424

بتوں کو توڑنے والے ہی بت بنائیں تو

تحریر شئیر کریں

تحریر:حمنہ عمر
عمرکوٹ سندھ

اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک کے دارلحکومت اسلام آباد میں مندر کی تعمیر ایک قومی المیہ ہے۔
ہمارے بعض سادہ لوح افراد اور بیشتر روشن خیالی کے علمبردار اس کو پاکستان میں اقلیتوں کی آزادی سے تعبیر کرتے ہوئے شاداں و فرحاں ہیں اور اسے موجودہ حکومت کے ایک کارنامے کے طور پر بیان کر رہے ہیں انھیں یاد رکھنا چاہیئے کہ جہاں بات اسلام کے بنیادی اصولوں کی آتی ہے تو وہاں کسی کی اپنی اختراع اور ذہن کے نہاں خانوں میں چھپے گند کو اسلامی لبادہ نہیں اوڑھایا جا سکتا۔

میں بہ ہوش و حواس ببانگ دہل یاد دلانا چاہتی ہوں کہ اسلامی تعلیمات اور خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے سے ہمیں اقلیتوں کے جن حقوق کا درس ملتا ہے اور جس بہتر انداز میں ان کے ساتھ رویہ اپنانے کی ترغیب ملتی ہے اس کی مثال آپ کسی اور مذہب سے نہیں لا سکتے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں لیا جا سکتا کہ آپ شطر بے مہار کی طرح جہاں منہ اٹھے چلتے چلے جائیں یا کرتے چلے جائیں
اسلامی ریاست دیگر مذاہب کے حقوق غصب نہیں کرتی، ان کی عبادت گاہوں کو غیض و غضب کی نظر سے نہیں دیکھتی، اپنے دائرہ کار میں ان کو اپنے مذہب کی تعلیمات کی ترویج کی اجازت دیتی ہے اور کسی بھی غیر مسلم کے جان و مال کی حفاظت کو ریاست کی ذمے داری قرار دیتی ہے۔

لیکن ان تمام کے باوجود اسلامی ریاست میں لوگوں کے ٹیکسز سے جمع کردہ آمدن کے خرچ کا ایک ضابطہ بھی موجود ہے اور اس ضابطے کی رو سے اس بات کی کوئی اجازت نہیں کہ قومی خزانے سے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی تعمیر کی جائے۔

حال ہی میں اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں مندر کے لیے زمین وقف کرنا، اس کا سنگ بنیاد رکھنا اور مستقبل میں اس کی تعمیر کے لیے ممکنہ طور پر فنڈز معین کرنا نہ صرف تحریک پاکستان کے شہدا کی روحوں سے غداری، مسلمانان پاکستان کے منہ پر تمانچہ اور دو قومی نظریے پر ایک کاری وار ہے بلکہ شرعی رو سے بھی غلط ہے۔ اس حوالے سے عام افراد کی حساسیت ملاحظہ کیجئے کہ ہر روز فیس بک اور واٹس اپ گروپس میں بے تحاشہ افراد بیان حلفی وائرل کرتے ہوئے اللہ کو گواہ بناکر کہتے ہیں کہ اس قبیح جرم میں میری رضامندی شامل نہیں بلکہ یہ حکمرانوں کا ایک ایسا فعل ہے جسے روکنے سے میں قاصر ہوں اور اسی بیان حلفی میں افراد احساس گناہ کی وجہ سے اللہ کے ہاں معافی کے طلبگار ہوتے ہیں۔

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی شرعی جواز نہ ہونے کے علاوہ اس مسئلے کی حساسیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ قریب ہی واقع لال مسجد کا ایک عرصے سے محاصرہ چلا آرہا ہے اور اس پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ جبکہ ماضی میں ایک آمر پرویز مشرف کی حکومت میں اس مسجد اور اس سے متصل مدرسے پر ایک خون ریز فوجی آپریشن مسلط کیا گیا تھا جس میں نہ صرف علمائے کرام بلکہ ان گنت طالبات بھی شہید ہوئی تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ منطقی طور پر ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ مسلمانوں کی مسجد سے مخاصمت اور ہندؤں کے مندر کی تعمیر چہ معنی دارد؟

مندر کی تعمیر کے منصوبے کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ ملک کے جید علماء اور نمائندہ مذہبی تنظیموں کی جانب سے تاحال اس کو روکنے کے لیے کوئی پالیسی بیان دیا گیا ہے نہ ہی اس حوالے سے کوئی سنجیدہ پالیسی وضع کی گئی ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ حکمرانوں سے گلہ بے سود ہے کہ یہ حکومت تو جب سے قائم ہوئی ہے کھل کر اسلام دشمنی کی پالیسی پر گامزن ہے۔
پاکستانی تاریخ کی اس بد ترین حکومت کے منفی عزائم ہی ہیں کہ کبھی یہ فلسطینوں کی قاتل ناجائز ریاست اسرائیل کے لیے نرم گوشہ دکھاتی ہے ، کبھی قادیانیوں کو نوازنے کے لیے چپ کر ختم نبوت پر وار کرتی ہے تو کبھی سکھوں کو سر آنکھوں پر بٹھائے جانے کا عمل دہراتی ہے۔ اس لیے حکومت سے کوئی شکوہ کیے بغیر میں ملک کے ممتاز اور جید علماء اور نمائندہ مذہبی تنظیموں کی طرف سے حسرت بھری نگاہوں سے تکتی ہوں کہ کاش یہ لوگ اس مسئلے کو سنجیدہ لیں اور عوام کی درست سمت میں رہنمائی کرنے کے ساتھ ساتھ نا اہل حکمرانوں کو اپنے مکروہ عزائم سے باز رکھیں۔

میں دوبارہ واضح کرتی چلوں کہ میں لا اکراہ فی الدین کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے کسی بھی غیر مسلم سے کوئی بغض یا تعصب نہیں رکھتی، ان کو اپنے دین پر کاربند رہنے سے روکنے کی خواہشمند بھی نہیں لیکن اس بات کی روادار بھی نہیں کہ ایک اسلامی ریاست میں اسلامج اصولوں کی دھجیاں اڑائی جاتی رہیں اور جس کے دل میں جو آئے کرتا چلا جائے بھلے وہ اسلام کے بنیادی فلسفے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اگر ابتدائی مرحلے میں اس واردات کی روک تھام نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دن نہ آجائے جب ہم بطور ریاست اپنا مسلم تشخص ہی کھو بیٹھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں