باب 6: شکر اور رشتے: دوسروں کا شکریہ ادا کرنا
تمہید
اب تک ہم نے شکر کے انفرادی پہلو دیکھے۔ ہم نے جانا کہ خود کیسے شکر کریں، کیسے لکھیں، اور مشکل حالات میں شکر کیسے قائم رکھیں۔
مگر انسان اکیلا نہیں رہتا۔
وہ رشتوں میں رہتا ہے۔
ماں، باپ، بہن، بھائی، شریکِ حیات، بچے، دوست، پڑوسی اور ساتھی۔
یہی رشتے زندگی میں محبت، تعاون اور اپنائیت پیدا کرتے ہیں۔ یہی لوگ مشکل وقت میں سہارا بنتے ہیں اور خوشی کے لمحات میں ہمارے ساتھ خوش ہوتے ہیں۔
مگر ایک سوال ہے:
کیا ہم ان رشتوں کا شکر ادا کرتے ہیں؟
اکثر ہم نہیں کرتے۔
ہم ماں کی محبت کو عادت سمجھ لیتے ہیں۔
باپ کی محنت کو فرض سمجھ لیتے ہیں۔
دوست کی وفا کو اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔
شریکِ حیات کے تعاون کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔
پھر کبھی حالات بدل جاتے ہیں، فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں یا کوئی عزیز ہماری زندگی سے چلا جاتا ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جن محبتوں کو ہم معمول سمجھتے رہے، وہ دراصل کتنی بڑی نعمت تھیں۔
یہ باب اسی سوال کا جواب ہے:
رشتوں میں شکر کیسے کریں؟
پہلا سوال: رشتوں میں شکر کیوں ضروری ہے؟
پہلی وجہ: شکر رشتوں میں قدر شناسی پیدا کرتا ہے
جب آپ کسی کا خلوص، محبت یا تعاون تسلیم کرتے ہیں اور اسے شکریہ کہتے ہیں تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی کوشش آپ کی نظر میں ہے۔
ایک سادہ جملہ بھی رشتے میں محبت اور قدر کا احساس پیدا کر سکتا ہے:
“آپ نے میرے لیے جو کیا، میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔”
رشتے صرف بڑے کاموں سے نہیں، بلکہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی محبتوں سے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
دوسری وجہ: شکر شکایت کے رجحان کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے
بہت سے رشتوں میں وقت کے ساتھ شکایتیں بڑھنے لگتی ہیں:
“تم نے یہ نہیں کیا۔”
“تم وہ نہیں کرتے۔”
“تم مجھے نہیں سمجھتے۔”
اگر انسان صرف کمیوں پر نظر رکھے تو اسے دوسرے کی اچھی کوششیں نظر آنا کم ہو سکتی ہیں۔
شکر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ رشتے میں جو اچھا ہے، اسے بھی دیکھا جائے:
“شکر ہے کہ تم میرے ساتھ ہو۔”
“شکر ہے کہ تم نے آج میری مدد کی۔”
“میں تمہاری اس کوشش کی قدر کرتا ہوں۔”
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مسئلے پر خاموش ہو جائیں۔ حقیقی اختلاف، ناانصافی یا تکلیف ہو تو اسے مناسب انداز میں بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ شکر کا مطلب مسائل کو چھپانا نہیں، بلکہ خوبیوں کو نظرانداز نہ کرنا ہے۔
تیسری وجہ: شکر رشتوں میں محبت کے اظہار کا ذریعہ ہے
جس رشتے میں محبت ہو مگر اس کا اظہار نہ ہو، وہاں وقت کے ساتھ فاصلے پیدا ہو سکتے ہیں۔
شکر انسان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے دل کی قدر شناسی زبان، تحریر اور عمل کے ذریعے ظاہر کرے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔”
جامع ترمذی
یہ حدیث ہمیں لوگوں کی نعمتوں اور احسانات کو تسلیم کرنے کی اہمیت یاد دلاتی ہے۔
دوسرا سوال: کس کس کا شکر ادا کریں؟
1۔ والدین کا شکر
والدین انسان کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ہیں۔
ماں حمل کی تکلیف برداشت کرتی ہے، بچے کو جنم دیتی ہے اور اس کی پرورش میں اپنا وقت اور توانائی صرف کرتی ہے۔ باپ بھی اپنی ذمہ داریوں کے مطابق خاندان کے لیے محنت اور جدوجہد کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے پیٹ میں رکھا…”
سورۃ لقمان: 14
اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کا بھی ذکر فرمایا۔
والدین کا شکر کیسے کریں؟
ان کے لیے دعا کریں۔
ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔
جائز امور میں ان کی اطاعت کریں۔
ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔
زبان سے ان کا شکریہ ادا کریں۔
اپنے شکرنامے میں ان کے لیے شکر لکھیں۔
کبھی صرف اتنا کہنا بھی کافی ہے:
“امی، آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا، میں اس کی قدر کرتی ہوں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔”
2۔ شریکِ حیات کا شکر
شریکِ حیات زندگی کے بہت سے حالات میں ہمارا ساتھی ہوتا ہے۔ اس کی محبت، تعاون، محنت اور چھوٹی چھوٹی کوششیں بھی قابلِ قدر ہو سکتی ہیں۔
شریکِ حیات کا شکر کیسے کریں؟
اس کے لیے دعا کریں۔
اس کی محبت اور تعاون کا شکریہ ادا کریں۔
اس کی چھوٹی چھوٹی کوششوں کو سراہیں۔
اسے بتائیں:
“تم میرے لیے اہم ہو۔”
اس کے لیے اپنے شکرنامے میں شکر لکھیں۔
کبھی ایک سادہ جملہ بھی بہت معنی رکھتا ہے:
“آج تم نے جو میری مدد کی، میں اس کے لیے شکر گزار ہوں۔”
3۔ بچوں کا شکر
بچے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔
ان کی مسکراہٹ، باتیں، سوالات، سیکھنے کی کوششیں اور معصوم خوشیاں گھر میں زندگی کا احساس پیدا کرتی ہیں۔
بچوں کے لیے شکر کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم ان سے خوشی حاصل کریں، بلکہ ان کی شخصیت، جذبات اور ضروریات کو بھی اہمیت دیں۔
بچوں کے ساتھ شکر کا اظہار کیسے کریں؟
ان کے لیے دعا کریں۔
ان کی بات توجہ سے سنیں۔
ان کے ساتھ وقت گزاریں۔
ان کی اچھی کوششوں کی تعریف کریں۔
ان کے لیے شکر لکھیں۔
اور کبھی انہیں یہ بھی کہیں:
“اللہ کا شکر ہے کہ تم میری زندگی میں ہو۔”
4۔ دوستوں کا شکر
دوست وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ انسان اپنی خوشیاں، پریشانیاں اور زندگی کے مختلف مراحل بانٹتا ہے۔
اچھا دوست خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود دل کے قریب ہو سکتا ہے۔
دوستوں کا شکر کیسے کریں؟
ان کے لیے دعا کریں۔
ان سے مناسب رابطہ رکھیں۔
ضرورت کے وقت ان کی مدد کریں۔
ان کی خیرخواہی کی قدر کریں۔
ان کا شکریہ ادا کریں۔
ان کے لیے شکرنامے میں شکر لکھیں۔
کبھی ایک پیغام بھی کافی ہوتا ہے:
“تم نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا، میں اسے نہیں بھولی۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔”
5۔ پڑوسیوں کا شکر
اسلام نے پڑوسیوں کے حقوق پر خاص توجہ دی ہے۔
پڑوسی ہمارے روزمرہ ماحول کا حصہ ہوتے ہیں۔ کبھی وہ خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور کبھی ضرورت کے وقت مددگار بن جاتے ہیں۔
پڑوسیوں کے ساتھ شکر کا اظہار کیسے کریں؟
ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔
ان کی ضرورت کے وقت حسبِ استطاعت مدد کریں۔
ان کے لیے دعا کریں۔
ان کے اچھے رویے کی قدر کریں۔
اور مناسب موقع پر ان کا شکریہ ادا کریں۔
6۔ ساتھیوں کا شکر
دفتر کے ساتھی، تدریسی ساتھی، کاروباری ساتھی یا کام سے وابستہ دوسرے لوگ بھی ہماری روزمرہ زندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔
کبھی ان کی مدد ہمارا کام آسان کر دیتی ہے، کبھی ان کا مشورہ کسی مشکل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ساتھیوں کے ساتھ شکر کا اظہار کیسے کریں؟
ان کا شکریہ ادا کریں۔
ان کی اچھی کوشش کی تعریف کریں۔
ضرورت کے وقت ان کی مدد کریں۔
ان کے لیے دعا کریں۔
اور جہاں مناسب ہو، ان کی کوشش کو دوسروں کے سامنے بھی تسلیم کریں۔
تیسرا سوال: رشتوں میں شکر کیسے لکھیں؟
اب سب سے اہم سوال:
شکر کو لکھا کیسے جائے؟
اس کے کئی طریقے ہیں، لیکن یہاں تین آسان طریقے دیکھتے ہیں۔
طریقہ 1: شکرنامے میں لکھیں
اپنے روزانہ کے تین شکر میں ایک شکر کسی رشتے کے لیے ضرور شامل کریں۔
1۔ ماں کی دعا
آج صبح ماں نے کہا:
“اللہ تمہیں کامیاب کرے۔”
یہ دعا میرے ساتھ پورے دن رہی۔
الحمد للہ کہ میری ماں میرے لیے دعا کرتی ہے۔
میں نے چند لمحے رک کر اس دعا کو محسوس کیا اور دل سے کہا:
یا اللہ! تیرا شکر ہے۔
2۔ شریکِ حیات کا تعاون
آج انہوں نے میرے لیے چائے بنا دی، حالانکہ میں نے کہا بھی نہیں تھا۔
یہ ایک چھوٹا سا کام تھا، مگر اس میں محبت اور خیال موجود تھا۔
الحمد للہ۔
میں نے چند لمحے رک کر اس احساس کو محسوس کیا اور دل سے کہا:
یا اللہ! تیرا شکر ہے۔
3۔ دوست کا پیغام
آج ایک دوست نے صرف یہ پوچھا:
“کیسے ہو؟”
یہ چھوٹا سا سوال بھی اپنائیت کا احساس دے گیا۔
الحمد للہ۔
میں نے دوست کو یاد کیا اور دل سے کہا:
یا اللہ! تیرا شکر ہے۔
طریقہ 2: شکریہ خط لکھیں
یہ شکر کے اظہار کا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔
کسی ایک شخص کو منتخب کریں اور اسے ایک خط لکھیں۔
خط میں یہ بتائیں کہ اس شخص کی کون سی خوبی، محبت یا کوشش آپ کے لیے اہم رہی ہے۔
مثال:
پیاری ماں!
آج میں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ آپ میرے لیے کتنی اہم ہیں۔
آپ نے مجھے جنم دیا، میری پرورش کی اور میری زندگی کے بہت سے مراحل میں میرا ساتھ دیا۔
آپ کی دعائیں میرے لیے ہمیشہ قیمتی رہی ہیں۔
شاید میں نے آپ کا اتنا شکریہ ادا نہیں کیا جتنا کرنا چاہیے تھا۔
آج میں دل سے کہنا چاہتی ہوں:
شکر ہے کہ اللہ نے آپ کو میری ماں بنایا۔
اللہ آپ کو جزائے خیر دے اور مجھے آپ کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے۔
آپ کی بیٹی
اگر ممکن ہو تو یہ خط صرف لکھ کر نہ رکھیں۔ اسے اس شخص تک پہنچائیں یا مناسب موقع پر پڑھ کر سنائیں۔
ماہرِ نفسیات اور شکرگزاری کے محقق ڈاکٹر رابرٹ ایمونز نے اپنی تحریروں میں gratitude letter یعنی شکرگزاری کے خط کو شکر کے اظہار کی ایک عملی صورت کے طور پر بیان کیا ہے۔ اس طریقے کا مقصد انسان کو اپنے احسانات اور تعلقات کو واضح طور پر پہچاننے اور ان کا اظہار کرنے کی مشق دینا ہے۔
طریقہ 3: شکریہ کہیں — زبان سے
لکھنا ایک چیز ہے۔
کہنا دوسری چیز ہے۔
کبھی کبھی دل میں موجود شکر کو زبان سے ادا کرنا ہی وہ چیز ہوتی ہے جس کی دوسرے شخص کو ضرورت ہوتی ہے۔
ماں سے کہیں:
“امی، آپ کا بہت شکریہ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔”
باپ سے کہیں:
“ابو، آپ نے میرے لیے جو محنت کی، میں اس کی قدر کرتا ہوں۔”
شریکِ حیات سے کہیں:
“تم میرے ساتھ جس طرح تعاون کرتے ہو، میں اس کے لیے شکر گزار ہوں۔”
بچوں سے کہیں:
“اللہ کا شکر ہے کہ تم میری زندگی میں ہو۔”
دوست سے کہیں:
“تم نے میرا ساتھ دیا، میں تمہارا شکر گزار ہوں۔”
یہ چھوٹے جملے رشتے میں محبت اور قدر شناسی کے اظہار کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
چوتھا سوال: کیا واقعی رشتوں میں شکر سے تبدیلی آ سکتی ہے؟
یہ سوال بہت سے لوگ پوچھتے ہیں۔
شکرگزاری انسان کی توجہ کو صرف کمیوں سے ہٹا کر موجود نعمتوں اور دوسرے کی اچھی کوششوں کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ اس سے انسان کے اپنے رویے میں تبدیلی آ سکتی ہے، اور اس کے نتیجے میں رشتے کے ماحول پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے:
شکر کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرا شخص لازماً بدل جائے گا۔
فرض کریں ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ اکثر شکایت اور ناراضی کے انداز میں بات کرتا ہے۔
وہ فیصلہ کرتا ہے کہ اب وہ روزانہ اپنی بیوی کی کم از کم ایک اچھی کوشش کو پہچانے گا۔
وہ لکھتا ہے:
“شکر ہے کہ میری بیوی نے آج میرے لیے کھانا بنایا۔”
“شکر ہے کہ وہ بچوں کا خیال رکھتی ہے۔”
“شکر ہے کہ مشکل وقت میں اس نے میرا ساتھ دیا۔”
کچھ عرصے بعد ممکن ہے کہ اس کی بیوی بھی اس کے رویے میں تبدیلی محسوس کرے۔
لیکن اصل پہلی تبدیلی کہاں آئی؟
اس کی اپنی نظر میں۔
اس نے صرف کمیوں کو دیکھنے کے بجائے خوبیوں کو بھی دیکھنا شروع کیا۔
اس کی شکایت کم ہو سکتی ہے۔
اس کی قدر شناسی بڑھ سکتی ہے۔
اس کے اندازِ گفتگو میں نرمی آ سکتی ہے۔
اور اس مثبت تبدیلی سے رشتے کے ماحول پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
یہی شکر کی ایک اہم طاقت ہے:
شکر ہمیشہ دوسرے انسان کو بدلنے سے پہلے ہمیں اپنی نظر اور اپنے رویے کو دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔
پانچواں سوال: عام غلطیاں
غلطی 1: صرف لکھنا، کہنا نہیں
لکھنا اچھا ہے، مگر جہاں مناسب ہو وہاں زبان سے بھی شکریہ ادا کریں۔
جو قدر دل میں ہے، اسے کبھی الفاظ میں بھی لے آئیں۔
غلطی 2: شکایت کے ساتھ شکر
مثلاً:
“شکر ہے تم نے یہ کام کیا، مگر تم نے وہ کیوں نہیں کیا؟”
یہ شکر کے فوراً بعد شکایت شروع کر دیتا ہے۔
اگر واقعی کوئی مسئلہ ہے تو اسے الگ وقت میں، مناسب انداز سے بیان کریں۔
غلطی 3: دوسروں سے موازنہ
“فلاں کی بیوی تو بہتر ہے۔”
“فلاں کے بچے تو زیادہ سمجھدار ہیں۔”
یہ موازنہ رشتے میں شکر کے بجائے احساسِ کمتری اور ناراضی پیدا کر سکتا ہے۔
اپنے رشتے میں موجود اچھی چیزوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔
غلطی 4: فوری نتیجہ چاہنا
رشتے وقت، رویے اور مسلسل کوشش سے بنتے ہیں۔
شکرگزاری کو کسی دوسرے شخص کو فوراً بدلنے کا نسخہ نہ سمجھیں۔
شکر کریں، صبر کریں اور اپنے حصے کی اصلاح کرتے رہیں۔ نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
غلطی 5: صرف خاص مواقع پر شکر
یہ نہ سوچیں:
“سالگرہ پر شکریہ کہوں گا۔”
“کسی خاص موقع پر تعریف کر دوں گا۔”
شکر کے لیے خاص دن ضروری نہیں۔
ایک عام دن میں کہا گیا ایک سچا جملہ بھی بہت قیمتی ہو سکتا ہے۔
چھٹا سوال: مکمل نمونہ
رشتوں کے شکر کا نمونہ
تاریخ: یکم اکتوبر
1۔ ماں کی دعا
آج صبح ماں نے کہا:
“اللہ تمہیں کامیاب کرے۔”
یہ دعا میرے ساتھ پورے دن رہی۔
شکر ہے، میری ماں میرے لیے دعا کرتی ہے۔
الحمد للہ۔
چند لمحے رکی۔
ماں کا چہرہ یاد کیا۔
دل سے کہا:
یا اللہ! تیرا شکر ہے۔
2۔ شریکِ حیات کی محبت
آج انہوں نے میرے لیے چائے بنائی، بغیر میرے کہنے کے۔
یہ ایک چھوٹا سا کام تھا، مگر اس میں محبت اور خیال تھا۔
شکر ہے کہ میرے پاس ایسا ساتھی ہے جس کی اچھی کوششوں کو میں پہچان سکتی ہوں۔
الحمد للہ۔
چند لمحے رکی۔
چائے کا کپ یاد کیا۔
دل سے کہا:
یا اللہ! تیرا شکر ہے۔
3۔ دوست کا پیغام
آج ایک دوست نے پوچھا:
“کیسے ہو؟”
صرف ایک سوال تھا، مگر اس میں اپنائیت محسوس ہوئی۔
شکر ہے کہ میری زندگی میں ایسے لوگ ہیں جو میرا حال پوچھتے ہیں۔
الحمد للہ۔
چند لمحے رکی۔
دوست کو یاد کیا۔
دل سے کہا:
یا اللہ! تیرا شکر ہے۔
آج کا سبق
رشتوں میں جو اچھا ہے، اسے دیکھنا، اسے محسوس کرنا اور اس کا اظہار کرنا بھی شکر ہے۔
ساتواں سوال: ایک آخری بات
ہم اکثر ماں کی محبت کو عادت سمجھ لیتے ہیں۔
باپ کی محنت کو فرض سمجھ لیتے ہیں۔
دوست کی وفا کو اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔
شریکِ حیات کے تعاون کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔
حالانکہ ہر محبت کو محسوس کرنا اور ہر احسان کو تسلیم کرنا انسان کے دل کو نرم کرتا ہے۔
اس لیے جس شخص کے لیے آپ کے دل میں شکر ہے، اسے صرف دل میں نہ رکھیں۔
آج شکریہ کہیں۔
آج شکر لکھیں۔
آج اسے بتائیں:
“تم میرے لیے اہم ہو۔”
زندگی کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔
جو محبت، قدر اور شکر آج ظاہر کیا جا سکتا ہے، اسے بلاوجہ مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔”
جامع ترمذی
خلاصہ
اول: رشتوں میں شکر قدر شناسی اور محبت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔
دوم: والدین، شریکِ حیات، بچے، دوست، پڑوسی اور ساتھی سب کے ساتھ اچھے رویے اور قدر شناسی کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔
سوم: شکر کے تین آسان طریقے ہیں: شکرنامہ، شکریہ خط اور زبان سے شکریہ۔
چہارم: شکریہ خط شکر کے اظہار کا ایک عملی اور مؤثر طریقہ ہے۔
پنجم: زبان سے سچا شکریہ دوسرے شخص تک قدر شناسی براہِ راست پہنچاتا ہے۔
ششم: شکر کا مطلب مسائل کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ خوبیوں کو بھی دیکھنا ہے۔
ہفتم: موازنہ، فوری نتیجے کی توقع اور شکایت کے ساتھ شکر کرنا شکر کے مقصد کو کمزور کر سکتا ہے۔
ہشتم: خاص مواقع کا انتظار نہ کریں؛ جہاں مناسب ہو، روزمرہ زندگی میں بھی شکریہ ادا کریں۔
عملی مشق
آج ہی یہ مشق کریں:
1۔ اپنے کسی ایک عزیز کو منتخب کریں۔
2۔ اس کے لیے شکرنامے میں کم از کم تین جملے لکھیں۔
3۔ اس شخص کے لیے ایک مختصر شکریہ خط لکھیں۔
4۔ مناسب موقع پر اسے زبان سے شکریہ کہیں۔
5۔ اس کے لیے دعا کریں۔
6۔ اگلے دن کسی دوسرے عزیز کے لیے یہی مشق دہرائیں۔
آہستہ آہستہ آپ کو یہ محسوس ہوگا کہ شکر صرف ایک تحریری مشق نہیں رہا، بلکہ آپ کے تعلقات کو دیکھنے کا ایک نیا انداز بن رہا ہے۔
یہی رشتوں میں شکر کی خوبصورتی ہے۔
باب کے آخر میں اقتباسات
“اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے پیٹ میں رکھا…”
— سورۃ لقمان: 14
“جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔”
— جامع ترمذی
شکرگزاری کا خط انسان کو اپنی زندگی میں موجود نعمتوں اور تعلقات کو واضح طور پر پہچاننے اور ان کا اظہار کرنے کا موقع دیتا ہے۔
— ڈاکٹر رابرٹ ایمونز کی شکرگزاری سے متعلق تحریروں کا مفہومی خلاصہ
“رشتوں میں موجود محبت اور احسان کو پہچاننا شکر کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔”
— مصنف
“جو محبت دل میں ہے، اسے مناسب وقت پر زبان سے بھی ظاہر کرنا چاہیے۔”
— مصنف