جہیز پر پابندی خوش آئند ہے
رابعہ شیخ
ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہیں مگر اس لعنت کو لوگ بخوشی قبول کرتے ہیں ۔ ارے ارے بلکہ باقاعدہ طور پر ایک لمبی چوڑی لسٹ تیار کر کے لیتے ہیں اور جو ماں باپ جہیز نہ دے سکیں ان کی بیٹیاں گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں ۔
شکر ہے جہیز پر پابندی لگ گئی اس قانون سے کئی غریب ماں باپ کے چہروں پر اطمینان نظر آیا ایک امید نظر آئی کہ اب انکی بیٹیاں بھی بیاہی جائیں گی اب لوگ ان کی بیٹیوں کو بھی اپنے گھر کے زینت بنائیں گے۔ لڑکیاں بھی پرامید ہیں کہ اب جہیز نہ ہونے یا کم ہونے پر انھیں طعنے سننے کو نہيں ملیں گے ۔
نئے پاکستان میں پہلا اچھا کام ہوتے دیکھا ہے ورنہ اب تک اس نئے پاکستان میں ہم نے غریبوں کے دوکان و مکان کو گرتے دیکھا ہے ۔ مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے دو وقت کی روٹی کے لیے لوگ تڑپ رہے ہیں اوپر سے اس مہنگائی میں بچوں کی شادی کے اخراجات ۔ لاک ڈاؤن کو لوگوں نے غنیمت جانا خرچہ بچایا اور ہم نے دیکھا اس لاک ڈاؤن میں ہزاروں شادیاں ہوئیں ۔
خیر تنقید اپنی جگہ مگر حکومت کا یہ اقدام قابل ستائش ہے ۔
لیکن مجھے لگتا ہے کہ جہاں لڑکی کی شادی کے لیے آسانی کی گئی ہے وہیں حکومت کو حق مہر کی رقم بھی مختص کرنی چاہیے تاکہ آج کل لڑکی والے بھی جو حق مہر میں گھر کی ڈیمانڈ کرتے ہیں یا حق مہر 10 لاکھ رکھتے ہیں اسے بھی روکا جائے نکاح کو آسان بنایا جائے تاکہ معاشرے میں بڑھتی برائیوں کو روکا جاسکے۔