حجامہ کا اسلامی طریقہ کار اور فوائد
تحریر : لبنٰی جمشید
حجامہ کسے کہتے ہیں ؟
حجامہ عربی زبان کے لفظ حجم سے نکلا ہے۔ حجامہ کو اردو زبان میں سینگی یعنی (کھنچوانا) بھی کہا جاتا ہے , جدید دور میں اسے کپنگ تھراپی کا نام دیا گیا ہے۔۔۔یہ ایک طریقہ علاج ہے اور سنت محمدی ﷺ بھی ہے۔جسم کے کچھ مخصوص حصوں پر نشتر لگا کر علاج کیا جاتا ہے جس عرف عام میں پچھنے لگوانا کہتے ہیں ہے ،یعنی
سینگی کے ذریعے خراب و فاسد خون نکلوانا۔ اِس طریقہ علاج میں جسم کے 143 مقامات سے فاسد خون نکال کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج کی طبی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ،بلکہ جدید دور میں سائنسی لحاظ سے بھی اسے مجرب و مفید قرار دیا گیا ہے ۔ عم طور پر حجامہ خون کی خرابی، پھوڑے پھنسیاں، سر درد، وغیرہ سمیت ہر بیماری کے لیے بہت فائدہ مند علاج ہے۔
حجامہ کی تاریخ
اس طریقہ علاج کا ذکر1550 قبل مسیح کی مشہور طبی کتاب Eqbers Papyrus میں بھی ملتا ہے۔ اس طریقہ علاج کو چین نے اپناقومی طریقہ علاج قرار دیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں پر صحت کی شرح حوصلہ افزا ہے, وہاں پورے ملک میں یہ علاج کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ عرب ممالک اور جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں بھی رائج ہے۔
امریکا اور یورپ کے یونیورسٹیوں میں ان طلبہ کو جو آلٹرنیٹیو میڈیسن پڑھ رہے ہیں انہیں حجامہ پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔
مغربی سائنس دان اور تحقیقاتی ادارے حجامہ کے فوائد پر مسلسل تحقیق کر رہ ہیں، ان تمام تحقیقات کی بنیاد قدیم ترین طبی کتاب ریبس پائرس ہی ہے۔ سائنس دان اس امر پر حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل انسان نے میڈیکل کی اِس قدر پیچیدہ گتھی کس طرح سلجھائی تھی۔
حجامہ احادیث کی روشنی میں
حجامہ آپ ﷺ کی سنت اور ایک بہترین علاج بھی ہے ۔رسول اللہﷺ نے خود بھی اس کا استعمال کیا اور دوسروں کو اس سنت نبوی ﷺ کی ترغیب دی ۔ امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب صیحیح بخاری میں حجامہ پر پانچ ابواب لکھے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حجامہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب معراج پر تشریف لے گئے تو ملائکہ نے ان سے عرض کی کہ اپنی امت سے کہیں کہ وہ حجامہ کروائیں۔
حبارہ بن مغلس، کثیر بن سلیم، حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شب معراج میں جس جماعت کے پاس سے بھی میں گزرا اس نے یہی کہا اے محمد! اپنی امت کو پچھنے لگانے کا حکم فرمائیے
ابوبشربکر بن خلف، عبدالاعلی، عباد بن منصور، عکرمہ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھا ہے وہ بندہ جو پچھنے لگاتا ہے۔ خون نکال دیتا ہے۔ کمر ہلکی کر دیتا ہے اور بینائی کو جلاء بخشتا ہے۔ ابنِ ماجہ ص ۲۴۸
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو ان میں بہتر ’’پچھنے‘‘ لگا کر علاج کرنا ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول پاکﷺ کو فرماتے سنا اگر تمہا ری دواوْں میں کسی میں خٰیر ہے تو شہد پینے ،اورحجامہ لگوانے، اور آگ سےداغے میں لیکن میں آگ سے داغے کو نا پسند کرتا ہوں۔
بخاری ص۸۵۰ ج ۲
رسول پاک ﷺ کی خادمہ حضرت سلمٰی ؓ فرماتی ہیں کہ جو شخص بھی رسول ﷺ کی خدمت میں سے سردرد کی شکایت کرتا آپ ﷺ اس حجامہ لگوانے کا حکم فرماتے ۔اور جو شخص پاوَں کے درد کی شکایت کرتا اس سے فرماتے کہ پاوَں میں مہندی لگاوَ۔ابوداودص۱۸۳ج۲
حجامہ کا طریقہ کار
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جو شخص (قمری مہینے کی ) سترہ ،انیس اور اکیس تاریخ کو سینگی لگوائے ،اسے ہر بیماری سے شفاء ہوگی ۔(سنن ابو داود:حدیث نمبر3861)
وسندہ حسن) , اسلامی رو سے ان دنوں میں حجامہ افضل ہے۔
عام طور پر تین طریقوں سے حجامہ کیا جاتا ہے۔
تر حجامہ
اس کے ذریعہ جسم کے کسی خاص جگہ پر باریک اور چھوٹے کٹ دے کر خون نکالا جاتا ہے ۔ اگر فاسد مادہ موربائیڈ میٹر زیادہ ہو تو ترحجامہ کی جاتی ہے ۔
یہ حجامہ کا اسلامی طریقہ کار ہے اس کو حضور ﷺ نے بھی پسند فرمایا تھا۔
خشک حجامہ
اس میں کسی خاص حصہ پر صرف کپس
لگائے جاتے ہیں ۔ جسم میں اگر فاسد مادے کم ہوں تو خشک حجامہ کی جانی چاہیے ۔
مساج حجامہ
یہ خشک حجامہ کی طرح ہی ہوتا ہے جو ایک خاص قسم کا مساج ہے ۔ اس میں جسم کے اس مقام پر جہاں مساج کی ضرورت ہوتی ہے خاص تیل لگا کر ہاتھ سے ہلکا پھیلا دیا جاتا ہے اور پھر اس مقام پر لگا کر مساج کرتے ہیں ۔ ہاتھ سے مساج کیا جائے تو صرف ڈیڑھ انچ تک اثر پڑتا ہے مگر کپس
کےذریعے کیا جائے تو 3 تا 4 انچ گہرائی تک اس کا اثر رہےگا اور انسانی جسم کے عضلات میں اکڑاؤ فوراً ختم ہو کر درد رفع ہو جائےگا ۔
حجامہ کے فوائد
حیدر آباد کے مشہور یونانی ڈاکٹر عرفان نے کہا ہے کہ جسم کی 80 فیصد بیماریاں خون کی رکاوٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ حجامۃ کی وجہ سے جسم کی دورانِ خون بلڈ سرکولیشن بہتر ہوتا ہے۔
حجامۃدماغ و اعصاب اور حسی اعضاء کو متحرک اور فعال بناتا ہے۔
اس سے جسم کی قوت مدافعت یعنی بیماریوں سے لڑنے والی ایمیونٹی کو طاقت دیتا ہے۔
ہارمون اور بلڈ پریشر کی بے اعتدالی کو اعتدال پر لاتا ہے۔
انسانی جسم میں درد پیدا کرنے والی 80% فیصد اسباب کو دورکرکے تقریباً ہر قسم کے درد میں کمی لاتا ہے۔
حجامہ تدرست لوگ بھی کرواسکتے ہی کیونکہ یہ سنت نبویﷺ ہے اور اس سے جسم کا دورانِ خون ٹھیک رہتا ہے اور کئی بیماریوں سے حفاظت ہوتی ہے۔
کن بیماریوں میں حجامہ موثر علاج ہے؟
سر درد اور آدھے سر کا درد، گردن کا درد،مونڈھوں کا درد،گھٹنے کا درد،جوڑوں کا درد،ہڈیوں کا درد،عرق النساء ،نقرس وغیرہ میں حامہ جلد اور 100 فیصد رزلٹ دیتا ہے۔۔
دائمی نزلہ وزکام،تھائرائڈ کے جملہ امراض وغیرہ۔جلدی امراض جیسے الرجی ،پھوڑے ،پھنسیاں اور ایگزما
میں مفید ہے۔
جسمانی بیماریوں کے علاوہ نفسیاتی امراض جیسے ذہنی دباؤ،دماغی تناؤ، غصہ،گھبراہٹ، بے چینی، نیند کی زیادتی یا کمی وغیرہ میں حجامہ کروانا انسان کی شخصيت کو روحانی طور پر جلا بخشتا ہے۔
یہ خون صاف کرتا ہے اور حرام مغز کو فعال کرکے ڈائریکٹ شریانوں پر اثرات مرتب کرتا ہے، پٹھوں کا اکڑاؤ ختم کرتا ہے،۔
دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کے لیے مفید علاج ہے۔
رحم کی بیماری ماہواری کے بند ہو جانے کی تکالیف اور ہر ماہ ایک ترتیب سے آنے کے لیے مفید ہے۔
مواد بھرے زخموں کے لیے فائدہ مند ہے۔
نیم حکیموں کی طرح حجامہ کے بھی جگہ جگہ کلینک کھولے جا چکے ہیں لیکن
حجامہ لگوانے کے لیے مستند اور تجربہ کار تھراپسٹ کا انتخاب ضروری ہے کیونکہ ناتجربہ کار صحیح حجامہ نہیں لگا سکتا جس وجہ سے علاج نہیں ہو پاتا اور مریض مایوس ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ حجامہ کسی اس کام کے سپیشلسٹ سے ہی لگوایا جاۓ۔