412

حکومتی کارکردگی صفر,کراچی کی عوام کیا کرے؟

تحریر شئیر کریں

حفصہ جنید

حالیہ بارشوں نے سندھ میں 3 عشرے سے برسرپیکار رہنے والی پیپلز پارٹی کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔چھوٹے شہر کو تو چھوڑیے،صرف کراچی کو دیکھ لیجیے۔80 فیصد کراچی واٹر پارک کا سا منظر پیش کررہا ہے، ہسپتالوں میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے کروڑوں کی مشینری اور فرنیچر ناکارہ ہوچکا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کر لی ہے،کتنے ہی گھر ڈوب گئے ہیں۔حب ڈیم کے اردگرد علاقہ کا کوئی حال نہیں ہے۔عوام کے ضبط کا پیمانہ پہلے ہی چھلک چکا ہے اوپر سے سعید غنی نے کراچی کی ان سڑکوں کا دورہ کر کے وڈیو بنا کر پوسٹ کی ہے جہاں پانی کھڑا نہیں ہوا تھا۔ستر فیصد کے قریب وہ شہر جہاں لوگ گھٹنوں تک ڈوبے ہوئے ہیں، وہاں جانے کی انہیں توفیق ہی نہیں ہوئی۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو جو بلاناغہ میڈیا پہ تشریف لا کر اپنے آباو واجداد کی جمہوریت کے حوالے سے دی گئی قربانیوں کا ذکر بڑے جوش و خروش سے کیا کرتے تھے،غائب ہیں عوام حیران پریشان کہ بارش کی آج تک کی سے بڑی تھیوری حل کر کے کہ بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے بلاول صاحب کہاں غائب ہوگئے ہیں۔فریال تالپور،بختاور، آصفہ کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔سب ایسے غائب ہوئے ہیں جیسے گدھے کی سر سے سینگ۔
پچھے دنوں سندھ کے ایک وزیر صاحب نہایت اعتماد سے ارشاد فرما رہے تھے کہ پی ٹی آئی والے کراچی میں ہونے والی ترقی سے خوفزدہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔
اب کوئی ان سے پوچھے یہ کس ترقی کا ذکر رہے تھے،وہ ترقی جس بارش کے دوران کھل کر سامنے آئی۔شاید غالب کا کہا انہی جیسے لوگوں کے لیے تھا کہ:
“شرم تم کو مگر آتی نہیں”
ایک وقت تھا کہ کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ خوشحال ، ترقی یافتہ شہر تھا تقریبا 1985 تک یہ ریکارڈ قائم رہا۔قیام پاکستان کے بعد جب جدہ شہر میں اونٹ سوار بکثرت دکھائی دیتے تھے تس اس وقت کراچی کی سڑکوں پر مرسڈیز کی گاڑیاں دوڑتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ہمسایہ ممالک کے ذہین ترین طلبہ کراچی میں حصول تعلیم کی غرض سے آتے تھے۔غالبا یہ 1981 کا ذکر ہے کراچی اور شنگھائی کو سسٹر سٹی قرار دیا گیا۔ مکہ مدینہ سے پاکستان آنے والے عرب باشندے کراچی کی ترقی دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوجایا کرتے تھے۔کیا زمانہ تھا۔۔
“یاد آتے ہیں بیتے زمانے”
آج کیا حالت ہے کراچی کی؟قابل حکمرانوں کی بدولت اور کراچی کے عوام کی خاموشی سے سب کچھ دیلھنے کی روش نے کراچی کو لاوارثوں کا شہر بنا دیا ہے۔جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر،ابلتے ہوئے گٹر۔بیشتر علاقوں میں سیوریج کا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔کئی علاقوں میں سیوریج کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں جمعہ سے شروع ہونے والی مون سون کی بارشوں نے پھر تباہی مچادی ہے،روشنیوں کا شہر ڈوب چکا ہے،گلیاں تلاب کا سا منظر پیش کررہی ہیں۔سندھ حکومت کی حکمت عملی باوجود تین برساتی نالوں کی صفائی کے باوجود نالے ابل پڑے،پورے شہر سے بجلی غائب ہے،کتنی ہی بستیاں ڈوب چکی ہیں لیکن ہمارے شہر کے حکمرانوں کی بے حسی ہی ختم ہونے میں نہیں آرہی۔اس موقعہ پر بھی جن کو ووٹ دے کر کرسی پہ بٹھایا تھا وہ غائب ہیں البتہ فوج اور فلاحی ادارے موجود ہیں۔
مئیر کراچی سے کچھ پوچھو تو جواب آتا ہے سندھ حکومت فنڈز نہیں دیتی،
سندھ حکومت تو خیر سے پوچھے بنا ہی سارا الزام وفاق پر ڈال دیتی ہے ابھی بھی سندھ حکومت وفاق کو مورد الزام ٹہرا رہی ہے کہ وفاق ہمارے 800 ارب نہیں دے رہا۔گویا عوام سندھ حکومت،وفاق اور مئیر کراچی کی نالائقیوں، نااتفاقی کی سزا بھگتنے کے لیے رہے گئی ہے۔
پیپلز پارٹی گزشتہ تین عشروں سے سندھ پر حکومت کررہی ہے،لیکن پارٹی کے لیڈران اور کارکنان کو کرپشن کرنے سے فرصت ملے تو کسی اور جانب نگاہ جائے۔
“نہیں چھوڑوں گا کرپشن”کی لائن پر چلتی ہوئی پیپلز پارٹی سے تنگ آکر کراچی کی عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا لیکن دو سال گزرنے کے باوجود ایک فیصد بھی بہتری نہیں آئی بلکہ اب تو پی ٹی آئی کے قابل وزیر اعلی پنجاب عثمان بزداد کی حکمت عملی نے لاہور کو بھی کراچی کے سفر پہ روانہ کردیا ہے۔۔
پریشان حال شہری سوالات اٹھا رہے ہیں کہ کراچی والوں کی قسمت کب بدلے گی؟کب کراچی سے کیے ہوئے وعدے پورے ہونگے؟
صد افسوس کہ کراچی کی عوام اب بھی امید لگا کے بیٹھی ہے،اب بھی سوال اٹھا رہی ہے۔حالانکہ سوال وہاں اٹھائے جاتے ہیں جہاں حکومت اپنی ہوری کوشش کے باوجود ناکام ہورہی ہو۔کراچی کی عوام کی اسی روش کی بدولت آج ہمارے شہر کراچی کی یہ حالت ہے۔۔
اب کراچی کی عوام کو سمجھنا چاہیے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے،اب کراچی کی عوام کو اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا چاہیے،سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کر کے کراچی کی موجودہ حالت کے زمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔پبلک پاور بہت بڑی چیز ہے یہ حکومتوں کو زمین پہ لا پھینکتی ہے۔بہتر ہے کہ اب کراچی کی عوام متحد ہو کر کھڑی ہو اور انھیں احساس دلائے کہ اقتدار صرف مزے لوٹنے کے لیے نہیں ہوتا۔ایک زمہ داری ہوتی ہے۔اگر اب بھی کراچی کی عوام نے خاموش رہنے یا پھر حکومتی کارکردگی پر چند سوالات اٹھانے کی روش کو جاری رکھا تو پھر کراچی کی حالت موجودہ حالت سے بدتر ہی ہوگی بہتر نہیں۔اگر کراچی کی حالت کو بہتر کرنا ہے تو پھر اب مل کر کھڑا ہونا ہوگا۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں