جذبے بلند ہوں تو کے ٹو بھی دنگ رہ جاۓ۔آج کل کوپیماؤں کی گمشدگی کا معاملہ گردش میں ہے۔جو کے ٹو کے خطرناک ترین ایریا میں کھو گۓ ہیں۔اور تاحال ان اک پتہ چلایا نہیں جا سکا۔ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
زندگی حادثات سے لبریز ہے مگر ان حادثات کا کیا جاۓ جو جذبہ شوق کے تحت مول لیے جاتے ہیں۔زندگی خطرات کا گھر ہے مگر ان خطرات سے کیسے بچا جاۓ جو منزل بن کر راستے میں آن کھڑے ہوں۔زندگی چیلنجنگ زون ہے۔کمفرٹ زون نہیں کوہ پیماؤں کی گمشدگی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے پاکستانی کوہ پیما جو بڑے جذب سے کہا کرتا تھا اگر پہاڑوں میں کہیں کھو گیا تو برف میں گھر بنا کر کچھ دن رہ لوں گا۔۔۔آج اس کے یہ الفاظ سچ ثابت ہوتے دکھآئی دے رہے ہیں۔لگتا وہ برف اوڑھ کر کہیں چھپ گیا ہے پھر اچانک سے باہر آ کر سب کو حیران کر دے گا۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔آمین
جذبے بلند ہوں تو کے ٹو بھی دنگ رہ جاۓ۔کوہ پیماؤں کی خطرات سے پر زندگی پر کے ٹو تو کیا ماونٹ ایورسٹ بھی انگشت بداں ہیں۔مجھے نا جانے کیوں ماونٹ ایورسٹ فتح کرنے والا وہ کوہ پیما یا د آ رہا ہے جو کہا کرتا تھا کہ اے ماونٹ ایورسٹ تو بڑھ چکا جتنا بڑھنا تھا مگر میں ابھی بھی بلند ہو رہا ہوں”ایسے سر پھرے عاشقوں کو کون شکست دے سکتا۔منفی ففٹی ٹمپریچر اور اور پہاڑوں کے دشوار راستے بھی نہیں۔ہر چیز ان کے عزم کے سامنے خود پگھل جاتی ہے۔چاہے پہاڑ ہی کیوں نا ہوں۔حالانکہ پہاڑ دنیا کی ٹھوس ترین چیز ہیں۔زندگی ایسی ہی ہونی چاہیے۔چیلنجنگ ،ہر دم متحرک،کچھ پالینے کی چاہ اور پھر اس راہ میں سب کچھ لٹا دینے کا جذبہ ہر چیز سے ماوراء کر دیا کرتا ہے۔
زندگی زندہ دلی کا نام ہےمردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں۔
412