406

اے چمن تو آدھا گوارا نہیں

تحریر شئیر کریں

اے چمن تو آدھا گوارا نہیں

سانحہ سقوط ڈھاکہ ہو یا سانحہ پشاور 16 دسمبر دھرتی کے سینے پہ وہ دن ہے جو رستا رہے گا۔دن آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔بھلا شہادت حسین سے بھی بڑا غم کا دن کوئی ہوگا ۔۔وہ بھی گزر گیا۔مگر اپنے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے گہرے اسباق چھوڑ گیا۔سانحہ سقوط ڈھاکہ بھی اپنے پیچھے بہت سے سبق چھوڑ گیا ہے۔جو اس قوم نے ابھی تک ازبر نہہں کیے۔
سانحہ سقوط ڈھاکہ بتاتا ہے کہ جو قومیں لسانیت اور فرقہ واریت کی بنیاد پر لڑتیں ہیں۔ان کے حصے بخرے کر دیے جاتے ہیں۔
کٹھ پتلی حکومتیں ہوں یا لوگ ان کی عمریں ان کے مذموم مقاصد کبھی انھیں دیرپا نہیں رہنے دیتے۔یہ آتے اور چلے جاتے مگر ان کے شرمناک کرتوت تاریخ کے سینے پہ نقش ہو کر ان کا سیاہ چہرہ دکھاتے رہتے۔سقوط ڈھاکہ کے باب میں جن لوگوں نے وفا جے دیپ جلاۓ وہ آج بھی مکرم ہیں۔اور جنہوں نے غرداریاں کیں وہ بھی منہ چھپاۓ پھرتے ہیں۔
سقوط ڈھاکہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ نا سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے۔۔۔ابھی تو آدھا حصہ گیا ہے۔باقی آدھے کی حفاظت کرنا سیکھ لو۔اپنے اندر کینسر کی طرح پلتے دشمن عناصر کو اپنے صفحوں سے اکھاڑ پھینکو۔۔۔۔جان لو انڈیا کبھی تمہارا وفادار تھا نا ہے اور نا ہوگا۔
رہی بات سانحہ پشاور کی تو یہ دکھ بھی بڑی ماؤں کے سینے پہ آج بھی تازہ ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں تازہ رہے گا۔قصوروار کون تھا؟

دشمن ایک ہی ہے۔سرحد پار سے آۓ ہوۓ انگارے کبھی سقوط ڈھاکہ کے بخیے کر دیتے ہین اور کبھی اے پی ایس کے بچوں کے ٹکٹرے ٹکڑے کرکے فوج کو پیغام دیا جاتا ہے۔کہ ہم تیری نسلیں مکا دیں گے۔قربان جاؤں اس قوم پہ یہ کبھی دشمن کے رعب میں آیا ہے نا آے گا۔پاک فوج نے سقوط ڈھاکہ میں بھی جان توڑ کوششیں کیں تھیں کہ یہ سانحہ نا ہوسکے۔پاک فوج کا مورال توڑنے والوں نے سانحہ پشاور بھی کروایا۔۔پاک فوج ہر محاذ پہ ثابت قدم رہی ۔۔۔۔پاک فوج تیری عظمت کو سلام
سانحے ہوتے ہیں اس لیے ہیں کہ قومیں اس سے سبق سیکھیں۔قومیں ہوتیں ہی وہ ہیں جو ان سانحات سے سبق سیکھتیں ہیں اور اپنے بچوں کو بتاتیں ہیں کہ دیکھو یہ حادثہ ہماری فلاں فلاں غلطی کی وجہ سے پیش آیا تھا۔سنو تم یہ غلطی نا کرنا۔۔۔۔دشمن کبھی اکیلا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔جب تک اندر سے مدد نا ملے۔۔۔۔اندر سے رخنے ڈالنے والوں کے سر کچلنا ہوگا۔جب اندر سے رخنے بند ہوں گے تو باہر سے کسی کی ہمت نہیں کوئی آنکھ اٹھا کے بھی دیکھ سکے۔۔۔اللہ اس باقی آدھے ملک کی بھی حفاظت فرما۔کیا پتہ آگے کچھ ایسے حآدثے بھی چشم فلک نے دیکھنا ہوں جس میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان پھر سے ایک ہوں جائیں۔ہے نا مزے کی بات۔ن

سانحہ سقوط ڈھاکہ کا ایک سبق یہ بھی ہے جسے ہم۔سیاسی منظرنامے پہ ڈال کر سبکدوش ہوجاتے ہیں۔دراصل انفرادی سطح پر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم تعلقات اس طرح سے نہیں بنا پاۓ تھے جس طرح کے بناۓ جانے چاہیے تھے۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اگر اس کی غلطی تھی تو میری بھی تھی۔۔۔میں پاکستانی بنگالی اردو اور پنجابی بعد میں ہوں پہلے مسلمان تھا۔اسی اتحاد سے پاکستان بنا تھا۔ہم نے یہی اتحاد توڑ بیٹھے تھے جو ہماری ناکامی کا سبب بنا۔اگر اس نکتے کو سمجھ گۓتو سقوط ڈھاکہ سے سبق سیکھ لیا.۔۔

اے چمن تو آدھا گوارا نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں