436

جسمانی حصوں کی صفائی کیوں ضروری ہے؟

تحریر شئیر کریں

جسمانی حصوں کی صفائی کیوں ضروری ہے؟

انسانی زندگی اسی وقت صحتمندی اور حقیقی خوشیوں کا گہوارە بن سکتی ہے جب وە اللہ کی فرمانبرداری کرے، اپنی زندگی اللہ کےبتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزارے.

رسول اللہ صلی اللہ عليہ و سلم نے وضو میں کانوں کے مسح کا حکم دیا ہے. کانوں کا مسح وضو کے فرائض میں شامل ہے.

جدید سائنس کے مطابق کان پر جسم کےتمام اہم حصوں کے حساس پوائنٹس موجود ہوتے ہیں جن کو دبانے سے تمام چهوٹی بیماریوں کا علاج ممکن ہے.

سیگریٹ کے دھوئیں سے کانوں میں انفیکشن ہو جاتا ہے.

انسانی کان کا پردە پهٹنے سے موت بهی واقع ہو جاتی ہے.

انسانی کان اللہ کے مقررە کردە حد تک آوازیں سن سکتے ہیں. بہت سی آوازیں جیسے جنات و شیاطین کی آوازیں یا قبر میں موجود مردە پر عذاب کی آوازوں کا ہم سے پردە ہےاور اسی میں اللہ کی حکمت ہے.

القران: کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی تسبیح میں مشغول نہ ہو. لیکن تم اسے سن نہیں سکتے.

ہاتھوں اور پیروں کی صفائی

نیند سے بیدار ہو کر سب سے پہلے ہاتهوں کو دھونا چاہئیے.

کهانے سے پہلے اور بعد میں ہاتهوں کو دھونا ضروری ہے.

طہارت کیلئے دایاں (سیدھا) ہاتھ استعمال نہیں کرنا چاہئیے.

ہر قسم کی گندگی بائیں ہاتھ سے صاف کرنی چاہیئے.

ہاتھ پاؤں کو ہمیشہ صابن سے 20 سیکنڈز تک دھوئیں. دھوتے وقت انکے جوڑوں (جوائنٹس) کو بهی اچهی طرح رگڑ کر صاف کریں.

وضو میں خشک رە جانے والی ایڑیوں کے بارے میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے :
“خشک ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے.”

بہنے والی چیزیں مثلا تیل ، پیڑرولیم جیلی وضو میں رکاوٹ نہیں ہوتیں.

غسل کے آداب

جنابت کی حالت کو طویل نہ رکھا جائے، پہلی فرصت میں طہارت حاصل کرلی جائے.

جمعە کی نماز سے پہلے غسل کرنا مسنون عمل ہے.

غسل کی جگہ کو پاک صاف رکهیں.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے:
” تم میں سے کوئی بهی ٹهہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے وە پاک نہیں ہوگا.”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں