446

حسینہ معین چل بسیں

تحریر شئیر کریں

حسینہ معین چل بسیں۔ ایک عہد تھا جو تمام ہوا۔

حسینہ معین معروف ڈرامہ نگار تھیں۔انکے لکھے ہوۓ ڈرامے معیاری ترین ڈرامے سمجھے جاتے تھے۔ڈرامہ شائقین اگر ڈرامہ دیکھنے سے پہلے حسینہ معین کا نام بطور رائٹر دیکھ لیا کرتے تھے تو انھیں یقین آجاتا تھا کہ یہ ڈرامہ نا صرف ہٹ ہوگا بلکہ معیاری بھی ہوگا۔حسینہ معین کے شہکار ڈراموں میں دھوپ کنارے،تنہائیاں،ان کہی،آئینہ اور بندش جیسے یادگار ڈرامے شامل ہیں۔

حسینہ معین کی نجی زندگی

جہاں تک حسینہ معین کی نجی زندگی کا تعلق ہے تو آپ بیس نومبر 1951 کو کانپور بھارت میں پیدا ہوئیں۔ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔بعد ازاں پاکستان آکر کراچی یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا۔انکا خاندان ہجرت کے بعد راولپنڈی بعدازاں لاہور شفٹ ہوگیا۔معرف ڈرامے اور کئ فلمز کے ڈائیلاگ بھی لکھے،انھیں صدارتی ایوارڈ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ایلف شفق ادب کی دنیا کا نیا پاولوکویلو


حسینہ معین کے قریبی رشتے داروں کے مطابق وہ لاہور آنے کے لیے تیار ہو رہیں تھیں جب انھیں ہارٹ اٹیک ہوا۔واضح رہے کہ کچھ دن پہلے ہی انھوں نے کرونا ویکسین بھی لگوائی تھی۔ان کی عمر اسی برس تھی۔اللہ انھیں غریق رحمت کرے۔ان کے آگے کی منزلیں آسان ہوں۔قلم کتاب ان کی اخروی کامیابیوں کے لیے دعاگو ہے۔

حسینہ معین کو خراج تحسین پیش کرنے والی ہستیاں

ثمینہ پیرزادہ نے حسینہ معین کی وفات پر کہا کہ “اب میں کبھی انکی آواز نا سن پاؤں۔اور نا ہی کبھی اپنے ڈرامہ سکرپٹ ان سے ڈسکس کر پاؤں گی میں نے ان کو ہمیشہ سراہا۔۔میں ان کو ہمیشہ یاد رکھوں گی”۔

حسینہ معین چل بسیں کی خبر سن کر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ “مجھے یقین نہیں آ رہا کہ وہ دنیا سے جا چکیں۔انھوں نے مرحومہ کی آخرت میں کامیابی کے لیے دعا بھی کی۔

حرا مانی جو پاکستان کی معروف ایکٹریس ہیں کا کہنا ہے کہ حسینہ معین ایک سنہری عہد کا نام تھا جو تمام ہوا۔

اداکار قوی جو حسینہ معین کی وفات کی خبر کے بعد شاک میں ہیں اور ان کی طبیعت بھی ناساز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں