4

باب 1: شکر لکھنا اور محسوس کرنا

تحریر شئیر کریں

باب 1: شکر لکھنا اور محسوس کرنا

کیوں اور کیسے؟

Chap 1 shukr likhna or mehsos krna

انسان کی فطرت میں ایک عجیب سا تضاد ہے۔ ہم اپنی زندگی میں موجود بے شمار نعمتوں کو اکثر معمول سمجھ لیتے ہیں، مگر ایک کمی، ایک خواہش یا ایک پریشانی ہماری پوری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ ہمارے پاس بہت کچھ ہوتا ہے، لیکن نظر اس چیز پر ٹھہر جاتی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہوتی۔

شاید اسی لیے کبھی کبھی ایک انسان بظاہر بہت کچھ رکھنے کے باوجود اندر سے بے اطمینان محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ ہمیشہ نعمتوں کی کمی نہیں ہوتا؛ کبھی مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہماری توجہ نعمتوں سے ہٹ کر محرومیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔

یہاں شکرگزاری ہماری توجہ کو ایک نیا رخ دیتی ہے۔ شکر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف ان چیزوں کا نام نہیں جو ابھی حاصل نہیں ہوئیں، بلکہ ان نعمتوں کا نام بھی ہے جو پہلے ہی ہمارے پاس موجود ہیں۔

اور جب شکر کو صرف زبان تک محدود رکھنے کے بجائے لکھا اور محسوس کیا جائے تو یہ ایک باقاعدہ روزمرہ مشق بن سکتا ہے۔ یہی اس کتاب کا بنیادی تصور ہے۔

شکر لکھنا کیوں مفید ہے؟

بہت سے لوگ پوچھتے ہیں: شکر تو دل سے کرنا چاہیے، پھر اسے لکھنے کی کیا ضرورت ہے؟

یہ بات درست ہے کہ شکر کی اصل بنیاد دل کی معرفت اور زبان و عمل کے اظہار میں ہے۔ اسلامی روایت میں شکر کو صرف ایک لفظ نہیں سمجھا گیا بلکہ دل، زبان اور اعضاء کے ذریعے نعمت کو پہچاننے، اس کا اعتراف کرنے اور اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرنے سے جوڑا گیا ہے۔ ابن القیم نے بھی شکر کے ان پہلوؤں کو واضح کیا ہے۔

تحریر اس کے علاوہ ایک عملی ذریعہ ہے۔ جب ہم کسی نعمت کو لکھتے ہیں تو ہمیں چند لمحوں کے لیے رک کر اس نعمت پر توجہ دینی پڑتی ہے۔ یوں شکر ایک مبہم احساس کے بجائے ایک واضح اور یاد رہنے والی مشق بن سکتا ہے۔

اسی وجہ سے Gratitude Journaling یعنی شکرگزاری کی ڈائری جدید مثبت نفسیات میں بھی زیرِ مطالعہ رہی ہے۔ رابرٹ ایمونز کی کتاب Thanks! How the New Science of Gratitude Can Make You Happier میں شکرگزاری کو باقاعدہ طور پر cultivate کرنے اور gratitude journal رکھنے کے تجربات اور تحقیق پر گفتگو کی گئی ہے۔

لکھنے کے پانچ فائدے

اول: توجہ کا مرکز بدلتا ہے

جب آپ لکھنے بیٹھتے ہیں اور خود سے پوچھتے ہیں، “آج میں کس نعمت پر شکر ادا کر سکتی ہوں؟” تو آپ کی توجہ چند لمحوں کے لیے محرومی سے ہٹ کر موجود نعمت کی طرف آتی ہے۔ یہی توجہ شکرگزاری کی مشق کا اہم حصہ ہے۔

دوم: نعمت یاد رہتی ہے

زندگی بہت تیزی سے آگے بڑھتی ہے۔ آج کا خوبصورت لمحہ کل معمول بن سکتا ہے۔ ڈائری میں لکھی ہوئی نعمت دوبارہ پڑھنے پر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری زندگی میں اچھے لمحے بھی آئے تھے، مدد بھی ملی تھی، آسانیاں بھی پیدا ہوئی تھیں اور دعائیں بھی پوری ہوئی تھیں۔

سوم: احساس گہرا ہو سکتا ہے

صرف یہ لکھ دینا کہ “الحمدللہ، آج کا دن اچھا تھا” ایک مختصر اظہار ہے۔ لیکن اگر ہم رک کر سوچیں کہ آج کیا اچھا ہوا، کس نے ہمارا خیال رکھا، کس مشکل سے اللہ نے بچایا یا کون سی چھوٹی خوشی ہمیں ملی، تو شکر کا احساس زیادہ واضح ہو سکتا ہے۔

چہارم: خود آگاہی بڑھتی ہے

کچھ عرصے بعد جب انسان اپنی شکر کی ڈائری دوبارہ پڑھتا ہے تو اسے اپنی زندگی کا ایک مختلف نقشہ دکھائی دیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی خوشی صرف بڑی کامیابیوں سے وابستہ نہیں؛ ایک اچھی گفتگو، گھر کا سکون، صحت کا ایک بہتر دن، کسی عزیز کی مسکراہٹ یا کسی مشکل میں ملنے والی مدد بھی اس کی زندگی کی نعمت ہے۔

پنجم: شکایت اور شکر کے درمیان توازن پیدا ہوتا ہے

شکرگزاری کا مقصد یہ نہیں کہ انسان اپنی مشکلات سے انکار کرے۔ غم، پریشانی اور تکلیف حقیقی احساسات ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ موجود نعمتوں کو بھی دیکھنا سیکھا جا سکتا ہے۔ یہی توازن شکر کو حقیقت پسندانہ بناتا ہے۔

سائنس ہمیں کیا بتاتی ہے؟

شکرگزاری پر ہونے والی جدید تحقیق نے اسے خوش حالی، مثبت جذبات اور بعض نفسیاتی نتائج کے ساتھ زیرِ مطالعہ رکھا ہے۔ تاہم اسے کسی جادوئی فارمولے یا ہر بیماری کے علاج کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔

اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ صرف قلم اور کاغذ استعمال کرنے سے لازماً dopamine یا serotonin بڑھتا اور cortisol کم ہوتا ہے۔ انسانی دماغ اور جسم اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ شکرگزاری کی مشق کے اثرات فرد، طریقۂ مشق، مدت اور حالات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

ریک ہینسن اپنی کتاب Buddha’s Brain میں مثبت تجربات کو محض گزر جانے دینے کے بجائے ان پر توجہ دینے اور انہیں ذہن میں جگہ دینے کے تصور پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے کام میں مثبت تجربے کو محسوس کرنے اور اس پر کچھ دیر ٹھہرنے کو ذہنی تربیت کے ایک حصے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

یہ نکتہ ہماری شکرگزاری کی مشق کے لیے بھی مفید ہے: نعمت کو صرف دیکھنا نہیں، چند لمحے اسے محسوس کرنا بھی سیکھیں۔

شکر محسوس کرنا کیوں ضروری ہے؟

فرض کریں آپ نے اپنی ڈائری میں لکھا:

“الحمدللہ، میرے پاس گھر ہے۔”

اب چند لمحے رکیں اور سوچیں: اس گھر میں مجھے کیا ملتا ہے؟ آرام، تحفظ، اپنوں کی موجودگی، سونے کی جگہ، عبادت کی جگہ، یادیں اور سکون۔

یہی وہ مقام ہے جہاں لکھا ہوا لفظ ایک احساس سے جڑنے لگتا ہے۔

شکرگزاری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت خوش رہنے کا ڈراما کرے۔ اگر آج دل پریشان ہے تو اسے پریشان ہونے کی اجازت دیں، مگر اسی کے ساتھ یہ بھی پوچھیں:

“اس پریشانی کے باوجود میری زندگی میں کون سی نعمت ابھی موجود ہے؟”

یہ سوال حقیقت سے فرار نہیں، بلکہ حقیقت کا ایک دوسرا رخ دیکھنے کی کوشش ہے۔

اسلام میں شکر: علم، حال اور عمل

امام غزالی نے شکر کے مفہوم کو علم، حال اور عمل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یعنی پہلے انسان نعمت اور اس کے منعم کو پہچانے، پھر دل میں اس نعمت کے حوالے سے ایک کیفیت پیدا ہو، اور پھر اس شکر کا اثر عمل میں ظاہر ہو۔

یہ تصور ہماری کتاب کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ یہاں شکر صرف “اچھی چیزیں لکھنے” کا نام نہیں رہتا۔ اصل مقصد یہ ہے کہ انسان نعمت کو پہچانے، اللہ تعالیٰ کی عطا کو یاد کرے، دل میں شکر پیدا کرے اور پھر اس نعمت کو درست طریقے سے استعمال کرے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾

“اور جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب سخت ہے۔”

(سورۃ ابراہیم: 7)

یہاں شکر محض ایک نفسیاتی تکنیک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کے تعلق کا حصہ ہے۔

شکر محسوس کیسے کریں؟

طریقہ اول: نعمت کو تفصیل سے لکھیں

صرف یہ نہ لکھیں:

“الحمدللہ، آج مجھے کھانا ملا۔”

بلکہ رک کر سوچیں:

“الحمدللہ، آج میرے گھر میں کھانا موجود تھا۔ میں نے اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، اللہ نے رزق دیا اور میرے جسم کو اس سے توانائی ملی۔”

تفصیل ہمیں نعمت پر توجہ دینے میں مدد دیتی ہے۔

طریقہ دوم: چند لمحے رکیں

ہر نعمت لکھنے کے فوراً بعد اگلی نعمت کی طرف نہ بڑھیں۔ چند سیکنڈ رکیں۔ اس نعمت کو ذہن میں لائیں اور سوچیں کہ یہ میرے لیے کیوں اہم ہے۔

طریقہ سوم: ایک سوال پوچھیں

“اگر یہ نعمت میری زندگی میں نہ ہوتی تو کیا فرق پڑتا؟”

یہ سوال ہمیں کسی نعمت کی قدر محسوس کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن اس کا مقصد خوف پیدا کرنا نہیں، بلکہ موجود نعمت کی قدر پہچاننا ہے۔

طریقہ چہارم: شکر کا اظہار کریں

اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر کسی انسان کے ذریعے آپ تک کوئی بھلائی پہنچی ہے تو اس کا بھی شکریہ ادا کریں۔ شکر صرف دل میں رکھنے کے بجائے اچھے رویے اور عمل میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔

لکھنا، رکنا اور محسوس کرنا

اب اس کتاب کی پہلی عملی مشق کو ایک سادہ فارمولے میں سمجھیں:

لکھیں → رکیں → محسوس کریں → الحمدللہ کہیں

روزانہ صرف تین نعمتیں لکھیں۔ ضروری نہیں کہ وہ بڑی نعمتیں ہوں۔ کبھی ایک کپ چائے، کسی عزیز کی فون کال، نماز میں سکون، بارش، صحت کا اچھا دن یا کسی مشکل کام کا آسان ہو جانا بھی شکر کا موضوع بن سکتا ہے۔

اصل مقصد زیادہ سے زیادہ چیزیں لکھنا نہیں، بلکہ لکھی ہوئی نعمت کو توجہ کے ساتھ دیکھنا ہے۔

کیا شکر لکھنے سے زندگی فوراً بدل جائے گی؟

نہیں۔ اس کتاب کا مقصد کوئی ایسا وعدہ کرنا نہیں کہ چند دن شکر لکھنے سے ہر مسئلہ ختم ہو جائے گا یا ہر خواہش پوری ہو جائے گی۔

زندگی میں بیماری، غم، مالی مشکلات، رشتوں کے مسائل اور آزمائشیں اپنی جگہ موجود رہ سکتی ہیں۔ شکر ان سب سے انکار نہیں کرتا۔ بلکہ شکر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آزمائش کے درمیان بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا نہ چھوڑیں۔

ممکن ہے شکر کی مستقل مشق ہماری توجہ، رویے اور روزمرہ سوچ پر مثبت اثر ڈالے۔ لیکن نتیجہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ یہی مقام ہے جہاں شکر کے ساتھ دعا، توکل اور عملی کوشش بھی ضروری ہو جاتی ہے۔

آج کی عملی مشق

آج رات سونے سے پہلے ایک کاغذ یا اپنی شکر کی ڈائری کھولیں۔

تین ایسی نعمتیں لکھیں جن پر آپ آج شکر گزار ہیں۔ ہر نعمت کے ساتھ ایک جملہ یہ بھی لکھیں کہ یہ نعمت میرے لیے کیوں اہم ہے؟

پھر ہر نعمت کے بعد چند سیکنڈ رکیں اور اسے محسوس کریں۔ آخر میں دل سے کہیں:

“الحمدللہ، یا اللہ! تیری اس نعمت کا شکر ہے۔ مجھے اسے پہچاننے، اس کی قدر کرنے اور اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی توفیق دے۔”

یہ آپ کی شکر کی ڈائری کا پہلا صفحہ ہے۔

اس باب کا خلاصہ

شکر صرف زبان سے “الحمدللہ” کہنے کا نام نہیں۔ شکر نعمت کو پہچاننے، اللہ تعالیٰ کی عطا کا اعتراف کرنے، دل میں اس کی قدر پیدا کرنے اور اسے درست عمل میں ظاہر کرنے کا نام ہے۔

تحریر اس شکر کو روزمرہ زندگی میں ایک باقاعدہ مشق بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ جب ہم لکھتے ہیں، رک کر سوچتے ہیں اور نعمت کو محسوس کرتے ہیں تو ہماری توجہ ان چیزوں کی طرف بھی جاتی ہے جو روزمرہ کی مصروفیت میں نظر انداز ہو جاتی ہیں۔

اس کتاب میں ہم اسی عمل کو آگے بڑھائیں گے: شکر لکھنا، شکر محسوس کرنا، دعا کرنا، اپنے مقاصد واضح کرنا اور پھر عملی قدم اٹھانا۔

اور شاید شکر کی سب سے خوبصورت بات یہی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی بدلنے کے لیے ہمیشہ کسی بڑی تبدیلی کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ کبھی کبھی تبدیلی ایک چھوٹے سے جملے سے شروع ہوتی ہے:

الحمدللہ، میرے پاس جو ہے وہ بھی ایک نعمت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں