگزاری اسلام میں قرآن و سنت سے ثابت ایک عظیم صفت ہے۔

ہم مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر سکتے ہیں، اپنی اصلاح کی کوشش کر سکتے ہیں، نماز کی پابندی بہتر بنا سکتے ہیں، اپنی زبان و اخلاق کی حفاظت کر سکتے ہیں اور اپنے مستقبل کے لیے دعا کے ساتھ منصوبہ بندی بھی کر سکتے ہیں۔

شکرگزاری کا اصل مقصد صرف ’’مثبت سوچ‘‘ پیدا کرنا نہیں بلکہ نعمت دینے والے رب کو پہچاننا اور نعمت کو اس کی رضا کے مطابق استعمال کرنا ہے۔

دعا، شکر، حسنِ ظن، توکل اور عمل — یہی وہ خوبصورت امتزاج ہے جو انسان کو امید کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔

الحمدللہ علیٰ کل حال۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں