272

تعریف کیسے کی جائے؟

تحریر شئیر کریں

تعریف کیسے کی جائے؟
*تعریف کی چاہت*

امام ابی بکر محمد بن حسین الآجری اپنی کتاب “مختصر اخلاق حملةالقرآن” میں حاملین قرآن کے لیے ناپسندیدہ اخلاق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

قَدْ فَتَنَهُ حُسْنُ ثَنَاءِ مَنْ جَهِلَهُ، يَفْرَحُ بِمَدْحِ الْبَاطِلِ
“جو لوگ اس سے واقف نہیں ہوتے ان لوگوں کی تعریفیں اسے فتنے میں ڈال دیتی ہیں ، وہ جھوٹی تعریفیں سن کے خوش ہوتا ہے”۔

•۔جو لوگ قرآن مجید کو اللہ کی رضا کے لیے نہیں پڑھتے۔۔۔ان کا مقصد قرآن کے ذریعے محض شہرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔۔۔،
•۔وہ ان علوم کو زیادہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کی تعریف حاصل کی جا سکے۔۔۔،
•۔اور اس علم کی طرف توجہ نہیں کرتے جس سے اللہ سبحانہ وتعالٰی کی معرفت حاصل ہو۔۔۔،
•۔ایسے لوگ مخلوق کو راضی کرنے میں لگے رہتے ہیں۔۔۔اور مخلوق سے ہی تعریفیں چاہتے ہیں۔۔۔،
حالانکہ قرآن مجید میں جھوٹی تعریف چاہنے والوں کے لیے درد ناک عذاب کی وعید سنائی گئی۔۔۔،

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ○(آل عمران:188)

“تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتُوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انھیں حاصل ہو جوفی الواقع انہوں نےنہیں کیے ہیں۔ حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے”

•۔نیکی کر کے اس پہ اترانا ناپسندیدہ ہے۔۔۔اور جو کام کیا ہی نہ ہو اس کا کریڈٹ لینا اور اس پہ تعریف چاہنا۔۔۔سنگین جرم ہے۔۔۔،
•۔اللہ کے سوا دوسروں کی خوشی حاصل کرنے کے لیے قرآن پڑھنا اور پڑھانا ۔۔۔،
•۔لوگوں کی نظروں میں جچنا ، بننا اور مشہور ہونا۔۔۔،
•۔جھوٹی تعریفوں سے خوش ہونا اور ان سے دھوکہ کھانا۔۔۔،
•۔یہ حامل قرآن کا اخلاق نہیں ہو سکتا۔۔۔،
•۔اسی طرح دوسروں کی تعریف کرنے میں مبالغہ آرائی سے کام لینا۔۔۔،
•۔کسی کو اس کے مقام سے زیادہ بڑھا چڑھا کے بیان کرنا۔۔۔،
اس کی بھی مذمت کی گئی ہے۔
*تعریف کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔*
*1۔پسندیدہ تعریف*
کسی کو اس کے اچھے کام میں encourage کرنا۔۔۔کسی کا شکریہ ادا کرنا۔۔۔کسی کا احسان مند ہونا اور اس کے احسانات کا تذکرہ کرنا۔۔۔،
جیسے اولاد ، والدین کے احسانات کا ذکر کرے۔
سچی تعریف خوشامد نہیں۔۔۔لیکن یہ بھی محتاط الفاظ میں ہونی چاہیئے۔۔۔،

*2۔ناپسندیدہ تعریف*

جھوٹی تعریف کرنا۔۔۔مبالغہ آرائی کرنا۔۔۔خوشامد کرنا۔۔۔کوئی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دوسروں کی چاپلوسی کرنا۔۔۔،
یہ سخت ناپسندیدہ ہے۔۔۔•۔کیونکہ مبالغہ آمیز تعریف دراصل شیطان کا حملہ ہے۔۔۔،
•۔مخلص مومن اپنی خوشامد اور تعریف پسند نہیں کرتا۔۔۔اسے اس سے اذیت ہوتی ہے۔۔۔،
•۔ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ جب لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں تو ہمیں کیسا لگتا ہے۔۔۔؟
•۔اور اگر کوئی ہماری تعریف نہ کرے تو ہمیں کیسا لگتا ہے؟
•۔کیا ہم اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی ہماری تعریف کرے۔۔۔؟
•۔اور اگر کوئی ہماری تعریف نہ کرے تو کیا ہم اس سے ناراض ہو جاتے ہیں یا خوش رہتے ہیں۔۔۔؟

*•۔یاد رکھیں!*

تعریف اور خوشامد کو اپنی غذا نہ بننے دیں۔۔۔،
ایسی تعریف، جو انسان کو نکما کر دے وہ سخت نقصان دہ ہے۔
(محترمہ استاذہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کی “اخلاق حملة القرآن” کلاس سے ماخوذ)
22 جنوری 2024
تعریف کیسے کی جائے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں